جیالوجسٹس کا ماننا ہے کہ زلزلوں کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں ، ان میں ایک اہم وجہ زمینی پلیٹوں کا کسی ارضیاتی دبائو کا شکار ہو کر سرکنا یا ٹوٹنا ہے ۔ یہ تھیوری کافی معروف ہے اور پلیٹس ٹیکٹونکس کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ کچھ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ زلزلے زمین کے اندر گرم ہوا کے دباو سے بھی آ سکتے ہیں ، ناسا کے کچھ سائنسدان (مثلا ہینسن) کا ماننا ہے کہ زمین گلوبل وارمنگ نہیں بلکہ ice age کیطرف پلٹ رہی ہے اور ٹھنڈی ہو رہی ہے ۔ اس گرم سرد ہونے کے عمل میں جب اسکی سطح چٹختی ہے تو زلزلے آتے ہیں ۔

اوریا مقبول جان ، حسن نثار وغیرہ سائنس اور ناسا کا ناس مار کر زلزلوں کی اپنی توجیہات پیش کرتے ہیں ۔ بروایت 2015 میں اوریا مقبول جان نے تو آنے والے سالوں میں زلزلوں اور سونامیوں کی پیشن گوئی کر بھی دی تھی ۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی بینکنگ میں سود کا نظام جو ہے وہ تباہی لیکر آئے گا (اس میں ورلڈ بنک بالکل نہیں آتا کیونکہ اوریا مقبول جان نے اسکے ساتھ کام کر کے آمدنی پاک کر دی ہے) ۔ زلزلے وغیرہ کی دیگر وجوہات میں نماز سے دوری ، اذان پر پابندی ، عریانی وغیرہ بھی بتائی جاتی ہیں ، اللہ کا عذاب بتایا جاتا ہے ۔

ایک تو ہم نے ویسے ہی سائنس اور ٹیکنالوجی میں کسی قسم کی ترقی کو حرام جان رکھا ہے ، ہماری ایجادات میں پیپسی کی بوتل سے لیمپ بنانا ، گدھے کو دائرے میں گھما کر پنکھا چلانا ، شلوار کی دو ٹانگوں سے کولر کی ہوا تقسیم کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔ اوپر سے اوریا مقبولوں نے قوم کی مت مار کر رکھ دی ہے ۔ ہم نے خود شناسی تو نہ کی ہاں اللہ کو اپنی جیسی کوئی چیز سمجھ لیا ۔ وہ اللہ جو رحمان بھی ہے رحیم بھی ۔ وہ جو ستر ماوں سے زیادہ چاہنے والا ہے ، وہ جو تنہائیوں میں خود وجود کے اندر بولتا ہے ، سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، جواب دیتا ہے ، دھڑکتا ہے ۔ وہ جس نے آئمہ و معصومین جیسے تحائف ہمیں دیئے ، جس نے زینب ع و علی ع کو ہم میں بھیجا ، ایسا مہربان اللہ ، ایسا شفیق اللہ ، ایسا انڈر اسٹینڈنگ اللہ یکدم (معاذ اللہ) جلال میں آکر زمین الٹ دیتا ہے ؟ اور زلزلے ، سیلاب آتے ہیں تو زیادہ نقصان کمزوروں ، غریبوں ، ناداروں ، بچوں کا ہوجاتا ہے ۔ عذاب_الہی کا یہ تصور ہر گز نہیں کہ طاقتور تو بند توڑ اور بنا کر بچ جائیں اور غریب و نادار مارے جائیں ۔

قرآن و تاریخ کا کوئی مجھ جیسا ادنی ترین طالبعلم بھی یہ سمجھ جائےگا کہ کسی قوم پر عذاب الہی اس وقت آیا جب وہ قوم ہٹ دھرمی اور ضد سے مسلسل انبیاء کو جھٹلاتی رہی ، ان کی تکذیب کرتی رہی ، خود اپنے منہ سے عذاب طلب کرتی رہی (مثلا سال سائل بعذاب واقع) ۔ عذاب کی صورت میں بھی ماننے والے بچا لئے گئے اور نا ماننے والے مٹا دیے گئے ، یہی عدل الہی کا تقاضہ بھی ہے اور عقل میں آنے والی بات بھی ۔

مجھے تو یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ہم نے خالق و مخلوق کے تعلق کو سمجھا ہی نہیں ۔ سمجھیں بھی کیسے ، جس معاشرے میں "تصور خدا و وجود خدا” پر بات کرنا کفر کے زمرے میں آ جائے ، قرآن کی گہرائیوں میں جانے کے بجائے مدرسوں میں آنکھ کان بند کر کے قرآن رٹایا جائے ، "ہمیں قرآن کافی” کہہ کر اہلیبیت ع سے متصل نہ ہوا جائے وہاں بندے و رب کا لطیف تعلق سمجھ آئے بھی تو کیسے ۔

جاتے جاتے گلزار صاحب کی ایک تروینی ذہن میں آگئی ، لائٹر نوٹ پر وہ بھی لکھ دوں :

برا لگا تو ہو گا اے خدا تجھے
دعا میں جب

    جمائی لے رہا تھا میں

 سیدہ گل زہرا رضوی

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے