دوسری اور آخری قسط

دکھ کی کہانی کا اگلا صفحہ

شہر کا نام ہے کھاریاں جو ضلع گجرات کا حصہ ہے ۔ اس کھاریاں کے ایک محلے میں ایک شیعہ نوجوان وفات پاجاتا ہے جہاں کے محلے دار صرف اس لیئے کفن دفن سے گریزاں رہے کہ اس کا تعلق مسلک شیعہ سے تھا۔ معلوم یہ ہوا موت بھی شیعہ ، سنی ، حنفی ، بریلوی ، مالکی اور شافعی ہوتی ہے ۔

مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ مرنے والے کے ماں باپ پہلے ہی مر چکے تھے ۔ چلو اچھا ہوا کہ ماں باپ ، بیٹے کا یہ حال دیکھنے کے لئے زندہ نہ تھے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ دو رکشے والوں نے فقط خوف خدا کے تحت اس کے غسل ، کفن دفن کا انتظام کیا ، پھر چار افراد اس کے جنازے کو قبرستان لے کر چلے اور اللہ کی امانت اس کے سپرد کی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامی مسجد کے مولوی نے یہ کہہ کر غسل کفن دینے سے انکار کیا کہ مرنے والا شعیہ تھا۔

اس خبر پر حکومت کے کسی بھی ادارے نے نہ کوئی اقدام کیا اور نہ ہی اس پر کوئی تبصرہ کیا۔ شاید ان کے نزدیک یہ کوئی ایسی بڑی خبر نہیں تھی۔ لیکن سوشل میڈیا پر واقعہ کے بعد ایک طوفان برپا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ مرنے والا منشیات کا عادی تھا، کوئی کہتا ہے وہاں اور بھی شیعہ رہتے ہونگے انہوں نے کفن دفن کیوں نہیں کیا۔ جتنی زبانیں اتنی تاویلیں ۔ میں کہتی ہوں کہ بھول جاؤ کہ وہ نوجوان شیعہ تھا کہ سنی ۔۔۔ وہ ایک انسان تو تھا

یقین جانیے مجھے پارسی مذہب کے لوگ اچھے لگنے لگے ہیں کہ وہ اپنے مردے کو ایک چبوترے پر رکھ دیتے ہیں جس کا گوشت پرندے اور جانور کھا جاتے ہیں اور انسان دفن ہونے کی مصبیت سے بچ جاتا ہے ۔ جیسے پہلے میں نے کہا کھاریاں گجرات کا حصہ ہے اور گجرات پنجاب کا حصہ ہے اور لاہور سے فقط دوڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر ہے ۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ سمیت اقتدار کے نشے میں گم عہد حاضر کے شیرشاہ سوری بزدار سمیت کسی بدبخت کویہ نصیب نہ ہوا اس علاقعے میں جا کر معلوم کرے اور صحیح صورتحال عوام کے سامنے لائے ۔ ان سب ظالموں کو تو اس وقت الیکشن کمیشن کی تقرری کا مسلہ درپیش ہے ۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے قانون کی فکر ہے ۔ سیاسی مخالفین سے انتقام کا جنون سوار ہے ۔ ان کی ترجحیات اقتدار کی سلامتی ہے ۔ انسان اور انسانیت کی نہیں ۔ کیسی حیرت کی بات ہے ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہاں یورپ ، امریکہ اور افریقہ سمیت انٹارٹیکا اور ایمازون کی لمحے لمحے کی خبریں چشم زدن میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں وہاں کھاریاں میں شیعہ ہونے کے جرم میں نماز جنازہ سے محروم اس نوجوان کی خبر وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان تک نہیں پہنچ پائی ۔

دوستو!
کبوتر آنکھیں بند کر لے تو بلی بھاگ نہیں جایا کرتی۔ آنکھیں کھولیئے اور معاشرے کے اس ناسور کا سامنا کیجئے ۔ یاد رکھئے جنگل میں لگنے والی آگ کو تو بجھایا جا سکتا ہے لیکن زبان اور مسلک کے نام پر لگائی جانے والی آگ زیر زمین ہی سہی پر صدیوں تک جلتی رہتی ہے ۔سوشل میڈیا پر کسی نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “ پاکستان کے ہر شہر میں چھیپا اور ایدھی کی ایمبولینسیں ہیں ان کی مدد لے لی جاتی “ ۔ اس کے جواب میں ہمارے ایک دوست نے جو تبصرہ کیا اسے دل تھام کر پڑھیئے ۔ وہ لکھتے ہیں “ کاش اکسٹھ ہجری میں کربلا کے میدان میں بھی ایدھی اور چھیپا والے ہوتے تو نواسہ رسول اور آل رسول کی لاشیں بے گور و بے کفن گرم ریت پر پڑی نہ رہتیں ۔“ اس سطر کو بار بار پڑھیئے اور سوچیئے کہ صدیوں سے آج تک مسلمان ، مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا آ رہا ہے ۔

میں نے ابھی زکر کیا کہ کھاریاں کے نوجوان کی شیعہ ہونے کی وجہ سے نماز جنازہ نہ ہو سکی ۔ابھی دوتین سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے عالمی اخبار میں فیصل آباد کی ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ وہاں کے مقامی قبرستان میں ایک سنی کی نماز جنازہ سے پہلے مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ ہمارے درمیان جو شیعہ ہیں وہ نکل جایئں کیونکہ انہیں سنی کا نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ معلوم ہوا کہ نماز جنازہ بھی شیعہ ، سنی ، حنفی ، بریلوی ، مالکی اور شافعی ہوتی ہے ۔ کچھ ہی عرصہ پہلے چینوٹ شہر سے یہ خبر ملی تھی کہ وہاں کی ایک شیعہ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے اہل سنت کے بارے میں ایک مقامی مولوی نے یہ فتوی دیا کہ ان کے نکاح باطل ہو گئے ہیں ۔ اس لیئے انہیں نکاح دوبارہ پڑھوانے ہونگے ۔

میرے پاس درجن بھر اور واقعات بھی ہیں جن کی تفصیل لکھنے کی ضرورت نہیں کہ جسے اس صورتحال کو تسلیم کرنا ہے وہ ان چند مثالوں سے تسلیم کر لے گا ۔ ہاں اس بات کا اعتراف مجھے کرنا ہے کہ مسلکی تفریق کا یہ زہر ابھی پورے بدن میں سرایت نہیں کیا، ابھی عام شہروں محلوں میں شیعہ سنی اکھٹے رہتے ہیں ۔ اور ان کے درمیان سماجی روابط کے ساتھ ساتھ آج بھی شادیاں ہوتی ہیں ۔ لیکن اس سے انکار کون کرے گا کہ ملک بھر کی مساجد نفرتوں کو فروغ دینے کی آماجگاہ ہیں ۔ ماسوائے چند عبادت گاہوں کے باقی سب میں ایک ہی واعظ اور ایک ہی الفاظ ہیں ۔ کافر بنانے کی جتنی فیکٹریاں جتنی مسلمانوں نے مسلمانوں کو کافر بنانے کے لئے لگائی ہیں اتنی کافروں نے مسلمانوں کو کافر بنانے کے لئے نہیں لگائی ۔ سوچیئے جہاں شہروں کی دیواروں پر شعیہ کافر ہیں لکھا ہو ۔ وہاں سے گزرنے والے بچے کیا سیکھتے ہونگے ۔ میں نے اپنی تحریر کے آغاز میں ہی یہ کہا تھا کہ میں اس مسلے کا کوئی نتیجہ نہیں نکالونگی بلکہ آپ سب کو دعوت فکر دے رہی ہوں کہ سوچیئے اور لکھئے کہ مسلمان تباہی کے کس دھانے تک پہنچ چکے ہیں ۔

آخر میں مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ اس ساری صورتحال پر پورے ملک میں شیعہ ، سنی ، حنفی ، بریلوی ، مالکی اور شافعی مولوی خاموش ہیں ۔ اللہ کے رسول کا منبر بے صدا ہو چکا ہے ۔ مسجد جو کبھی اللہ کا گھر تھی وہ بھی اب مسالک کے نام پر ہے ۔ نفرت کا درس اللہ کے گھر سے دیا جارہا ہے ۔ شہر کے مفتی کے پاس اس مسلک دشمنی کے خلاف کوئی فتوی نہیں ۔ کسی ملک کی عدالت کا اس صورتحال کی طرف کوئی دھیان نہیں ۔ روم جلتا ہے تو بلا سے جلے بس نیرو کی بانسری سلامت رہنی چاہیئے ۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں تحقیق کی جانی چاہیئے کہیں اس وقت کے لوگ پاکستان کو تو روم نہیں کہتے تھے ۔

بشکریہ ۔۔۔ عالمی اخبار

پہلی قسط کا لنک

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے