آپ نے کئی بار ایسے افراد کو دیکھا ہوگا جو کہ بھوت دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اب سائنس نے جاننے کا دعویٰ کیا ہے کہ آخر لوگوں کو ‘بھوت’ کیوں نظر آتے ہیں۔

درحقیقت سائنس کا ماننا ہے کہ اب اس کے پاس ایسی معقول وجہ موجود ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو بھوت نظر نہیں آتے بلکہ یہ نیند کے کچھ مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

گولڈ اسمتھ یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ ایسی متعدد وجوہات ہیں جو نیند کا انتشار کا باعث بن کر لوگوں کو ‘بھوت’ دیکھنے پر مجبور کردیتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان میں سے ایک وجہ سلیپ پیرالیسز ہے، یہ نیند کے دوران ایک ایسا تجربہ ہوتا ہے، جس کے دوران خود کو ہوش میں تو محسوس کرتا ہے مگر حرکت کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں متاثرہ فرد جو خواب دیکھتا ہے، وہ اسے حقیقت محسوس ہوتے ہیں اور وہ ایسے افراد یا یوں کہہ لیں کہ بھوت اپنے ارگرد دیکھ لیتا ہے جو کہ حقیقت میں اس کے پاس موجود نہیں ہوتے۔

ایک اور ممکنہ وجہ ایکسپلوڈنگ ہیڈ سینڈروم قرار دی گئی، جس میں گہری نیند میں جانے کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زوردار دھماکا سنا ہو، مگر اس کی کوئی وجہ یا وضاحت نہیں ہوتی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب ہم سوتے ہیں تو دماغی اسٹریم (شعور سے منسلک ایک دماغی حصہ) عموماً حرکت کرنے، دیکھنے اور سننے جیسی حصوں کو کام کرنے سے روکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جب ہمیں نیند کے دوران ‘دھماکے’ کا تجربہ ہوتا ہے تو حس سماعت سے جڑے نیورونز شٹ ڈاﺅن ہوجاتے ہیں، اور پھر ماورائی واقعات کا تجربہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ماورائی واقعات کے بارے میں سائنسی وضاحت سے توقع ہے کہ لوگوں کے ذہنی بے چینی یا تشویش سے نجات پانے میں مدد مل سکے گی۔

تحقیق کے مطابق ذہنی تشویش یا بے چینی میں کمی سے سلیپ پیرالیسز کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے