شیعہ علماءکونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک کو آئینی بحران سے بچانے اور ہیجانی کیفیت کے خاتمے کےلئے سپریم کورٹ نے واضح رہنمائی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی طرح تمام سٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پاکستان جہاں محل وقوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے وہیں بے شمار چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہے، مزید سنجیدگی اور بردباری کی ضرورت ہے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی تمام مسائل کا حل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آرمی چیف کے تقرر /توسیع کے معاملے پر دیئے گئے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ماضی کی نسبت حالیہ ایام میں اہم ترین تقرری /توسیع کے معاملے پر ایک پٹیشن پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جس طرح تمام اداروں کی توجہ مبذول کرائی اور نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح رہنمائی کی وہ مستحسن ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی طرح تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا آئینی بحران پیدا نہ ہو اور متفقہ طور پر ایسی قانون سازی کی جائے تاکہ ایسے ابہام پیدا ہونے کے خدشات ہی ختم ہوجائیں۔ اس ساری صورتحال میں بہت سے نقائص سامنے آئے، بہت سے قانونی پہلوﺅں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے سوالات اٹھائے جنہیں دور کیا جانا ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان جہاں محل وقوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے وہیں بے شمار چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہے، ہمیں اپنے خارجی معاملات کے ساتھ داخلی معاملات کو بھی دیکھنا ہوگا البتہ سنجیدہ اقدامات سے ایسی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتاہے۔

انہوں نے کہا اب بھی وقت ہے کہ حکومت و اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز اہم نوعیت کے معاملات اور مسائل پر مل بیٹھ کر متفقہ فیصلے کریں، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی تمام مسائل کا حل ہے جس کی طرف ہم ایک عرصہ سے توجہ مبذول کراتے آئے ہیں اگر اس طرف سنجیدگی سے عمل شروع ہوجائے تو نہ صرف ملکی مسائل حل ہونگے بلکہ ملک سیاسی و معاشی طور پر بھی مستحکم ہوگا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے