ایرانی نائب صدر جہانگیری کا کہنا ہے کہ ایران اپنے خلاف امریکا کی طرف سے عائد کردہ تیل اور تیل کی مصنوعات کی برآمد پر پابندیوں کے باوجود پیداوار برآمد کر رہا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے ایران کے پاس  دیگر ذرائع موجود ہیں ۔

ایرانی نائب صدر اسحاق جہانگیری کاکہناتھا کہ امریکا کی خواہش تھی کہ ایرانی تیل کی برآمدات کو بالکل صفر فیصد تک کم کرا دیا جائے، لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام ہے ۔‘‘

سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق  نائب صدر جہانگیری نے یہ بھی کہا کہ تہران کے خلاف امریکا میں خاص طور پر موجودہ ٹرمپ انتطامیہ کی ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی بھی ناکام ہو گئی ہے۔

اسحاق جہانگیری نے کہا، ’’امریکا کے دباؤ، اور ان پابندیوں کے باوجود جو اس نے تہران کے خلاف عائد کر رکھی ہیں، ہم آج بھی دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنا تیل فروخت کر رہے ہیں۔

اگرچہ ایران کے کئی دوست ممالک بھی امریکی کی طرف سے اپنے خلاف ممکنہ اقدامات کے ڈر سے ایرانی خام تیل کی خریداری بند کر چکے ہیں، تاہم پھر بھی ہم اپنا تیل تو فروخت کر رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے ایران اور امریکا کے مابین تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے مسلسل کشیدہ ہی رہے ہیں

ایرانی حکومت اور ٹرمپ انتظامیہ کے مابین تعلقات ایک مرتبہ پھر اس وقت بہت بحرانی صورت اختیار کر گئے تھے، جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس امریکا کے ایران کے ساتھ اس جوہری معاہدے سے یکطرفہ اخراج کا اعلان کر دیا تھاجو سابق صدر باراک اوباما کے دور اقتدار میں  طے پایا تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے