گذشتہ دنوں میں ٹیکسلا میں گیس ہیٹر نے دو بچیوں کی جان لے لی ، اسی طرح اپنے گھر کے کمرے میں ایک نوجوان مردہ حالت میں ملا جس  کی موت بھی گیس ہیٹر کے اخراج سے ہوئی ۔

دراصل موسم سرما کی آمد کے ساتھ گیس لیکیج اور گیس ہیٹر سے خارج ہونے والی زہریلی  گیس سے اموات میں اضافہ ہوجاتا ہے اورجوں جوں گیس ہیٹر کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں ، اس کی وجہ ہماری لاعلمی ہے یا لاپرواہی اس پر بحث کے بجائے ہمیں ان اسباب کا جائزہ لینا چاہیے جو گیس ہیٹر کی وجہ سے موت کا سبب بنتے ہیں ۔

ایک عام خیال یہ ہے کہ کمرے میں گیس ہیٹر کی وجہ سے گھٹن ہوجاتی ہے اور دم گھٹنے کی وجہ سے  موت واقع ہوتی ہے حالانکہ ایسے واقعات کی شرح چند فیصد ہے کیونکہ گیس کا اخراج جب ہوتا ہے اس کی مخصوص بو کے ذریعے پتا چل جاتا ہے جبکہ عموماً کمروں میں روشندان اور کھڑکیاں ہوتے ہیں جو گیس کو زیادہ دیر تک کمرے میں نہیں روک سکتے ۔ گذشتہ دنوں ٹیکسلا کے علاقے میں گیس ہیٹر کھلا چھوڑ جانے کی وجہ سے دھماکا ہوا اور دو بچیاں جاں بحق ہو گئیں جب کہ ان کے والدین بھی شدید زخمی ہوئے ۔

اکثر کوئلے کی گیس ہو یا ہیٹر کی گیس یعنی پروپین یا میتھین جب پوری طرح نہیں جلتی یعنی آدھی جلتی ہے تو ایک تیسری گیس جنم لیتی ہے۔ جس کو کاربن مونو آکسائیڈ کہتے ہیں۔یہ ایک ایسی گیس ہے جس کوئی رنگ ذائقہ یا بو نہیں ہوتی ۔ لیکن یہ اتنی زہریلی ہوتی ہے کہ اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ۔

کیونکہ بہت خاموشی سے یہ انسان کے حواسوں کو مختل کر کے چھوڑتی ہے  اور پتہ بھی نہیں چلتا۔ آگ تین اشیا کا مرکب ہے ۔ آکسیجن، فیول، اور حرارت ان میں سے کوئی ایک بھی چیز نکال دیں آگ بجھ جائے گی ۔

اسی طرح جب گیس، اور حرارت سے آکسیجن مقدار میں کم رہ جاتی ہے تو گیس مکمل طور ہر جل نہیں پاتی۔ اس ادھورے شعلے یا جلنے سے ایک اور گیس جنم لیتی ہے جس کو کاربن مونو آکسائیڈ کہتے ہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے  کہ گیس ہیٹر یا چولہا، زنگ آلود یا کالک زدہ  ہوتا ہے۔جس کی مکمل صفائی نہیں ہوئی اور آکسیجن پوری طرح گیس کو جلنے میں مدد نہیں دے رہی۔   

اس کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ اکثر چولہوں اور ہیٹرز پر کالک جم جاتی ہے اور گیس خارج ہونے کی جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ اس کالک کوسوٹ کہتے ہیں ۔یہ گیس کو مکمل جلنے نہیں دیتی اس کے لیے ہمیں ہفتہ وار صفائی کرنی چاہیے گیس کے شعلے سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گیس پوری طرح جل رہی ہے یا نہیں ۔

اس گیس کے بننے کی ایک اور بڑی وجہ مکمل سِیل بند کمرے میں گیس ہیٹر کا جلنا ہے۔ جہاں سے روشنی اور ہوا کی آمدورفت نہیں ہورہی ہو تو آکسیجن مقدار میں کم رہ جاتی ہے اور کاربن مونوآکسائیڈ بننے لگتی ہے۔

ذہن میں رہے چونکہ  یہ گیس ایک خاموش قاتل ہے لہذا سو جانے کے بعد انسان اپنے دفاع کے قابل نہیں رہتا اور سوتے سوتے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ یہ گیس ہوا کے متوازن ہے اور یہ سانس کے ذریعے داخل ہوتے ہی انسانی جسم میں موجود آکسیجن کو ختم کرتی جاتی ہے۔ دل، دماغ اور پھیپھڑے آہستہ آہستہ ناکارہ ہوجاتے ہیں اور اسی مدہوشی میں انسان جان دے دیتا ہے۔

کچھ  ضروری احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں جنھیں اختیار کر کے اس خاموش قاتل کے وار سے بچا جا سکتا ہے

چولہے اور ہیٹر کی ہفتہ وار صفائی کرنی چاہیے ۔

زنگ اور کالک کو نہ جمنے دینا بہت ضروری ہے ۔

آکسیجن کی مکمل فراہمی کیلیے روشن دان یا کھڑکی کو کھول دینا چائیے۔

ہر ممکن کوشش کریں کہ رات کو ہیٹر اورچولہا  بند کر کے سوئیں۔

ریگولیٹرز اور فِٹنگز کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے کہ وہ گیس تو خارج نہیں کررہے ۔

جدید ہیٹرز کا استعمال بالخصوص ایسے ہیٹرز جو گیس بند ہو جانے کی صورت میں خود بخود بند ہو جائیں۔

ہوسکے تو ایسے آلات نصب کردیں جو گیس کے اخراج پر الارم کے ذریعے وارن کر سکیں ۔

ہیٹر خراب ہونے کی صورت میں اسے فوراً تبدیل کردیں ۔

سردیوں کے موسم میں  تقریباً ہر گھر ہر کمرے میں گیس ہیٹرز جلتے ہیں۔

لہذا کاربن مونو آکسائیڈ کے متعلق تمام معلومات اپنے گھر کے ایک ایک فرد سے شئیر کریں۔ کیونکہ احتیاط ہی اس ناگہانی سے بچا سکتی ہے ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے