ہماری ہرصبح کا آغاز چائے یا کافی سے ہوتا ہے۔ جن کی مہک پرتاثیر اجزاء اورمنفرد ذائقہ ہمیں چند منٹ میں تازہ دم کر دیتے ہیں۔ یوں ہمارے دن کا اختتام بھی عموما ًکافی سے ہوتا ہے جو تھکن سے چور جسم کو آسودگی عطا کرتی ہے۔ جسمانی توانائی بحال کرنے والے مندرجہ بالا تمام مشروبات میں ایک قدر مشترک ہے وہ ہے کیفین‘ایک ایساپرتاثیر جزہے جو ذہنی تھکاوٹ فوری ختم کرنے کی خاص صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیفین پر ایک نشہ آور لیبل لگادیا گیا ہے۔ یوں کیفین ایک متنازع جز کی حیثیت سے برسوں پر محیط تجربات کا مرکز رہی ہے۔ لیکن دور جدید میں غذائی تحقیق دانوں نے اس کے مضر اور مثبت اثرات پر نئے خطوط پر تحقیقات شروع کیں جن کے نتائج بے حد معلوماتی اور دلچسپ ہیں۔ آیئے ہم بھی جانیں کہ آخر کیفین کیا ہے؟ یہ ہماری عموی صحت پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کرتی ہے؟۔
کییفین کیا ہے؟
کیفین قدرے تلخ جز ہے جس کا آبائی ملک افریقہ ہے۔ایتھوپیا کی سرزمین پر اگنے والے جنگلی پودے کے چھال، تنے اور پتوں میں کیفین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے دنیا بھر میں تقریبا ساٹھ اقسام کے پودوں سے کیفین حاصل کی جاتی ہے۔ تحقیق دانوں کی رائے کے مطابق کیفین کی باقاعدہ دریافت AD575 ہے۔اس کا ابتدائی نام این وانArabian wine تھا ۔ایک جرمن دواساز فریڈر نے اس کیمیائی جز کو سب سے پہلے کیفین کا نام دیا۔ ابتداءمیں یہ جز مختلف امراض میں بطور دوا استعمال کیا جاتا رہا تاہم مسلسل تحقیقات کے بعد کیفین کو بحیثیت دوا نامور دوا ساز ادارے ادویات کی تیاری میں استعمال کرنے لگے ۔کیفین کی بڑھتی مانگ کے پیش نظر دنیا کے دس ملین سے زائد رقبے کیفین کی کاشت کیلے مختص کئے گئے یوں تو شمالی امریکہ میں کینٹگی نامی سروقد درخت کیفین کے حصول کا بڑاذریعہ ہیں۔ امریکہ میں اینڈیز نام کے پہاڑی جنگلات سے بھی کیفین حاصل کی جاتی ہے ۔کیفین کی اعلی ترین اقسام مندرجہ ذیل پودوں سے کشید کی جاتی ہے۔
کوفیا شرب آف ایریبیہ:
کوفیا شرب آف ایریبیا دنیا میں کیفین کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کافی پلانٹ کے نام سے معروف یہ پودا ایتھوپیا کے بعد سب سے زیادہ یمن میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس پودے کے گہرے سبز پتوں اور سفید پھولوں پرمشتمل چھل کوڈریوپ (Drupe) کہا جاتا ہے جس کے بیج میں موجود کپسٹر ول (Capestrol) نامی مادے سے کیفینحاصل کی جاتی ہے۔
کولانٹ:
دنیا میں کولانٹ کی 30 سے زائد اقسام پائی جاتی ہے ۔یہ پودا افریقہ کے بارانی علاقوں میں پایا جاتا ہے ۔کولانٹ کے بیج میں تھائی برومین ( Theobromince)نامی جز ہے جو تمام سوڈا مشروبات، سبز چائے اور چاکلیٹ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے ۔زمانہ قدیم سے کولائٹ کے بیج نظام تنفس کے امراض کیلئے بطور دو استعمال کئے جاتے ہیں ۔موجودہ دور میں یہ جز ادوایات کی تیاری میں بطور بنیاد شامل کیا جاتاہے۔
ٹی بش
ٹی بش نامی جھاڑی کا حقیقی نام کیلا سائنس(Comellia Since)ہے ۔چھوٹے بچوں کا یہ ایشیائی پودا سال بھر سرسبزوشاداب رہتا ہے۔ اس کی کلیاں،شگوفے اور پتے وائٹ ٹی، بلیک ٹی اور سبز کولا مشروبات میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ماہرین نے کیفین پر جاری تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس جز کے حوالے سے منفی تصورات دم توڑ رہے ہیں یہ جز محض تسکین بخش مادہ ہی نہیں بلکہ مہلک امراض سے بچاﺅ کی غذائی تدبیر بھی ہے۔ ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیفین صحت پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔
کیفین طاقتور مائع تکسید کی حامل:
کیفین ترش پھلوں کی مانند طاقتور مائع تکسید کی حامل ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈینٹ معدے، جگر اور بڑی آنت کے سرطان کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں کیفین میں ایک اہم جز میتھل پر ڈینیم (]Methylpriium) کی دریافت بھی سامنے آئی جو اینٹی کینسرکمپاﺅنڈ (anti-cancercompound) کہلاتا ہے۔ ہزاروں افراد کی غذائی عادات پر مشتمل تیرہ طویل مدتی تجربات کے نچوڑنے کیفین اور سرطان کے مابین منفی ربط کی نفی کر دی بلکہ ایک قدرتی نعمت ہے جو سرطان سے مکمل تحفظ فراہم کر تی ہے۔
ذیابیطس سے تحفظ:
دنیا بھر کی ہیلتھ یونیورسٹی کے محققین کا مشورہ ہے کہ بالغ خواتین و حضرات چھ کپ کافی روزانہ پی کر ذیابیطس ٹائپ ٹو سے محفوظ رہنے کی تدبیر کر سکتے ہیں ضعیف افراد تین سو ملی گرام کیفین کے استعمال سے الزائمر جیسے مرض کے خلاف دفاعی قوت کو مضبوط کر سکتے ہیں کیونکہ کیفین ارتکاز توجہ مشاہدہ اور یاد داشت میں بہتری لاتی ہے۔
ایک قدرتی درد کش دوا:
کیفین نکوٹین کی مانند نشہ آور نہیں تاہم یہ نکوٹین کی طرح دماغی خلیوں میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ذہنی دباﺅ کی ادویات میں سو ملی گرام سے زیادہ کیفین شامل کی جاتی ہے کیونکہ بذات خود کیفین ایک پین کلر ہے صرف 30ملی گرام کیفین ذہن کوتروتازہ کر سکتی ہے ایک تحقیق کے مطابق کیفین کو پارکنسن جیسی بیماری کے سدباب میں بھی مفید پایا گیا ہے۔ اس حوالے سے تیار کی جانے والی ادویات میں کیفین بنیادی جز کی حیثیت سے شامل کی جاتی ہے۔
کیفین دل کی محافظ:
کیفین کے بابت برسوں سے قائم یہ تصور قطعی غیر حقیقی ہے کہ دل کے امراض اور کیفین کے مابین کوئی ربط موجود ہے اس حوالے سے ایک لاکھ اٹھائیس ہزار دل کے مریضوں کی غذائی عادات کا تفصیلی جائزہ لیاگیا ثابت ہوا کہ دل کے مرض کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی ، فربہی اور غیر صحت مند غذائی عادات سے ہے جبکہ کیفین دل کی شریانوں میں لحمیات، روغنیات اور چربیلے مادوں کو جمنے سے روکتی ہے۔ یوں یہ دل کی حفاظت کیلئے بہترین جز ہے تاہم کیفین کے استعمال میں اعتدال سے کام لینا چاہئے۔
کیفین سے ہڈیوں کا بھر بھرا پن؟ محض ایک مفروضہ ہے:
ایک عام مفروضہ یہ بھی تھا کہ کیفین مشروبات ہڈیوں کے بھر بھرا پن آسٹیوپوروسس کی بیماری پیدا کرتے ہیں یعنی گرام کیفین ہڈیوں میں کیلشیم کے اخراج کا باعث بنتی ہے۔ غذائی تحقیق نے یہ اندیشہ غلط ثابت کر دیاہے کیونکہ ہڈیوں کے بھر بھرا پن کی وجہ کیلشیم حیاتین ڈی اور حیاتین سی کی قلت ہے۔ یہ حیاتین ہڈیوں میں کیلشیم کے انجذاب میں بہت معاون ہیں۔ ماہرین کی تجویز ہے کہ بالغ افراد کو ہزار ملی گرام سے زائد کیلشیم روزانہ ضرور لینا چائہے اگر معمر افراد کافی میں تین  کھانے کے چمچ  چکنائی سے پاک دودھ شامل کرلیں تو انہیں صحت کی بہتری میں کیفین کے دوہرے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے