کراچی کے ایک قبرستان میں خود کو پٹرول چھڑک کرآگ لگا کر خودکشی کی کوشش کرنے والا 35 سالہ میر حسن دوران علاج زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ میر حسن کو زخمی حالت میں سول ہسپتال برنس وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق میر حسن کو جب ہسپتال لایا گیا تو اس کے جسم کا 60 فیصد حصہ جھلسا ہوا تھا۔اہلخانہ نے بتایا کہ میر حسن 3 ماہ سے بے روزگار تھا اور مہنگائی سے تنگ تھا۔انہوں نے بتایا کہ مزدور میر حسن سے بچوں نے سردی سے بچنے کے لیئے گرم کپڑوں کی فرمائش کی جو وہ پوری نہ کرسکا اور دلبرداشتہ ہوکر خودسوزی کی۔

اہلخانہ کے مطابق میر حسن گدھا گاڑی چلاکر گزر بسر کرتا تھا اور پچھلے تین ماہ سے بیروزگار تھا۔ میر حسن نے مرنے سے قبل ایک نوٹ لکھا جس میں وزیر اعظم سے اپیل کی کہ اہل خانہ کو گھر اور روزگار فراہم کیا جائے۔انسان دنیا کا ہر دکھ مصیبت آزمائش برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے بچے کی بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتا۔جو حکومت اپنی ریاست کے معصوم بچوں کو بھی بھوک اور موسموں کی سختی سے نہ بچا سکے اس حکومت کو گھر چلے جانا چاہئے۔ پاکستان کا غریب بیچارہ تو سسک سسک کر مر گیا۔اس ملک کی مہنگائی اور بے روزگاری نے غریب عوام کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے،حکمرانوں کی کم فہمی کے باعث ملک کو اس وقت شدید معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے۔حکومت کے ایک سال میں قرضوں میں 7 ہزار 500ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو پچھلی حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کے مجموعی

قرضے کے تقریباً برابر ہے. بیرونی قرضے میں 3ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے، ابھی تک وفاقی حکومت کا قرضہ 35 ہزار ارب روپے ہوگیا جبکہ اگست 2018 میں مجموعی قرضہ 25 ہزار ارب روپے تھا. ایسی غیر یقینی صورتحال میں پاکستان میں سرمایہ کاری مشکل ہوگئی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں مہنگائی کی ایسی مثال نہیں ملتی، اشیائے ضرورت سے لے کر جان بچانے والی ادویات تک کی قیمتوں میں خوف ناک اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف اور ڈالر کی وجہ سے ہماری معیشت کے فیصلے واشنگٹن میں ہو رہے ہیں جو لمحہ فکریہ اور تشویشناک ہے۔ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی ایماء پر ہی بجلی، گیس اور پیڑولیم منصوعات کی قیمتوں میں ہر دوسرے ماہ اضافہ کر کے مہنگائی کے ذریعے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔بجلی، گیس اور پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے آٹا، چینی، دالیں، چاول، سبزیاں اور ضروریات زندگی کی تمام اشیاء غریبوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔پاکستان میں خودکشی کے بارے میں سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر اعدادوشمار موجود نہیں ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق ملک میں روزانہ 15 سے 35 افراد خودکشی کرتے ہیں یعنی تقریباً ہر گھنٹے بعد ایک شخص اپنی جان لے رہا ہے۔۔ صوبہ سندھ میں خودکشی کے اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، پچھلے 5 برس میں 1300 سے زائد افراد نے اپنے ہی ہاتھوں زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ عمر کوٹ، تھر اور میرپور خاص میں خودکشی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، صرف عمر کوٹ، میرپور خاص اور تھر پارکر میں 646 واقعات رپورٹ کیے گئے، خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں اور خواتین کی ہے، پچھلے ایک سال میں ان تین اضلاع میں 160 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ صوبے میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات پر سندھ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ خودکشی کے رجحان میں 2018 ء میں خطرناک ترین اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک سروے کے مطابق خودکشی کرنے والے 81 فیصد افراد کا تعلق پسماندہ طبقے، 18 فیصد کا متوسط طبقے، جب کہ صرف ایک فیصد کا تعلق صاحبِ ثروت طبقے سے تھا۔ ایک مستند سروے کے مطابق خودکشی کی سب سے بڑی وجوہات میں غربت، بے روزگاری، جہالت، معاشی صورت حال، زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونا، قرضوں اور سود میں جکڑے ہونا، پسند کی شادی نہ ہونے سمیت تشدد، رویوں میں بدصورتی اور منشیات کا استعمال شامل ہیں۔ پاکستان میں 60 فیصد پڑھا لکھا نوجوان طبقہ موجودہ صورتحال میں بیروزگار ہے یا پھر کوئی دوسرا کاروبار کرنے پر مجبور ہے، جبکہ 30 فیصد سے زائد نوجوان ایسے بھی ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود چوری، اغوا اور ڈاکوں کی وارداتوں میں گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔۔ ملک میں موسم سرماہوتاہے تو ملک کے پچاس فیصد عوام میں سردی کے کپڑے خریدنے کی طاقت نہیں ہوتی اور وہ سردی سے ٹھٹھر ٹھٹھر کرکیڑے مکوڑوں کی طرح مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔بچوں کو لنڈا بازار میں فروخت ہونے والی گوروں کی اترن سے ڈھانپنا بھی محال ہو جاتاہے کیونکہ مہنگائی تولنڈے بازار میں بھی بہت زیادہ آنے لگی ہے۔ حکومت نے اعتراف کیا کہ جولائی تا دسمبر مہنگائی میں اضافہ ہوا‘ سویابین‘ خام تیل‘ دالوں اور پام آئل کی قیمتوں میں اضافہ‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ردوبدل‘ ڈیڑھ ارب کی تنوروں کو سبسڈی اور 226ارب روپے کی بجلی کے لائف لائن صارفین کو سبسڈی مہنگائی کی وجہ بنی‘ 14.9فیصد تک مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جس معاشرے میں نا انصافی ہو وہاں برکت نہیں رہتی، ہم نے ملک کے غریب طبقہ کے لئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 190 ارب روپے کا احساس پروگرام پیش کیا ہے، مالی وسائل میں بہتری کے ساتھ غریبوں کی فلاح کے لئے فنڈز مزید بڑھائے جائیں گے، اسی طرح پناہ گاہیں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی بے گھر شخص چھت سے محروم نہ ہو، اس مقصد کے لئے صوبہ پنجاب اور خیبرپی کے میں 170 پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں، اسلام آباد میں پولیس کو ہدایت کی ہے کہ رات کو گشت کے دوران کوئی سڑک پر سویا ہوا ملے تو اسے پناہ گاہ میں پہنچایا جائے۔ وزیراعظم سے گزارش ہے کہ قبرستان کی تعداد بھی بڑھا دیں اور کفن دفن کی مفت سہولت بھی مہیاکر یں تا کہ مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں مرنے والے غریب کے خاندان کو آخری رسومات کے بوجھ سے تو ریلیف مل سکے۔بقول وزیراعظم بلا شبہ سکون آرام قبر میں ہی میسر ہو سکتا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے