ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کے خلاف آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر منشیات، موبائل فون، ٹی وی سیٹ برآمد ہوئے ہیں۔

جیل انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کے خلاف قیدیوں نے شدید احتجاج کیا اور جیل انتظامیہ کو سولہ نکات پر مشتمل مطالبات پیش کردیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قیدیوں سے برآمد ہونے والے موبائل فون، ٹی وی سیٹ اور منشیات  کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔

ذرائع کے مطابق آپریشن پر قیدیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جیل انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی بھی دھمکی دے دی ہے۔

ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ کی سگین صورتحال کے پیش نظر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے آئی جی جیل خانہ جات سے قیدیوں کی احتجاج کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور قیدیوں کے بارے قانون کا اطلاق سب پر بلا تخصیص ہوگا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے انتظامیہ کو جیل میں بجلی و گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے قیدیوں کو درپیش مختلف مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی یقین دھانی کراتے ہوَے کہا ہے کہ قیدیوں کو قانون کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کیے جائیں گے۔

واضع رہے کہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے گذشتہ روز ڈسٹرکٹ جیل ہدہ اور سول اسپتال جیل وارڈ کوئٹہ کا اچانک دورہ کیا

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے سزا یافتہ ملزمان کو وی آئی پی روم میں سہولتیں فراہم کرنے پر بریمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات کو تمام قیدیوں کے ساتھ جیل رولز کے تحت یکساں سلوک رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے جیل میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی نہ ہونے اور نئے تعمیر شدہ بلاک میں گیس کنکشن نہ ہونے پر کیسکو چیف اور ایم ڈی ایس ایس جی سی کو فوری طور پر طلب کر کے بجلی کی بلا تعطل فراہمی و فوری گیس کنکشن فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے