ناروے کے ایک اجتماع میں قرآن جلتا ہوا دیکھ کر عمر نامی ایک نوجوان فوراً آگے بڑھا تا کہ وہ یہ سب روک سکے۔

راہ برسوں کی طے ہوئی پل میں

عشق کا ہے بہت بڑا احسان

اس کے بعد چند دوسرے نوجوانوں کی ہمت بندھی ۔ اس منظر پہ عقل والے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے جذباتی نوجوان اگر کچھ صبر کا مظاہرہ کر لیتے تو پولیس اسے اپنے طریقے سے ہینڈل کرتی۔ میں کہتی ہوں ۔
قرآن جل رہا تھا ۔ وہ کیسے صبر کرتا!
” صبر” یہ صرف کہنا آسان ہے مگر عقیدت اور عشق کی راہیں یوں ہی لمحوں میں طے ہوتی ہیں ۔ یہ خاص جذبے ہوتے ہیں ۔ اور یہ ہم میں سے ہر ایک مسلمان کے دل میں موجود ہیں۔ ہر چیز کو عقل کے پیمانے پر تولنے والوں کی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔

لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے

تابہ منزل صرف دیوانے گئے

عقل والے اسے جذباتیت کہیں یا کچھ بھی کہیں ۔یہ عشق ہے ۔ یہ عقیدت کا وہ جذبہ ہے جو بچپن سے ہم سب کے دلوں میں موجود ہوتا ہے ۔ بچپن سے ہی سپارہ گر جاتا تو فوراً لپک کر اٹھاتے، چوم کے آنکھوں سے لگاتے ۔ سینے سے چپکا لیتے مبادا دوبارہ غلطی سے نہ گر جائے ۔ اگر کسی سے غلطی سے قرآن گر جاتا تو اسے ایک فکر لاحق ہو جاتی کہ کہیں وہ اللہ کی پکڑ میں نہ آ جائے ۔ بعض خواتین بھر بھر کے آٹا صدقہ کرتیں کہ یا اللہ اس کوتاہی کو معاف کر دے ۔

قرآن یا قاعدے کا آدھا صفحہ بھی کہیں گرا نظر آتا تو لپک جھپک کر اٹھایا جاتا ۔ جھاڑ کے چوما جاتا اور مقدس صفحات کو بھی بلند جگہ پہ محفوظ کیا جاتا ۔ یہ عقیدت اور احترام ہم اپنے بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں ۔

آج عقل والے کہتے ہیں نوجوان کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے تھا ۔ واللہ ہم میں سے کوئی بھی ہوتا اور اس کے سامنے قرآن کو جلایا جا رہا ہوتا تو وہ یہی کرتا ۔

اس معاملے میں ہم بے بس ہیں۔

موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا جا تو اور تیرا رب آپ دونوں جہاد کریں ۔ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ۔

( المائدہ)
غیرت مسلم کو یہ گوارا نہیں کہ وہ بھی یہ سوچ کے لاپرواہ ہوجاتی ۔اللہ نے ذمہ لیا وہ خود ہی نمٹ لے گا ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے