دو سال قبل پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو پولیس نے اس حالت میں بازیاب کرایا ہے کہ وہ اپنے پہلے خاوند کے بوڑھے ماموں کی مبینہ بیوی بن چکی ہے۔ پولیس بازیاب ہونے والی لڑکی کو آج عدالت میں پیش کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق  حسن واہن تھانہ کی حدود میں پولیس نے کاررائی کرتے ہوئے ایک 16 سالہ لڑکی کو بازیاب کرایا ہے۔ اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ لڑکی نے دو سال اس وقت پسند کی شادی کی تھی جب اس کی عمر صرف 14 سال تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ مریم ڈیرو نامی لڑکی نے 14 سال کی عمر میں فیاض برڑو سے مبینہ طور پر پسند کی شادی کی تھی جو صرف ایک سال کے بعد ہی قتل ہو گیا۔

ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن یاسمین چانڈیو کے مطابق پہلے شوہر کے قتل ہونے کے بعد مریم سے فیاض کے 50 سالہ بوڑھے ماموں لیاقت برڑو نے مبینہ طور پر زبردستی شادی کی۔

پڑوسیوں سے بات چیت کے بعد معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران مریم اپنے والدین اور دیگر عزیز و رشتہ داروں سے مل بھی نہیں سکی ہے۔

موقع ملنے پر مریم نے اپنے حالات کے بارے میں پولیس کو بتایا جس پر پولیس نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے مریم کو آج عدالت پیش کیا جائے گا ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ  کم عمری میں پسند کی شادی مریم کے لیے سزا بن گئی کیونکہ شادی کے بعد وہ اپنے خاندان اور گھروالوں سے نہیں مل سکتی تھی ۔جس پر خاوند کے انتقال نے اسے مزید تنہا کر دیا اور ایک بوڑھے شخص کی بیوی بننے پر مجبور ہو گئی ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے