نام پاکستان مگر ہے ہندوستان کا  گاؤں ۔۔۔ جس میں ایک بھی مسلمان رہائش پذیر نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی مسجد واقع ہے۔  یہاں بنیادی طور پر مقامی قبائلی آبادی رہتی ہے۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے پورنیہ میں ضلع ہیڈکوارٹر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر سرینگر سب ڈویژن کی سنگھیا پنچایت میں پاکستان نامی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہاں چھوٹے گاؤں کو ٹولہ کہا جاتا ہے۔

پاکستانی ٹولے میں سنتھالی قبائل آباد ہیں۔ یہ ہندو مذہب پر عمل پیرا ہیں۔ اس محلے میں جگہ جگہ مٹی کے چبوترے ملیں گے جس پر شِو لنگ نما چھوٹے چھوٹے دو دیوتا نظر آتے ہیں جن پر کوئی رنگ و روغن نظر نہیں آتا ہے۔

ٹوٹی پھوٹی ہندی بولنے والے یہ سنتھالی قبائل کاشتکار ہیں

350 اہل ووٹروں والے اس گاؤں کی مجموعی آبادی تقریبا 1200 ہے۔

 تقسیم ہند سے قبل یہ  علاقہ بنگال کا اسلام پور ضلع کہلاتا تھا۔ مسلمانوں کی بنگلہ دیش ہجرت کے بعد گاؤں والوں نے ان کی یاد میں اس کا نام ’پاکستان‘ رکھا۔ ہجرت سے قبل مسلمانوں نے اپنی جائیدادیں مقامی ہندؤں کے حوالے کی تھیں۔ مقامی ہندؤں نے اپنے گاؤں کو پاکستان کا نام دے کر ان سے محبت کا اظہار کیا تھا۔

مقامی فرد کا کہناہے کہ  پہلے پاکستانی رہتے تھے۔ آزادی کے بعد انھیں حکومت نے دوسری جگہ بسا دیا۔ پھر ہمارے باپ دادا یہاں آکر بس گئے۔ لیکن پہلے یہاں پاکستانی رہتے تھے لہذا باپ دادا نے وہی نام رہنے دیا۔ کسی نے اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی اور آس پاس کے گاؤں والوں کو بھی اس سے کوئی پریشانی نہیں رہی۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔

یہاں کے باسیوں نے انتظامیہ کو درخواست دی ہے کہ ان کے گاؤں کا نام تبدیل کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے انہیں مسائل کا سامنا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ  گاؤں کے نام کی وجہ سے کوئی بھی اپنی بیٹیاں ہمارے بیٹوں کو دینے کے لیے تیار نہیں، ایسا ماحول بن چکا ہے جس کے باعث پاکستان کا نام ہمارے لیے پریشانی پیدا کر رہا ہے۔

دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ ایک دور میں ’پاکستان‘ گاؤں ہمسائیہ ممالک کے شہریوں کے مابین محبت اور پیار کی علامت سمجھا جاتا تھا، تاہم اس وقت گاؤں کے نام کی وجہ سے ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں شبہات کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان ٹولے میں حکومت کی کوئی بھی اسکیم نظر نہیں آتی۔ ایک قبائلی کا کہناہے کہ  ‘ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی سرکاری علامت ضرور موجود ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں آگن باڑی، سکول کچھ نہیں ہے کیونکہ ہمارے گاؤں کا نام پاکستان ہے۔‘

پاکستانی ٹولے میں ٹی وی نہیں ہے لیکن اس کے نام کی وجہ سے میڈیا والے یہاں ضرور آتے ہیں  یہ الگ بات ہے کہ ٹولے کے حالات جوں کے توں ہیں۔’

ٹولے کے لوگ کہتے ہیں  نیتاکے آنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، وہ بڑے لوگ ہیں چار دن ہمیں یاد رکھتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں ۔

بھارت میں انتہا پسندی اب اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ،  ریاست بہار میں انتہا پسندوں نے ’’پاکستان‘‘ نامی گاؤں کا نام تبدیل کرنے کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ انتہا پسندوں نے حکومت کو گاؤں کا نام ’’پاکستان‘‘ سے تبدیل کرنے کیلئے پٹیشن جمع کرا دی ہے ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے