رابعہ رزاق

وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی لڑکی ہے جو ٹک ٹاک سے مشہور ہوتی ہے وہ ان حکومتی ایوانوں کے دروازے پاؤں کی ٹھوکر سے کھولتی ہے ، جہاں پرندہ َپر نہیں مارتا ،  وہ ان لاجزمیں جا کر بیٹھتی ہے جہاں ملکی سالمیت اوراستحکام کے فیصلے ہوتے ہیں اور وہ بڑھ دھڑلے کے ساتھ ان سب کی ویڈیو بنا کر شہرت کی مزید بلندیوں تک جا پہنچتی ہے ۔ پھر اس کے بعد ان ویڈیوز کا سلسلہ ایوانوں سے سیاستدانوں کے خلوت گاہوں تک جاپہنچتا ہے ۔ مشہور شخصیات کے ساتھ تصاویر بنوانے کی روایت چلی آ رہی ہے جو اتنی خوفناک نہیں جتنی کہ حریم شاہ کی لیک آڈیوز اور ویڈیوز ہیں ، روز ایک نئی کہانی سامنے آرہی ہے روز ایک نیا پنڈورا باکس کھل رہا ہے

اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام کیا جس میں انہوں نے حریم شاہ کے متعلق بتایا کہ وہ انہیں نہیں جانتے لیکن ان کے جہاز تک وہ کیسی پہنچی اور اس میں کیسے بیٹھی اور اس میں ان کی قیمتی چیزیں غائب تھی جس کے بعد انہوں نے پولیس میں رپورٹ بھی درج کروائی۔
اس کے بعد انہوں نے رائے ثاقب کھرل کے ساتھ ایک پروگرام کیا جس میں فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری کا نام لیا اور کہا کہ انہوں نے فواد چوہدری کی ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جو قابل اعتراض تھا جس پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے شادی کی تقریب میں ویڈیو ثبوت مانگے جس پر تلخی اس قدر بڑھی کہ مبشر لقمان کو تھپڑ مار۔ ایک نجی چینل  کے ایک پروگرام میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا جھگڑا ہوا جس میں ایک میں نے لگا دی اور ایک انہوں نے بھی لگائی ۔

ادھر حریم شاہ کو لے کر وزیر ریلوے شیخ رشید کی شہرت بھی آسمان کی بلندیوں تک پہنچی ویسے وہ خود بھی کم مشہورنہیں لیکن ان کی شہرت کو چار چاند لگائے حریم شاہ کے ساتھ گپ شپ نے اب اس پرشیخ رشید کا کہنا ہے کہ اگر فون پر بات کر لی تو کیا ہوا؟کوئی غلط بات نہیں کی ہے۔البتہ شیخ رشید نے اپنے نکاح سے متعلق حریم شاہ کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کوئی نکاح نہیں کیا اور نہ ہی متعہ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے تو متعہ کا مطلب ہی نہیں پتہ یہ ہوتا کیا ہے؟ جو کر رہے ہیں کرتے رہیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔

فیاض الحسن چوہان کی بھی ایک آڈیو لیک کی گئی ہے جس میں وہ حریم شاہ کو مشورے دے رہے ہیں۔اب ان ساری آڈیوز اور ویڈیوز کی بازگشت پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی ہورہی ہے ، جہاں بامقصد اور تعمیری گفتگو کے لیے ملک کا مقتدر طبقہ مل کر بیٹھتا ہے وہاں آج کل حریم شاہ کے کارنامے زیر بحث ہیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ حریم شاہ ہے کون اور اس کے مقاصد کیا ہیں سیاستدانوں کی ذاتی زندگی کی کے راز ادھیڑنے کے سوا ، اگر اس کے کچھ مقاصد ہیں تو اب تک اس پر ہمارے حکومتی اور تفتیشی ادارے کیا کررہے ہیں ۔

حریم شاہ کو بھی قندیل بلوچ کی طرح جان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے وہ بیٹھی ہوئی باکو میں ہیں لیکن ان کی ٹویٹ اور پوسٹ وہاں سے ہو کر بھی اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں ، اب وہ باکو میں ہے یا کسی اور ملک کے مہنگے ہوٹل میں ، اس کی تفتیش کرنے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ایک عام سی معمولی سی لڑکی جو اسلام آباد کے کسی فلیٹ میں رہائش پذیرتھی وہ حکومتی ایوانوں کی سیر کرتی ہوئی دوسروں ملکوں کی شہریت مانگنے نکل پڑی ہے ۔ فرار کا یہ راستہ دولت کمانے کی یہ ترغیب لمحہ فکریہ نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والے ہر باپ اور ہرماں کے لیے ایک نئی تشویش ہے ۔

کیا اس دن کے لیے لوگ بیٹیوں کی دعائیں مانگتے ہیں ، کیا بیٹی کی تربیت میں ماں باپ کوتاہی کر گئے یا آج کل کی اولاد ہی اتنی خود سر ہو گئی ہے کہ نہ اسے اپنی عزت کا خیال ہے اور نہ ہی اپنے پیدا کرنے والوں کی اور جب کوئی اپنی عزت کا خیال نہ کرے اور اپنے ماں باپ کی عزت بھی پیروں تلے روند ڈالے تو اس کے ملک و قوم کی عزت غیرت اور سالمیت کو داؤ پر لگانا کون سا مشکل کام ہے ۔

حریم شاہ ویڈیو اور آڈیو کے کھیل میں کس جانب جا رہی ہے اور اس کے کون کون سے عزائم پورے ہونے جا رہے ہیں اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا کیونکہ ہمارے اداروں کے پاس رپورٹ اس وقت آتی ہے جب سانحہ حادثہ اور واقعہ بیت چکا ہوتا ہے لیکن جو سانحہ اس کے باپ کے دل پر گزرا ہے اور جو قیامت اس کے خاندان پر گزر گئی ہے اس کا اظہار حریم کے والد نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا ہے ۔

یہ پیغام ایک ایسے بے بس باپ کا پیغام ہے جو بیٹی کو رحمت مانتا ہے لیکن وہ اس کی قسمت اور تربیت سے ڈرتا ہے وہ اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ اگر بیٹی بے لگام ہو جائے تو پورا خاندان پوری برادری اور پورا علاقہ اس کے نام سے بدنام ہوتا ہے ۔

وہ جو بڑے بزرگ دعا کرتے تھے کہ اللہ بیٹی دے عزت والی دے کچھ ایسی ہی آنسو میں لپٹی ہوئی آہ اس ویڈیو میں بھی ہے ۔ کیا اس کے بعد بھی ہمارے سیاستدانوں کو ہمارے زیرک حکمرانوں کو سمجھ نہیں آئے گی کہ حریم شاہ جیسے لوگ کہاں سے آتے ہیں اور کیوں آتے ہیں اور ان کی بیخ کنی کے لیے کیا کرنا چاہیے نہ کہ ان کے ہمدرد اور مربی بن کر ملک اور اداروں کی رسوائی کا انتظام کیا جائے ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے