وہ بھی وقت تھا کہ آج کے واقعہ کو لوگ دوسرے دن زیر بحث لایا کرتے تھے اور یہ بھی وقت ہے کہ متوقع طور پر مہینوں بعد رونما ہونے والے واقعات کو آج زیر بحث لایا جا رہا ہے، صرف زیربحث ہی نہیں بلکہ قطعیت اور دعوٰے کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یقینی طور پر میڈیا کی وسعت ہی ہے لیکن عوامی شعور کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، آج واقعہ رونما ہو رہا ہوتا ہے تو اس پر بحث بھی بروقت ہو رہی ہے۔

اس بحث کا ملک اور قوم کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں، بحث کرنے والوں کو اس سے سروکار نہیں، وہ تو بس اپنا ایجنڈا لے کر میدان میں اترے ہوئے ہیں یا اپنی ”قابلیت اور علمیت“ کا زور دکھا رہے ہیں۔ اس بحث ومباحثہ کے شرکاء میں کوئی تخصیص نہیں ہے، یہ حکمراں بھی ہیں اور اپوزیشن بھی، سیاستدان بھی ہیں اور تجزیہ کار بھی، صحافی بھی ہیں اور کالم نگار بھی حتٰی کہ رپورٹر، پروگرام اینکر اور نیوز اینکر بھی اسی زور آزمائی میں لگے ہوتے ہیں۔

ملک کی تازہ ترین صورتحال کو ہی لے لیں، مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ اور دھرنے اور نوازشریف کی بیماری سے جو نتائج نکالے جا رہے ہیں وہ ماضی میں بتائے گئے نکات کے بالکل برعکس ہیں، دوسرے یہ کہ دسمبر جنوری تبدیلی کے مہینے ہیں اس تبدیلی کے نتیجے میں فروری مارچ تک نئے انتخابات ہوں گے. ان نتائج کے حق میں جو دلائل دیے جا رہے ہیں ان میں سرفہرست مولانا فضل الرحمٰن کا اچانک دھرنا ختم کرنا اور کوئی باقاعدہ تحریک منظم نہ کرنا شامل ہیں۔

اس بات کوتقویت مولانا کے ان بیانات سے بھی ملتی ہے جو وہ بار بار دہراتے ہیں کہ ”ہم ایسے ہی نہیں گئے تھے اور نہ ہی ایسے ہی اٹھ کے آئے ہیں“ اب تو مولانا کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آ گئی ہے کہ انھیں دسمبر میں حکومت ختم ہونے اور نئے سال میں انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ساتھ ہی حکمراں جماعت کے لوگوں کے بیانات کو بھی اس دلیل کے حق میں بیان کیا جا رہا ہے، وہ جس قدر مولانا فضل الرحمان کو ناکام ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں اتنا ہی مولانا کا اطمینان اور ان کی بزلہ سنجی اور مخصوص مسکراہٹ بہت کچھ بیان کر جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے اور سب جانتے اور مانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان خوامخواہ میدان میں نہیں اترتے، وہ نتائج کا صحیح اندازہ کر کے یا ضمانت لے کر ہی سامنے آتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ چوہدری برادران کے ساتھ بھی ہے اور موجودہ حالات میں چوہدری برادران اور مولانا ایک پیج پر ہی ہیں۔

یوں یک نہ شد دوشد والی کہاوت کے مطابق حالات اسی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں جو آج کل زیربحث ہیں کہ آئندہ دو تین ماہ میں کچھ ہونے والا ہے ایک اور بحث ایک دانشورانہ سوال کی شکل میں ہو رہی ہے کہ تبدیلی اگر ہے تو طریقہ کار کیا ہو گا؟ اس کا جواب بھی اسی دانش کے ساتھ دیا جا رہا ہے کہ اس کی مثالیں موجود ہیں  اور ایک نہیں کئی مثالیں موجود ہیں، تازہ ترین مثال میاں نواز شریف کی ہے کہ وہ کسی قسم کی تحریک، جلسے، جلوس اور احتجاج کے بغیر نا اہل ہو گئے، صرف نااہل ہی نہیں بلکہ جیل بھی چلے گئے۔ اس سے پہلے ایسی ہی ایک مثال یوسف رضا گیلانی کی تھی، ان کے خلاف بھی کوئی احتجاج نہیں تھا اور وہ بھی پانچ سال کے لیے نااہل ہو گئے تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہی فارمولہ یہاں بھی اختیار کیا جائے گا، اس میں ایک بڑا فرق ہو گا، پہلے اشخاص نااہل ہوئے تھے لیکن اب کے پوری پارٹی داؤ پر لگی ہے، حکمراں پارٹی چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کا ایک ایک دن گن گن کر گزار رہی ہے تاکہ کوئی ممکنہ ”بلا“ ٹل جائے، الیکشن کمیشن میں حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اس وقت الیکشن کمیشن مکمل نہیں، اس میں فی الوقت سندھ اور بلوچستان کے ارکان شامل نہیں ہیں، صرف تین ارکان موجود ہیں، گو کہ کورم کے اعتبار سے کمیشن کام کر سکتا ہے لیکن چھ دسمبر کے بعد کمیشن غیرفعال ہو جائے گا کیونکہ اس تاریخ  کو موجودہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ کمیشن کے دو ارکان پہلے ہی کم ہیں، یوں بقیہ ارکان کی تعداد دو رہ جائے گی اور عملاّ کمیشن غیرفعال ہوجائے گا۔

حکمراں جماعت اسی وقت کا انتظار کر رہی ہے کیونکہ ایسی صورتحال حکمراں جماعت کے حق میں جاتی ہے، اس کے وکلا اور وزرا اس صورتحال کو طول دینے کی کوشش کر سکتے ہیں، اب تک نئے چیف کی تقرری کاعمل بھی شروع نہیں ہوا، آئین کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے اتفاق سے نیا چیف مقرر ہونا ہے لیکن صورت حال ہے کہ ایوان کے دونوں قائدین ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔

اگر ان قائدین نے کسی نام پر اتفاق نہ کیا تو ایوان کی کمیٹی جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے برابر کے ارکان ہونگے وہ کوئی نام تجویز کرے گی، ان کی ناکامی کی صورت میں چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار چلا جائے گا، سیاسی طور پر حزب اختلاف کا یہ زور ہے کہ الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے چھ دسمبر تک کیس کا فیصلہ سنا دے جبکہ حکمراں جماعت کا موقف ہے کہ اپوزیشن کا یہ مطالبہ کمیشن کو دباؤ میں لانے کے مترادف ہے۔

دوسری طرف حکمراں جماعت اس کوشش میں ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دلا دیا جائے، اس کے لیے وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، یوں اسے کچھ وقت کے لیے اس کیس سے نجات مل سکتی ہے لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کا حکم حکمراں جماعت کے لیے اچھی نوید نہیں ہے۔

منتخب کالم

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے