وسعت اللہ خان کا منتخب کالم

فیض احمد فیض کی یاد میں لاہور میں ہر سال میلہ لگتا ہے اور اس میلے میں سب سے زیادہ اقبال بانو کی آواز میں وہ نظم ہی سنائی دیتی ہے: ‘لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے۔’ لیکن اس بار فیض میلے میں جس نظم کو سب سے زیادہ ٹی آر پی حاصل ہوئی وہ تھی رام پرساد بسمل عظیم آبادی کی 98 سالہ پرانی نظم ‘سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے’۔
سب جانتے ہیں کہ شہیدِ اعظم بھگت سنگھ پر جو بھی فلمی کھیل بنتا ہے اس میں یہ نظم ضرور ڈالی جاتی ہے۔ لیکن رواں سال پاکستان کی نوجوان نسل نے نسل در نسل چلی آنے والی اس نظم کو ایک نئی زندگی دی۔

کچھ سرپھرے نوجوانوں نے اس نظم کو فیض میلے میں نعرے کے طور پر گایا۔
اس مجمع میں سب سے پرجوش اور بلند آواز عروج اورنگزیب کی تھی۔ اس وقت سے عروج اورنگزیب کم از کم سوشل میڈیا کی حد تک نئی نسل کے لیے جوش و خروش کی علامت بن گئی ہیں۔ کوئی بھی ملک میں جو ایک طویل عرصے سے حقیقی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے وہاں اگر کوئی خاتون سٹار بن کر ابھرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی کی بھوک کتنی گہری ہے۔
جیسے یمن میں جب سنہ 2011 میں بہار عرب کی لہر آئی تو علی عبداللہ صالح کی آمریت کو چیلنج کرنے والوں توکل کرمان پیش پیش تھیں۔
توکل کرمان کو رواں سال نوبل انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔

انڈیا کی معروف یونیورسٹی جے این یو میں جب تین سال قبل حکومت کی مداخلت کے خلاف مظاہرے ہوئے اس وقت پاکستانی طلبا میں دو مقبول نام کنہیا کمار اور شہلا رشید کے تھے۔ دسمبر سنہ 2017 میں حجاب پر حکومتی جبر کے خلاف مظاہروں میں وداع موحد کی تصویر سب سے زیادہ وائرل ہوئی۔ وداع نے تہران میں ایک اونچی جگہ چڑھ کر اور اپنے سفید سکارف کو پرچم کی طرح لہرایا۔ وہ گرفتار بھی ہوئیں لیکن ان کی تصویر نے باقی ایرانی خواتین کو متاثر کیا۔ گذشتہ اپریل میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے کئی دنوں تک جس نوجوان بھیڑ نے مظاہرہ کیا اس دھرنے کو سفید لباس میں ملبوس ایک 22 سالہ لڑکی آلاء صلاح لیڈ کر رہی تھی۔ بیروت میں بدعنوان حکومت اور سیاست کے خلاف گذشتہ دو ماہ سے جو تحریک جاری ہے اس میں بھی خواتین سب سے آگے ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون جنھوں نے وزیر کے باڈی گارڈ کو کک ماری اس کا ذکر تو آج تک ہو رہا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی وکیل عاصمہ جہانگیر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ‘پاکستان کا سب سے زیادہ دلیر مرد’ تھیں۔

دو سال قبل ان کی موت کے بعد کچھ عرصے سےایک کمی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن اب عروج اورنگزیب، جلیلہ حیدر گریٹا تھنبرگ جیسی لڑکیوں کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جو تبدیلی ہماری نسل نہ لا سکی شاید اکیسویں صدی میں یہ لڑکے لڑکیاں لے آئيں اور ہم انھیں کامیاب دیکھ کر تھوڑا سا خوش ہو لیں اور اپنی ناکامی بھول سکیں، تھوڑی ہی دیر کے لیے سہی!

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے