پاکستان میں 26 دسمبر صبح 7:34am پہ سورج گرہن شروع ہو گا جو 8:40am پر سب سے زیادہ ہو گا اور 10:10am پر ختم ہو جائے گا.

یہ سورج گرہن اتنا شدید ہو گا کہ تقریباً 80% سورج چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن میں رات کا گمان ہونے لگے گا.

ایسا سورج گرہن پاکستان میں تقریباً 20 سال بعد ہونے جا رہا ہے یعنی ہم میں بہت سے لوگ اپنی زندگی میں پہلی بار مکمل شعور کے ساتھ ایسا منظر دیکھیں گے.

سورج گرہن دیکھنے کا یہ شوق بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے. اس لیے ہمیں کچھ بنیادی باتیں سمجھنا ہوں گی اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کرنا ہوگا.

سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں حرکت کرتا ہوا سورج اور زمین کے بالکل اس طرح درمیان میں آجاتا ہے کہ سورج کو ڈھک دیتا ہے.

اس سے سورج کی روشنی سیدھی زمین تک پہنچنے کی بجائے چاند سے ٹکرا کر زمین تک پہنچتی ہے اور ایسی بہت سی خطرناک ریڈیائی شعائیں زمین تک آ جاتی ہیں جو عام دنوں میں زمین تک نہیں پہنچ پاتی.

اگر کوئی انسان تھوڑی دیر کے لیے گرہن کی طرف دیکھے تو یہ شعائیں آنکھ کے پردے کو بری طرح جلا دیتی ہیں. اس بیماری کو میڈیکل سائنس میں Solar Eclipse Retinopathy کہا جاتا ہے (جس کی تصویر ٹائٹل پہ موجود ہے) .

آنکھ کے پردے میں چونکہ درد محسوس کرنے کا نظام (pain receptors) نہیں ہوتا اس لیے اس کے جلنے کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور انسان مکمل نظر ختم ہونے تک اس نقصان سے لاعلم رہتا ہے.

اس بیماری سے یا تو نظر مکمل طور پہ ختم ہو جاتی ہے یا ساری زندگی دھندلا دکھائی دیتا ہے. بعض لوگوں میں اس سے کلر بلائنڈنس (color blindness) بھی ہو جاتی ہے جس سے ان میں عمر بھر کے لیے مختلف رنگوں میں فرق کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے.

یاد رکھیں!!!! یہ ایک لاعلاج بیماری ہے اور کسی دوائی یا آپریشن سے اس کا علاج ممکن نہیں ہے.

اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سورج گرہن کے دوران زیادہ وقت گھر کے اندر گزارا جائے اور سورج کی جانب بالکل نہ دیکھا جائے. بچوں کو باہر نہ جانے دیا جائے. حاملہ خواتین خاص طور پر گھروں سے بالکل باہر نہ نکلیں ورنہ ان کے بچے میں کسی بھی قسم کی مستقل معزوری ہونے کا اندیشہ ہے.

سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے ایسے خاص چشمے بنائے جاتے ہیں جن پہ anti reflective coating کی تہہ چڑھی ہوتی ہے. یہ عام طور پر ویلڈر حضرات اپنے کام میں استعمال کرتے ہیں. آپ ان کی مدد سے اس قدرتی منظر کا نظارہ کر سکتے ہیں.

یاد رہے عام رنگدار چشمے یا گھروں میں پڑے X-Ray فلم اس مقصد کے لیے بالکل غیر موزوں ہیں کیونکہ انہیں اس مقصد کے لیے تیار نہیں کیا گیا ہوتا.

سورج گرہن دیکھنے کے لیے X-Ray فلم کا استعمال سب سے عام خطرناک لاعلمی ہے جس کے بارے میں عوام کو بتانے کی ضرورت ہے. کیونکہ یہ بالکل بھی ان شعاعوں سے آنکھوں کی خفاظت نہیں کرتے.

گرہن دیکھنے کی ذرا سی خواہش آپ کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کر سکتی ہے جس سے آگاہی ہمارا اولین فرض ہے.

ہمارے معاشرے میں جہالت کے سبب توہم پرستی بھی بہت عام ہے. لوگ سورج گرہن کو بہت سی آزمائشوں اور نحوست کا سبب بھی سمجھتے ہیں. مگر یاد رکھیں نظر کا چلے جانا کسی نحوست کا نہیں بلکہ گرہن کے طبعی (physical) اثرات کا نتیجہ ہے.

بہت سے نجومی اور کاہن موجودہ سیاسی حالات کی تلخی کو بھی سورج گرہن کے اثرات بتا کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں. حالانکہ یہ بالکل فضول بات ہے. کسی بھی آفاقی مظہر (phenomena) کا ہماری قسمت سے کوئی لینا دینا نہیں. نا تو ہمارا مذہب اس چیز کی اجازت دیتا ہے اور نا ہی آج تک اس کی کوئی ٹھوس سائنسی شہادت میسر ہو سکی ہے.

جب ہمارے نبی (ص) کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو لوگ اسے سورج گرہن کی نحوست قرار دینے لگے جس کے جواب میں نبی (ص) نے فرمایا:
"بے شک چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انکو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اسکی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ دو ” (بخاری)

اسلام نے سورج گرہن کے موقع پر ہمیں نفل نماز کا طریقہ سکھایا ہے جسے "نمازِ کسوف” کہا جاتا ہے. اس کا وقت گرہن شروع ہونے سے اس کے اختتام تک ہے. اس نماز میں انفرادی یا اجتماعی طور پہ دو دو کر کے نفل ادا کیے جاتے ہیں جس میں رکوع اور سجود کو لمبا کرنا نبی (ص) کی سنت ہے.

ایسے وقت میں گھروں کے اندر رہ کر اپنی آنکھوں اور ایمان کی خفاظت کیجئے. یہی اس وقت کا بہترین استعمال ہے.

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے