وزارت صحت نے ایڈز کی روک تھام کے لیے  نیشنل ایکشن پلان شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے ذریعے اس خطرناک مرض کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر طفر مرزا نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے دو مقاصد ہیں، استعمال شدہ ٹیکوں پر مکمل پابندی اور سکریننگ کے بغیر انتقال خون کا راستہ بند کرنا۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال کے وسط میں ملک کے تمام نجی اسپتالوں میں خود بخود ضائع ہو جانے والے ٹیکے استعمال ہوں گے، یہ ایسی سرنجیں ہوتی ہیں جو ایک بار استعمال کے بعد قابل استعمال نہیں رہتیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ان سرنجوں کی تیار پر گزشتہ کئی ماہ سے کام ہو رہا تھا، اس کاروبار سے منسلک صنعتکاروں، درآمد کنندگان اور ڈاکٹرز سے مشاورت کے بعد یہ حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ 2023 میں اسکریننگ کے بغیر انتقال خون پر بھی مکمل پابندی ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈز کا معاملہ سامنے کے بعد وفاق نے نیشنل ٹاسک فورس بنائی تھی، لاڑکانہ میں ایڈز کا معاملہ سامنے آیا تو وفاق اور صوبائی حکومت نے سیاسی اختلاف بھلا کر مل کے کام کیا تھا۔

معاون خصوصی برائے صحت کے مطابق معاملی کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ ستر فیصد بیماریاں استعمال شدہ سرنجوں کے باعث پھیلتی ہیں، ڈاکٹر اور اتائی ایک ہی سرنج بار بار استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ انڈس اسپتال کراچی کے ساتھ مل کر جامع منصوبہ بندی کر رہے ہیں، پاکستان انتقال خون کی سروس کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ خون کی اسکریننگ کے بعد اس کا معیار مستند بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پر کام کرے گی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے