عراق میں حکومت مخالف مظاہروں میں روز بہ روز شدد آرہی ہے اور تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ کرپشن اور اقتصادی مشکلات کے خلاف اٹھنے والی یہ مظاہرے اب عوام کے ہاتھوں سے نکل کر تیسری قوتوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہیں۔ تقریبا دو ماہ سے جاری ان مظاہروں میں اب تک چار سو کے قریب جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہزاروں کے تعداد میں زخمی ہوئے ہیں اس کے علاوہ سرکاری تنصیبات اور عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس وقت سب سے اہم بات مظاہرین کا اپنے اصل ہدف سے دور ہونا اور تشدد کی جانب بڑھنا ہے۔ خصوصا مذہبی حلقوں اور حشد الشعبی کے خلاف قدم اٹھانا ہے جنہوں نے ان کو داعش کے شر سے نجات دلایا تھا۔

معاملہ اب کرپشن اور اقتصاد کے دائرے سے باہر ہے اور حالات ایسے ہی برقرار رہے تو خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ مظاہرین کے درمیان سازشی عناصر نے نفوذ پیدا کیے ہیں اور وہ مظاہرین کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ان سازشی عناصر کو حکومت نے تیسری قوت قرار دیا ہے۔ تیسری قوت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عراقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ قوتیں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ہیں جو اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ان مظاہروں کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہر جگہ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کا کیوں نام آتا ہے مظاہرے تو عراقی کر رہے ہیں وہ بھی اپنے ہی مطالبات کے حق میں تو یہاں امریکہ کا کیا کام؟ جواب یہ ہے کہ جہاں امریکی مفادات ہوتے ہیں وہاں پر مستحکم حکومت کبھی امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوتا، یہ بات ہم افغانستان سے لیکر افریقہ تک جہاں جہاں امریکہ ہے باخوبی مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اگر حکومت مستحکم ہوں اورعوام باشعور ہوں تو پھر امریکہ کے کالے کرتوت کھل جاتے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس وقت روس اور چین کے بڑھتے اثرورسوخ اور ایران سمیت مقاومتی بلاک کا مشرق وسطی میں بڑھتی کامیابی نے امریکی سپر پاور ہونے کے دعوے کو للکارا ہے اور شام، عراق اور لبنان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو منہ کی کھانی پڑی ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ عراق میں مظاہرین کا روخ تشدد کی جانب مڑ نا، ایرانی کونسل خانے کو جلانا اور عراقی مذھبی شخصیات کے دفاتر پر حملہ کرنا یہ عام عراقی عوام نہیں کرسکتے ہیں۔

امریکہ کو عراق کے مذھبی حلقوں سے شکایت کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک بات بتاتا چلوں کہ امریکہ جس ملک میں بھی اپنا اڈہ بناتا ہے تو سب سے پہلے اس ملک میں بدامنی اور انارکی پھیلاتا ہے، سقوط صدام کے بعد داعش کا سر اٹھانا امریکی پلانگ کا حصہ تھا داعش کے ذریعے امریکہ نے بیک وقت شام اور عراق دونوں میں خانہ جنگی شروع کروادی تھی اور اسی بہانے امریکہ نے یہاں رہنا تھآ اور ان کے قدرتی وسائل پر ڈاکہ ڈالنا تھا۔ اب آئیں جواب کی طرف امریکہ کو دھچکہ اس وقت لگا جب عراق کی سب سے بڑی مذہبی شخصیت آیت اللہ سیستانی نے داعش کے خلاف جنگ کا فتوی دیا جس کا اثر یہ ہوا کی لاکھوں کی تعداد میں عراقیوں نے لبیک کہا اور امریکی و داعشی عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ جس کا براہ راست نقصان امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کو ہوا کیونکہ داعش کو بنانے ان کی تربیت کرنے اور ان کو فنڈنگ کرنے میں ان تین ممالک کا مستقیم ہاتھ تھآ۔

اب امریکہ عراق میں میں ناکام ہوچکا تھآ اُس نے جس مقصد سے داعش کو بنایا تھا اس کا سو فیصد ثمر اس کو نہیں ملا بلکہ اس کے برعکس عراق میں آیت اللہ سیستانی کے فتوی کی وجہ سے ایک ایسی قوت  حشد الشعبی کے نام سے ابھر آئی جنہوں نے نہ صرف داعش کو شکست دی بلکہ امریکیوں کو بھی عراق چھوڑنے کا حکم دیا، دوسری طرف عراق کے رضاکار فورسیز نے اسرائیل کو بھی آنکھیں دیکھائی جس کے جواب میں اسرائیل نے ایک دو بار عراق میں حشد الشعبی سے متعلق ملٹری بیس پر فضائی حملے بھی کئے۔ عراق میں حشد الشعبی کی بڑھتی مقبولیت اور عراق ایران کے بہتر ہوتے تعلوقات امریکہ اسرائیل کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی۔

دوسری جانب عراقی الیکشن میں امریکہ مخالف پارٹیوں کی کامیابی بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ جب عوام حکومت سے اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ لئے سڑکوں پر نکل آئے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے یہ ایک بہترین موقع ثابت ہوا اور انہوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عوام میں یہ باتیں پھیلانا شروع کیا کہ عراق کی اقتصادی بحرانوں کا اصل سبب حشدالشعبی، مقاومتی بلاک اور ایرانی اثرورسوخ ہے جسکی وجہ سے آج عراقی مظاہرین کا ہدف تبدیل ہوا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ اس وقت بد امنی پھیلانے والوں کی اکثریت کا تعلق امریکہ اور داعش حمایتی افراد سے ہیں جو اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ابھی بھی عراقی باسی اور قبائلی افراد آیت اللہ سیستانی کی جانب دیکھ رہے ہیں تاکہ ان کے حکم سے ملک میں بدامنی پھیلانے والوں کا سر کچل سکے۔ مگر آیت اللہ سیستانی، مقتدا الصدر، عمار الحکیم سمیت اہم سیاسی و مذہبی شخصیات نے پُر امن مظاہرے کی حمایت اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے ساتھ ہی پُر تشدد واقعات کا سختی سے مذمت کی ہیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پر امن رہیں۔

اس وقت عراق کی صورت حال کچھ ایسی ہے کہ عوام عوام کے خلاف برسرپیکار ہے جن کو قابو کرنا حکومتی بس کی بات نہیں ہے اور آخر میں ان تمام مشکالات کا حل مراجع اور مذھبی شخصیات ہی نکال سکتی ہیں۔ امید ہے کہ اس دفعہ پھر امریکہ اور اس کے اتحادی ناکام ہونگے اور انکے ناپاک عزائم خاک میں مل جائینگے، ساری دنیا کی نظریں آیت اللہ سیستانی پر ہیں اور مرجع تقلید حالات کی بہتری کی جانب پُر امید نظر آتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انشااللہ آئندہ جلد عراق کے حالات بہتری کی طرف لوٹ آئنگے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے