تفصیلا ت کے مطابق دنیا بھر کی طرح سوئٹرزلینڈ کے گلیشئرز بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہونے لگےصرف پانچ برسوں کے دوران یورپی ملک کا گلیشیئر ریکارڈ تیزی سے پگل رہا ہے اوراگر گلیشیئر کے ختم ہونے کی رفتار یہ ہی رہی تو اگلے ایک صدی سے قبل ہی یہ گلیشیئر مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔

سوئس اکیڈمی برائے سائنس کے گلیشیئر کی پیمائش کرنے والے ادارےکریوسفر کمیشن نے20 گلیشیئرز پر تحقیق کرنے بعد اپنی جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ رواں برس گلیشیئرز کے پگلنے میں ریکارڈ اضافہ ہے۔ادارے نے سوئٹرزلینڈ کے گلیشیئر ز کے مطالعے کے بعدبتایا کہ گرمیوں کے موسم میں گلیشیئرزپگھل جاتے  تھے لیکن موسم سرما میں وہ برف دوبارہ اپنی جگہ بنا لیتی تھی لیکن رواں برس ایسا نہیں ہوا۔

کمیشن کے مطابق سوئٹرزلینڈ کی پینے کے پانی کی کھپت کے برابر برف و گلیشئرز اب تک پگل چکے ہیں جبکہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران سوئٹرزلینڈ کے تمام گلیشیئر ز کا 2 فیصد پگل کر پانی بن چکا ہے ۔

خیال رہے کہ رواں برس اگست میں یورپی ملک آئس لینڈ میں ایک 700 سال قدیم گلیشیئر پگھل کر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے، اس موقع پر مقامی افراد کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوئی اور افسوس کا اظہار کیا جس کے بعد یہ اجتماع گلیشیئر کی آخری رسومات میں تبدیل ہوگیاتھا ۔گلیشیئر کے خاتمے پر مقامی انتظامیہ نے اس کا باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیاتھا جبکہ اس مقام پر ایک یادگار بھی بنا دی گئی تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایک اور برفانی علاقے گرین لینڈ میں سنہ 2003 سے 2013 تک 2 ہزار 700 ارب میٹرک ٹن برف پگھل چکی ہے۔ ماہرین نے اس خطے کی برف کو نہایت ہی ناپائیدار قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے پگھلنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔سنہ 2000 سے انٹارکٹیکا کی برف بھی نہایت تیزی سے پگھل رہی ہے اور اس عرصہ میں یہاں 8 ہزار کے قریب مختلف چھوٹی بڑی جھیلیں تشکیل پا چکی ہیں۔دوسری جانب قطب شمالی کے برفانی رقبہ میں بھی 6 لاکھ 20 ہزار میل اسکوائر کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے