سلیم مغل کے قلم سے

 

یہ جامعہ کراچی ہے ، مادر علمی ، میری عظیم درسگاہ

کوڑے کرکٹ اور غلاظت سے اٹا ہوا یہ جو حصہ تصاویر میں آپ دیکھ رہے ہیں یہ سلور جوبلی گیٹ سےمتصل یونیورسٹی کا وہ حصہ ہے جسے یونی ورسٹی کی دہلیز کہیں تو غلط نہ ہو گا ،یہاں ہر روز سینکڑوں یا شائد ہزاروں طلبا و طالبات اور ان کے والدین رجسٹریشن ، امتحان اور داخلہ وغیرہ کے امور نمٹانے کے لیئے آتے ہیں

دفاتر اور بنکوں کے عین وسط میں کوڑے کے ڈھیر دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا، اتنی غلاظت ، وہ بھی ملک کی سب سے بڑی درس گاہ میں ، مجھے یقین نہیں آرہا ، میں نے کسی دفتر میں جا کر دہائی دینا چاہی مگر ساڑھے نو بجے تک کوئی دفتر بھی نہیں کھلا تھا حتیٰ کہ بنک بھی نہیں ۔

قریب لگے ہوئے ایک شامیانے میں ایک طلبہ تنظیم کے کچھ کارکنان موجود تھے ، میں نے ان سے بھی کہا کہ زرا زرا سی بات پہ طوفان اٹھا دینے والو ، اس قدر غلاظت پر خاموشی کیوں ؟ ان کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا ۰۰ جی تو چاہا کہ میڈیا کی ٹیم کے ساتھ یونیورسٹی کا ایک وزٹ کروں اور اس کر یہہ منظر کو ٹی وی اسکرین کے زریعہ پورے پاکستان کو دکھاؤں مگر میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے ایسا کیا تو ملامت کا ہدف بھی میں ہی بنوں گا ۔ سو اس پوسٹ پر ہی اکتفا کیا ۔

آج ڈاکٹر وہاب مرحوم بہت یاد آئے ۔
آج میری بے بسی کا کچھ نہ پوچھئے

کچھ کہنا چاہوں کہہ نا سکوں

چپ رہنا چاہوں رہ نہ سکوں

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے