بینائی کی بہتری کے لیے ڈاکٹر ایک عرصے سے مچھلی کے تیل یا تیل بند گولیاں تجویز کرتے آرہے ہیں، اس ضمن میں مختلف ادوار میں مختلف تحقیق کی گئیں اور کبھی اس کے حق میں اور کبھی اس کی مخالفت میں نتائج سامنے آئے۔

اب لوبورو یونیورسٹی کے سائنس داں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مچھلی کے تیل اور اس سے بنی گولیوں میں موجود فیٹی ایسڈ ، ڈوکوسا ہیکسا نوئک ایسڈ (ڈی ایچ اے) جو کہ بعض تیل دار مچھلیوں مثلاً سرمئی اور ٹیونا سے کشید کیا جاتا ہے، اس کا باقاعدہ استعمال آنکھ کو رات کی تاریکی سے مطابقت کے قابل بناتا ہے، مطلب یہ کہ کم ہوتی ہوئی روشنی میں آنکھ ماحول کے لحاظ سے خود کو منظم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

ڈی ایچ اے میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور انسانی جسم اسے نہیں بنااتا۔ اس کی کمی السی کے بیج اور مچھلی کے روغن سے پوری کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں لوبورو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نےایک چھوٹا سا مطالعہ کیا۔

ماہرین نے 19 رضاکاروں کو بھرتی کیا اور انہیں مدھم ہوتی ہوئی روشنی میں دیوار پر چسپاں بعض نمبر پڑھنے کا کہا لیکن اس سے قبل رضا کاروں کو دن میں چار مرتبہ 260 ملی گرام ڈی ایچ اے کی گولی اور 780 ملی گرام ای پی اے (ڈی ایچ اے میں ڈھلنے والا ایک اور فیٹی ایسڈ) کی گولیاں کھانے کو کہا گیا۔

چار ہفتوں بعد ماہرین سے کہا گیا کہ وہ اسی طرح کم ہوتی ہوئی روشنی میں اعداد پڑھنے کی کوشش کریں۔ یہاں چار ہفتوں تک ڈی ایچ اے کیپسول کھانے والے رضا کاروں نے پہلے کے مقابلے میں 25 فیصد دھندلاہٹ میں بھی دیوار پر لکھا نمبر دیکھا اور اسے پہچان لیا۔

اس دوران تمام شرکا کے خون کے نمونے بھی لیے جاتے رہے اور خون میں فیٹی ایسڈ کی براہِ راست مقدار کو بھی نوٹ کیا جاتا رہا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ جسم میں فیٹی ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے اندھیرے میں بہتر طور پر دیکھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے