رابعہ شہزاد کی عمر اکیس سال ہے لیکن اس چھوٹی سی عمرمیں  ان کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے ، وہ ایک غیرروایتی  کھیل ویٹ لفٹنگ کی چیمپئن ہیں ، غیرروایتی اس لیے کہ نازک اندام خواتین کے لیے ویٹ اٹھانے کا تصورہمارے سماجی دھارے میں ہمیشہ موضوع بحث رہا لیکن رابعہ نے ان سارے مباحثوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی قابلیت اور صلاحیت سے ثابت کیا کہ خواتین ہر طرح کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتی ہیں۔

رابعہ شہزاد کو سندھ کی  واحد خاتون ویٹ لفٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے  جنہوں نے بے شمار ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور انھیں جیت کر ثابت کیا کہ خواتین کسی بھی میدان میں جیت سے کم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتیں  ۔ حال ہی میں  رابعہ نے کارڈف اوپن ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں 49 کلوگرام خواتین کیٹیگری میں چاندی کا تمغہ اور ہیمپشائر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ حاصل کیا ۔

رابعہ نے گزشتہ سال  آسٹریلیا میں ہونے والی رالف کیش مین اوپن ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ کی 55 کلوگرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن تھا۔

اس سے قبل وہ دبئی میں ہونے والی ایشین بینچ پریس چیمپیئن شپ میں بھی سلور میڈل جیت چکی ہیں۔

رابعہ ایک منفرز ویٹ لفٹر ہیں جو اپنی کوچنگ خود کرتی ہیں ، وہ ویٹ لفٹنگ سے پہلے پاور لفٹنگ کرتی رہیں لیکن اب ان کی خواہش ہے کہ وہ 2024کے اولمپکس میں پاکستان نمائندگی کریں بلکہ سونے کا تمغہ جیت کر ساری دنیا میں پاکستان کا نام روش کریں ۔

رابعہ شہزاد نے پاکستان میں کھیلوں کی انتظامیہ کے حوالے سے مایوسی کا اظہار بھی کہا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی مقابلوں میں حصہ لینا چاہتی ہیں جس کے لیے انھیں مستقل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان میں انھیں کوئی پذیرائی نہیں ملی اور نہ ہی انھیں ٹریننگ کے لیے کسی قسم کی سہولت دی گئی۔

اولمپکس جیتنا رابعہ  کا خواب ہے لیکن یہ خواب اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب حکومتی سطح پر ایسے با صلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔

رابعہ شہزاد بی بی اے کی طالبہ ہیں جہاں وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم مکمل کرکے بزنس میں اپنے والد کا ہاتھ بٹنا چاہتی ہیں ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے