جشن عید میلاد النبی ﷺ پر رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےعمران خان کا کہنا تھا کہ  زندگی کے تجربات میں اسوہ کامل ﷺکو ہی بہترین پایا، ان کی زندگی تاریخ کا حصہ ہے اور ہم اس کا آسانی سے مطالعہ کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب زبردستی جمعہ کی نماز پڑھنے لے جاتے تھے، میں نے اپنی زندگی کے تجربے سے سیکھا ہے، لوگ دنیا میں رول ماڈلز ڈھونڈتے ہیں، کرکٹ کھیلتے ہوئے میرے بھی رول ماڈل تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے والدین نے سب سے اچھے اسکول میں بھیجا تاہم وہاں کبھی نہیں سکھایا گیا کہ ہمارے رول ماڈل نبی اکرمﷺہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں ہماری تعلیم ہمیں نبی اکرمﷺ کی طرف نہیں لے کر گئیں۔

عمران خان نے کہا کہ مسلمان گھر میں پیدا ہوکر مسلمان کہلانا کافی نہیں، ہمیں اپنے بچوں کو تاریخ کا مطالعہ کرانا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل ریاست مدینہ کی بات شروع نہیں کی کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا لوگ کہیں میں ووٹ لینے کےلیے ایسی باتیں کررہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے بار بار کہا کہ ریاست مدینہ کے اصولوں سے دور ہوکر مسلمان پست ہوجاتا ہے، اسی بنیاد پر مسلمان صدیوں تک دنیا پر چھائے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا اور ملائیشیاکےلوگ مسلمانوں کا اخلاق دیکھ کر مسلمان ہوئے، سچے انسان کی ہمیشہ عزت اور احترام ہوتا ہے اور نبی اکرمﷺنے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا کہ انسان کا مشن اپنی ذات سے بڑھ کر ہونا چاہیے، پیسہ بنانا مشن نہیں،پیسہ غریب لوگوں پر خرچ کرنا مشن ہوناچاہیے، دنیا امیر لوگوں کو نہیں جانتی،انسانوں پر خرچ کرنے والوں کو جانتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسہ بنانا سب سے زیادہ بت پرستی ہے، زندگی کا مشن پیسہ بنانا ہو توانسان تباہی کی طرف چلاجاتا ہے تاہم جو حضور اکرمﷺکی راہ پر چلتا ہے عظیم انسان بن جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نبی اکرمﷺظلم اور ناانصافی کو معاف نہیں کرتے تھے کیوں کہ انصاف انسانوں کو آزاد کردیتا ہے جبکہ ناانصافی سے معاشرے میں میرٹ ختم ہوجاتا ہے جس سے معاشرہ کبھی دنیا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺنے میرٹ، انصاف اور تعلیم پر زور دیا جس کے باعث 750 سال تک دنیا کے سرفہرست سائنسدان مسلمان تھے، ریاست مدینہ ایک دن میں نہیں بنی تھی، ہمیں ان راستوں پر چلتے رہنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے کرپٹ مافیا بیٹھا ہوا ہے، ہمارا کام ان کو شکست دے کر ملک کی صلاحیتیں بڑھانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میرا کام قوم کو مقروض کرنے والوں کو معاف کرنا نہیں، نبی کریمﷺنےکرپشن کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دیں، رحم کمزور اور پسے ہوئے طبقے کے لیے ہوتا ہے، بڑے بڑے ڈاکووؤں کےلیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان اوپر اٹھے گا، ہم نے سچی قوم بننا ہے، ہم خیرات سب سے زیادہ دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس نہیں دیتے تو ملک کیسے چلائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ میں ریاست مدینہ کے اصول پاکستان میں رائج کرتا رہوں گا اور قوم نے بھی ہمارا ساتھ دینا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر اسلامی چینل بنانے کا فیصلہ کیا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے