سپریم کورٹ نے 12 لاکھ روپے سے وی آئی پی حج کرنے والے رشوت خور ایس ایچ او کو عہدے پر بحال کررنے کی درخواست مسترد کردی۔
 
چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث ایس ایچ او کی ملازمت پر بحالی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے استسفار کیا ایک پولیس انسپکٹر نے ایک کروڑ10 لاکھ کی پراپرٹی کیسے خریدی۔ ملزم کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟،پراپرٹی کہاں سے خریدیں اس کی منی ٹریل بتائیں۔
 
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انکوائری کے دوران جائیداد پر جرح نہیں ہوئی، جسٹس سجادعلی شاہ نے کہا کہ آپ جرح کو چھوڑیں، 16گریڈ کا افسر 12 لاکھ کا حج کرسکتا ہے؟ ۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ دوسال میں آپ کے موکل نے 3 کروڑ کی پراپرٹی خریدی ،آپ کی لاٹری نکلی تھی یا پرائز بانڈ؟۔
 
جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ 30ہزارماہانہ تنخواہ لینے ولا اتنی جائیدادکہاں سے خرید سکتا ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موکل زمینوں کی خریدو فروخت کرتا تھا، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کیا آپ کی زمین سونا اگلتی تھی۔عدالت نے کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث ایس ایچ او کی ملازمت پر بحالی کی استدعا مستردکردی۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے