سپریم کورٹ میں سندھ کے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے نیب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے جس مقصد کے لیے نیب بنا تھا وہ مقصد ختم ہوگیا ہے نیب ایک استحصالی ادارہ بن چکا ہے۔

چار گواہان کی جگہ آپ مقدمے میں دو سو گواہ بنالیتے ہیں۔ ایک سال میں مقدمات کا فیصلہ ہونا چاہیے چھ ، چھ سال گزر جاتے ہیں۔ ملک کی بہتری کیلئے آپ نے جو کردار ادا کرنا تھا آپ اس میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ بندے کو بند کردیتے ہیں وہ سالوں جیل میں پڑا رہتا ہے۔ آپ کے اپنے لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اس بندے کا قصور نہیں۔ آپ پر تو اربوں روپے کا جرمانہ ہونا چاہیئے،یہ جرمانہ آپ کی جیبوں سے جانا چاہیئے۔ حکومت ایک روپیہ نہیں دے گی۔ آپ کے اندر کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، آپ کے افسران میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ تفتیش کو انجام تک پہنچائیں۔ گندم والا مقدمہ آپ کو یاد ہے ،اس میں ایک آدمی نے خودکشی کی،آپ نے اصل بندے کے خلاف چالان ہی نہیں کیا اور عزت دار آدمی نے خودکشی کرلی،کیا سسٹم چل رہا ہے ہمارے یہاں۔

سپریم کورٹ نے سندھ کول اتھارٹی کیس اور صاف پانی کیس کو یکجا کرنے کا حکم دیا جبکہ نیب کو مقدمات کے حوالے سے ریفرنس و دیگر معاملات ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوران سماعت واٹر کمیشن کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل رپورٹ پر عملدرآمد یقینی بنائیں،صاف پانی کی فراہمی سے متعلق موثر قانون سازی کے لیے اقدامات کیے جائیں،واٹر کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق سندھ کے ہر ضلع سے سہہ ماہی رپورٹ جمع کروائی جائے۔

سپریم کورٹ نے سندھ واٹر کمیشن اور اس کے سیکریٹریٹ کو تحلیل کردیا عدالت نے ریمارکس دیئے لاکھوں روپے کھا لیے گئے ایک بھی آر او پلانٹ نہیں لگا،سب پیسے کھا گئے ہڑپ کر گئے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے