ایران میں 2400 مربع کلو میٹر پر پھیلے تیل کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن میں 53 ہزار بیرل خام تیل موجود ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے سرکاری ٹی وی سے خطاب میں کہا کہ تیل کے ذخائر ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں دریافت ہوئے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کا ایرانی عوام کے لئے چھوٹا ساتحفہ ہے۔

تیل کے ذخائر عراقی سرحد سے 200 کلو میٹر قریب 80 میٹر کی گہرائی میں دریافت ہوئے۔

امریکی پابندیوں کا شکار ایران کے لیے یہ ایک بہت بڑی خبر ہے جس کی معیشت کو ان پابندیوں کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے۔

چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیوں میں گھرے ہوئے خلیج فارس میں واقع اسلامی ریاست نے معاہدے کی ایک اور شق سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اپنے زیر زمین فورڈو سنٹر میں لگیں سینٹریفیوجز مشینوں میں گیس بھرنے کا عمل بدھ سے دوبارہ شروع کرے گا۔

یاد رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے فورڈو سنٹر کو ایک جوہری، طبیعیات اور ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں 1,044 سینٹریفوجز کی افزودگی کے علاوہ سنٹر کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018 کو ایران جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر نئی پابندیاں لگائیں تھیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے