مغربی ادب سے ترجمہ

مترجم : احمد اخلاق خان

لوگ صبح سے جمع ہونے لگے تھے‘ آنے والوں کی قطار مسلسل لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ بڑے چوک میں ٹریفک کنٹرول کرنے والے خودکار سگنل اور روبوٹ سپاہی موجود تھے‘ مگر ٹریفک نہیں تھا کیونکہ آج عام تعطیل تھی۔ تعطیل کے موضوع پر رات ٹی‘ وی پر ایک فلم بھی دکھائی گئی تھی‘ فلم نے شہریوں کا جوش وخروش بہت بڑھا دیا تھا۔ لوگ دُور دُور سے آرہے تھے۔ خود کار بسیں سیکڑوں سواریاں لاتی جا رہی تھیں۔ آج جشن تھا۔ اب یہ جشن سال میں دو یا تین بار ہی منایا جاتا تھا۔ اِس موقع پر دکانیں بند رہتی تھیں اور لوگوں کو راشن ایک دن قبل دے دیا جاتا تھا۔
نوجوانوں اور بزرگوں کے درمیان ایک چھوٹا سا بچّہ بھی کھڑا تھا۔ طویل قطار میں دُور سے اُس کی شکل نظر نہیں آرہی تھی۔ موسم ٹھنڈا تھا۔ سورج نکلے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی اس لیے دھوپ میں ابھی گرمی نہیں تھی۔بچے نے اپنی سرخ نیکر کی جیب سے چیونگم نکالی‘ یہ چیونگم دن بھر استعمال کے باوجود میٹھی رہتی تھی‘ وہ اُسے چبانے لگا۔ سردی سے اُس کی ناک سرخ ہو رہی تھی۔ ”تم اتنی جلدی کیسے جاگ گئے بیٹے؟“ بچے کے پیچھے کھڑے ایک بے حد موٹے شخص نے منحنی آواز میں پوچھا۔
”میں بھی سب کچھ دیکھنا چاہتا ہوں۔“ بچے نے اپنے ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا۔
”تمہاری عمر ابھی اِس ہجوم میں کھڑے ہونے کی نہیں ہے۔ تم جا کر کھیلتے کیوں نہیں؟ اپنی جگہ کسی اور کو دے دو۔“ موٹا بولا۔
”بچے کو کھڑا رہنے دو۔“ سامنے سے ایک بوڑھے نے غرّا کر کہا۔ ”دیکھتے نہیں‘ یہ کتنے شوق سے آیا ہے۔“
”ٹھیک ہے‘ ٹھیک ہے۔“ موٹا گھبرا گیا۔ ”میں تو صرف اس لیے کہہ رہا تھا کہ اتنا چھوٹا بچہ یہاں کیسے آگیا۔“
”مجھے یہ بچہ باذوق نظر آتا ہے۔“ بوڑھے نے شفقت سے بچے کو دیکھا۔’تمہارا نام کیا ہے؟“
”ٹام۔“ بچے نے بتایا۔
”بہت خوب ۔“ بوڑھے نے بلند آواز سے کہا۔ ”دیکھنا‘ یہ ننّا منا ٹام پورے خلوص سے اُس پر تھوک کے دکھائے گا‘ ہے نا ٹام؟“
قطار میں کھڑے ئے لوگ ہنسنے لگے پھر باتوں میں مصروف ہو گئے۔ ایک پستہ قد شخص گرما گرم کافی بیچ رہا تھا۔ دس ڈالر فی مگ‘ مگر کافی خریدنے والے بہت کم تھے۔ فاضل رقم تھی کس کی جیب میں؟ حکومت عوام کو ہر ضرور ت فراہم کرتی تھی‘ لیکن کافی جیسی فضولیات کے لیے کسی کو کچھ نہیں ملتا تھا۔
ٹام نے نیکر کی جیبوں میں ہاتھ ڈا ل لیے اور آگے جھانک کر یکھا۔ اُسے کے آگے دو ڈھائی سو لوگ ہوں گے اور پیچھے ہزاروں لوگ۔ وہ خوش نصیب تھا کہ صبح صبح یہاں آکر کھڑا ہو گیا ورنہ جگہ نہ ملتی۔ اُس نے بوڑھے سے سوال کیا۔ ”لوگ کہتے ہیں کہ وہ مسکراتی ہے؟“
”ہاں۔“ بوڑھے نے زہر خند سے تصدیق کی۔
”اور سنا ہے اُسے کینوس پر آئل پینٹ سے بنایا گیا ہے؟“
”ہاں۔“ بوڑھے نے کہا۔ ” اِسی باعث مجھے شبہ ہے کہ وہ اصلی نہیں ہے۔ میرے علم کے مطابق مدّتوں قبل اُسے لکڑی پر بنایا گیا تھا۔“
ننھے ٹام نے اضطراب اور بے یقینی سے پوچھا۔ ”یہ بھی سنا ہے کہ وہ چار پانچ سو سال پُرانی ہے؟“
”شاید اس سے بھی زیادہ پُرانی۔ ویسے نہ معلوم‘ یہ کون سا سَن ہے۔ “ بوڑھا بڑبڑایا۔
”یہ بیس سوا کتالیس ہے۔“ ٹام نے تیزی سے جواب دیا۔
”ہاںلیکن یہ تو سرکاری اعداد ہیں۔ ہو سکتا ہے ‘ یہ جھوٹ ہو۔ ممکن ہے‘ صحیح سَن تین ہزار ہو یا چار ہزار ہو۔ تاریخ نے ہمارے ساتھ بڑا دھوکا کیا ہے‘ ہمیں بہت دکھ پہنچائے ہیں۔ تاریخ سے ہم سب کو نفرت ہے۔ “ بوڑھے کی آواز بلندہوتی گئی۔ آس پاس کے حاضرین نے اُس پر گہری نگاہ ڈالی۔
کچھ دیر خاموشی رہی پھر ٹام نے پوچھا۔ ”ہم اُسے کتنی دیر میں دیکھ سکیں گے؟“
” بس بیٹے! تھوڑی سی دیر میں۔“ بوڑھے نے کہا۔ ”اُسے ایک چبوترے پر رکھا گیا ہے۔ چبوترے کے گرد رسّیوں کا حلقہ ہے۔ رسّیا ںاس لیے باندھی گئی ہیں کہ ہم میں سے کوئی مشتعل ہو کر اُس پر حملہ نہ کر بیٹھے۔ ہم قطار میں باری باری اُس کے سامنے سے گزریں گے اور یاد رکھنا ٹام! اُسے پتھروغیرہ مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔“ ٹام نے اثبات میں سر ہلاکے اِدھر اُدھر دیکھا۔ سورج آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا۔ ہوا میں اب ٹھنڈک نہیں رہی تھی۔ تماشائی اپنے اپنے کوٹ اُتار رہے تھے۔
”ہم قطار میںکیوں کھڑے ہیں؟ “ ٹام نے بھولپن سے دریافت کیا۔ ”ہم اُس پر تھوکنے کیوں آئے ہیں؟“
بوڑھے نے آسمان پر نگاہ کی۔” اس کی بہت سی وجوہ ہیں ننّے! یہ سب نفرت کا کھیل ہے۔ وہ نفرت جو ہمیں اپنے ماضی سے ہے ‘ ماضی کی ہر چیز سے ہے۔ ماضی ہی نے‘ تو ہمیں اس حال کو پہنچایا ہے۔ شہر آدمیوں سے اور سڑکیں ٹریفک سے بھری ہوئی ہیں۔ ہماری زمینیں تاب کاری کے سبب بنجر ہیں۔ ایٹمی حملوں نے یہ مٹی فصلوں سے محروم کر دی ہے۔ ہمیں گزری ہوئی صدیو ںسے نفرت ہے ۔ سمجھ رہے ہو نا؟“ ٹام نے اقرار میں گردن ہلائی۔ اُس کی نظروں میں اب بھی تجسّس تھا۔ بوڑھے کی آنکھوں سے وحشت جھانکنے لگی۔ ”اس ماضی کے باعث ہم ایک کمزور نسل بن گئے ہیں۔ فضا میں پھیلی ہوئی جوہری تاب کاری نے ہمارا جسمانی نظام کمزور کر دیا ہے۔ ہم سگریٹ نہیں پی سکتے‘ شراب نہیں پی سکتے‘ ہمیں اُسی خوراک پر اکتفا کرنا پڑتا ہے جوحکومت دیتی ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے ماضی کے سبب ہے۔ خون کے دباﺅ کی وجہ سے ہم بہت زیادہ اشتعال میں نہیں آسکتے‘ بہت زیادہ خوش نہیں ہو سکتے۔ ہمارے ماضی نے ہمیں نحیف‘ لاغر اور بے بس بنا دیا ہے۔ اب ہم صرف یہ جشن منا سکتے ہیں۔“
ننّے ٹام نے پھر سر ہلایا۔ اُسے یاد آیا کہ گزشتہ جشن کے دوران اُنھوں نے اِسی چوک پر تمام کتابیں جلا دی تھیں‘ کتابوں میں عجیب وغریب افسانے‘ ناول اور ڈرامے تھے۔ اور اُس سے پہلے جو جشن ہوا تھا اُس میں اُنھوں نے تمام شاعری نذرِ آتش کر دی تھی۔ صدیوں پرانی شاعری‘ قدیم نسخے اور مجلّد دیوان۔ ہر مرتبہ اُسے یہی بتایا گیا تھا کہ یہ سب ماضی کی یادگاریں ہیں۔ ماضی ‘ جس سے صرف نفرت کی جا سکتی ہے۔ یہ سبق اُسے اتنی دفعہ پڑھایا گیا تھا کہ ازبر ہو چکا تھا۔ اُس کی ماں اُس سے کہتی تھی کہ کئی سال پہلے کے جشن میں دنیا کے آخری اخبار کی آخری کا پیاں تباہ کر دی گئی تھیں اور ایک اور جشن میں موسیقی کے کیسٹ جلائے گئے تھے‘ اُن میں بیتھوون‘ موزارٹ اور نہ جانے کون کون سے موسیقاروں کی دُھنیں محفوظ تھیں۔
قطار چیونٹیوں کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔ چار پانچ منٹ بعد کہیں وہ ایک قدم آگے بڑھتے۔ سورج آسمان پر سفر کر رہا تھا۔ آخر ٹام چبوترے کے پاس پہنچ گیا‘ اُس کے گرد مضبوط رسیّوں کا حلقہ تھا اور چاروں کونوں پر خوںخوار قسم کے سپاہی کھڑے تھے‘ سورج سر پر آچکا تھا‘ لوگ بے حال تھے۔ بوڑھے کے پورے چہرے پر وحشت اور بے پناہ نفرت تھی۔ وہ جلد سے جلد آگے بڑھ کر اپنی نفرت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔
رسیّوں کے حلقے میں چبوترے پر ایک قدیم تصویر آویزاں تھی‘ ایک مشہور شاہ کار۔ بوڑھے نے پوری قوت سے اُس پر تھوکا۔ اُس کی ہر حرکت سے گہری اور شدید نفرت جھلک رہی تھی۔ ”ہم سب تم سے نفرت کرتے ہیں۔“ بوڑھے نے چِلّا کر بے جان تصویر سے کہا۔ اُس کی باتیں قریب کھڑے لوگوں اور پولیس والوں کے لیے دل چسپی کا باعث تھیں۔ سب کو خوشی تھی‘ سب کے جذبات یہی تھے‘ سب نفرت میں مبتلا تھے مگر ٹام گنگ کھڑا تھا۔
تصویر ایک عورت کی تھی‘ عورت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ ٹام اُسے دیکھتا رہا۔ بوڑھے نے اُسے شہہ دی۔ ” تھوکو ٹام! تھوکو۔“ مگر ٹام کا حلق خشک تھا۔ تصویر اُسی کو دیکھ رہی تھی۔ عورت اُسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ ”تھوکو ٹام!“ بوڑھا چیخا۔”یہ ہمارا قابلِ نفرت ماضی ہے۔ اسی نے ہمیں تباہ کیا ہے۔ آگے بڑھو میرے بچے!“
”یہ…. یہ….“ ٹام کی آواز سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی۔ ”یہ….کتنی پیاری…. “ اُس کی آواز کسی نے نہ سنی۔
بوڑھے نے مجنونانہ انداز سے ہاتھ فضا میں لہرایا۔ ”اچھا تمہاری طرف سے میں اس پر تھوکتا ہوں۔“
ٹام جیسے کچھ نہیں سُن رہا تھا‘ کچھ نہیں دیکھ رہا تھا۔ عورت اُسے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی۔ مسکراہٹ نے گویا یہ منظر‘ یہ ماحول اور یہ پوری دنیا لپیٹ میں لے لی تھی۔ ہر طرف‘ ہر چیز مسکرا رہی تھی۔ ٹام کو یا دآیا‘ کسی نے اُسے بتایا تھا کہ اِس تصویر کا نام مونالیزا ہے۔ ایک صدی قبلِ اسے عظیم فن پارہ سمجھا جاتا تھا۔
”توجہ توجّہ ۔“ ہنگامے میں کوئی چلایا۔ اچانک خاموشی چھا گئی۔
ایک پولیس افسر کوئی سفید کاغذ ہاتھ میں لیے ایک چبوترے پر کھڑا تھا۔ سب لوگ ہمہ تن گوش ہو گئے۔ ” حاضرین! ایک اعلان سُنیے۔ حکّام نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ نفرت انگیز تصویر فی الفور مجمع کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ اسے تباہ کر کے ا پنے جذبات….“
معلن کی آواز کان پھاڑ دینے والے شور میں گم ہو گئی۔لوگوں کا ایک طوفان آگے بڑھا اور تصویر پر ٹوٹ پڑا۔ ٹام تنکے کی طرح ہوا میں اُچھلا‘ ہجوم میں اُس کی سرخ نیکر کبھی کبھی نظر آجاتی۔ بے شمار ہاتھ تصویر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ٹام رسیّوں سے اُلجھ کر لوگوں کے ساتھ تصویر کے پاس جا گرا۔ ایک لات اُس کی کمر پر لگی۔اُسے ساری دنیا گھومتی محسوس کی۔ پھر اُس کے ہاتھ کینوسک ے کسی ٹکڑے پر پڑے۔ اُس نے پوری قوت سے وہ ٹکڑا کھینچا۔ کینوس پھٹنے کی آواز آئی۔ اُسی وقت ایک آدمی اُس سے ٹکرایا۔ ٹام کینوس کے چھوٹے سے ٹکڑے سمیت پاگلوں کی طرح لڑتے‘ چیختے ہجوم سے باہر جا گرا۔ وہ اُٹھا‘ بھاگا‘ کسی اور سے ٹکرا کر پھر گرا اور پھر اُٹھ کر بھاگا۔ اُس کی نیکر مٹی سے اَٹ گئی تھی۔ اُس کے معصوم چہرے پر دُھول اور آنسوﺅں کی لکیریں تھیں‘ وہ روتا رہا اور بھاگتا رہا۔ کینوس کا ٹکڑا اُس نے ہاتھوں میں بھینچ رکھا تھا۔
کمرے میں ٹیلی وژن پر خبریں آرہی تھیں”…. عوام نے اعلان ہوتے ہی بھرپور نفرت سے مونا لیزا تباہ وبرباد کر دی‘ یہ اُس عہد کی یادگار تھی جس نے ہمیں اور ہماری نسل کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ اطلّاعات کے مطابق اب اُس پینٹنگ کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہا۔“
ٹام سیڑھیوں پر اندھیرے میں بیٹھا تھا۔ آسمان پر چاند تھا۔ گھر میں شمسی توانائی سے بتیاں جل رہی تھیں مگر چاندنی اُن سے کہیں زیادہ سکون بخش تھی۔ درجہ حرارت پر قابو پائے ہوئے گھروں کے مقابلے میں باہر سردی تھی‘ مگر بہت خوش گوار تھی۔ ٹام نے چاندنی اور سردی میں کینوس کا ٹکڑا کھولا۔ یہ اُس تصویر کے ہونٹ تھے‘ تصویر کے مسکراتے ہوئے ہونٹ…. زمین پر مسکراہٹ بچا لی گئی تھی‘ محفوظ کر لی گئی تھی۔
ٹام نے چاند پر ایک نظر ڈالی اور کینوس کا ٹکڑا احتیاط سے تہ کر کے واپس جیب میں رکھ لیا۔ انہوں نے مونالیزا تباہ کر دی مگر اُس کی مسکراہٹ محفوظ تھی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے