سردی ، خنکی اور دسمبر یہ شعرا کے پسندیدہ مضامین رہے ہمیشہ سے ، سردی اور سردمہری جب یکجا ہوتی ہے تو قلبی کیفیات کا برملا شاعری میں اظہارہونے لگتا ہے اور یوں موسموں کا ایک نیا سا مزاج بننے لگتا ہے۔

نئے موسموں کے ساتھ نئے لفظوں کا جادو لیے دسمبر کی شاعری سے انتخاب 

 

الاؤ بن کے دسمبر کی سرد راتوں میں
تیرا خیال میرے طاقچوں میں رہتا ہے 

؎

دسمبر کی سرد راتوں میں اک آتش داں کے پاس
گھنٹوں تنہا بیٹھنا، بجھتے شرارے دیکھنا
جب کبھی فرصت ملے تو گوشہ تنہائی میں
یاد ماضی کے پرانے گوشوارے دیکھنا

؎

خنک رات میں تنہائی بھی چوکھٹ پہ کھڑی ہے
جاڑے کی اداس شام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے
ترے آنے کی امید بھی ہو چلی معدوم
نئے برس کا اہتمام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے

؎

بھی ہجر کا قیام ہے اور دسمبر آن پہنچا ہے
یہ خبر شہر میں عام ہے دسمبر آن پہنچا ہے
آنگن میں اُتر آئی ہے مانوس سی خوشبو
یادوں کا اژدہام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے

؎

کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں
کہیں بکھرتی ہوئی دھول میں سوال ملیں
ذرا سی دیردسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں

؎

الاؤ بن کے دسمبر کی سرد راتوں میں
تیرا خیال میرے طاقچوں میں رہتا ہے
بچا کے خود کو گزرنا محال لگتا ہے
تمام شہر میرے راستوں میں رہتا ہے

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے