بھارت میں پہلی بار 1955ء میں شہریت کا قانون متعارف کرایا گیا تھا جس میں مختلف حکومتوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ترامیم کی گئیں، اس قانون میں حالیہ ترمیم کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کی 6 اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھارتی شہریت دینے کی بات کی گئی ہے، جن میں ہندو، بودھ، جین، پارسی، مسیحی اور سکھ شامل ہیں۔

اس بل کی سب سے متنازع بات جس پر سب سے زیادہ رد عمل سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا گیا ہے، یعنی آئندہ ان ممالک سے بھارت آنیوالے مسلمانوں کو بھارتی شہریت حاصل کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

ترمیم سے قبل اس قانون کے مطابق شہریت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی شخص کو (بلا تفریق مذہب و نسل) بھارت میں 11 سال رہنا ضروری تھا، ایسا شخص اگر شہریت کیلئے درخواست دے تو حکومت اسے منظور کر سکتی تھی تاہم نئے قانون کے تحت پڑوسی ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتی برادریوں کو چھوٹ دی گئی ہے اور 11 سال کی مدت کو کم کرکے 5 سال کر دیا گیا ہے۔

اس نئے قانون سٹیزن شپ ایمینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے ) کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 31 دسمبر 2014ء سے قبل بھارت آنیوالی مذکورہ برادریاں فائدہ اٹھاسکیں گی، تاہم ان میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس ادارے کے مطابق اس قانون سے ابھی 30 ہزار سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی مودی کابینہ نے یہ بل 4 دسمبر کو منظور کیا جبکہ 9 دسمبر کو لوک سبھا نے اس بل کی منظوری دی، 11 دسمبر کو متنازع شہریت کا قانون راجیہ سبھا سے بھی منظور کرالیا گیا، اور اب بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے