چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس آگے بڑھ رہا ہے ،  مختلف ممالک میں حکام نے چین میں وائرس سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے اپنے لوگوں کی مدد کے لیے احتیاطی تدابیر پر کام شروع کردیا ہے، تاہم پاکستانی اب تک مدد کے منتظر ہیں۔

 ووہان کی ایک یونیورسٹی کے طالبِ علم عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ انہوں نے چین میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد انہیں وہاں سے تسلی بخش کال موصول ہوئی تھی لیکن اب تک مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

’باقی ملکوں کے سفارتخانے، جیسے مراکش اور انڈین سفارتخانوں نے ووہان میں موجود اپنے طلبہ کا ڈیٹا اکھٹا کر کے انہیں یہاں سے نکالنے کی تدابیر شروع کر دی ہیں۔ لیکن پاکستان والوں نے مجھے کہا ہے کہ آپ خود ڈیتا اکھٹا کرلو۔‘

واضح رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے دنیا بھر میں 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 1300 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پاکستان نے بھی اس حوالے وارننگ جاری کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کرونا وائرس کی وبا سے ووہان میں لاک ڈاؤن کو چار دن ہوگئے ہیں اور اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

چین میں موجود پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان سے اب تک چین میں رہنے والے کسی پاکستانی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

چین میں پاکستانی سفارتخانے میں کمیونیٹی اینڈ ویلفئیر کے شعبے سے منسلک محمد اکرم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر نمبر جاری کردیے ہیں۔ ’کسی کو کوئی مسئلہ ہو تو بتائیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کسی پاکستانی کے رابطہ کرنے پر وہ مدد کیسے فراہم کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ان سے رابطہ کرے گا تو وہ اس کی مدد کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ووہان میں راستے بند ہیں لیکن انہوں نے چینی حکام کو ویزا کے مسائل حل کرنے کے لیے خط بھی لکھا ہے۔

تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ عائشہ فاروق کے مطابق چین میں 28 ہزار پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ 800 تاجر چین میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ایک ہزار پانچ سو وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ووہان میں 500 کے قریب پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔

عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ چینی افراد تو نکل کر گاڑیوں میں اپنے مقامی علاقوں میں پہنچ گئے ہیں لیکن پاکستانی طلبہ کے لیے تو ان کی ڈورمیٹری ہی سب کچھ ہے

’اب تو ہم اپنے کمروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ڈورم میں بھی جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ نہ ان کے پاس اپنی حفاظت کے لیے ماسکس ہیں نہ اب زیادہ کھانا بچا ہے۔

’ایک خوف کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ میرے والدین کو پتہ نہیں وہ پریشان ہوتے ہیں، روتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ووہان کے کچھ ہسپتالوں میں ان کے دوست کام کرتے ہیں، جنہوں نے چین کی حکومت کو وائرس کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا لیکن حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

عبدالرحمٰن نے بتایا کہ چین میں پہلے سے ہی نئے قمری سال کے سبب کافی دکانیں اور کاروبار جنوری 24 سے 30، 31 تک بند رہنے تھے۔ اور جو کھلی تھیں وہ 20 جنوری سے کرونا وائرس کی وبا پھیلنے سے بند ہونا شروع ہوگئیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے