سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں گُٹکے، مین پوری اور ماوے کیخلاف پولیس آپریشن سست روی کا شکار ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رینجرز کو بھی گٹکا فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے اور پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس ارشاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو گُٹکے، مین پوری اور ماوے پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ مزمل ممتاز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مدعی مقدمہ نسیم حیدر منہ کے کینسر کی وجہ سے انتقال کرگئے ہیں۔ نسیم حیدر کی بہن اور والدہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔ بہن نے بتایا میرے دونوں بھائی کینسر سے جاں بحق ہوگئے۔ میرے بھائی کی بہت ازیت ناک موت ہوئی ہے۔ بہن عدالت میں آبدیدہ ہوگئی اور استدعا کی کہ گٹکے کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
مزمل ممتاز میئو ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ نسیم حیدر کے منہ میں کیڑے پڑ گئے تھے، غسل دیتے ہوئے لوگ گھبرا رہے تھے۔ اتنے غلیظ اشیاء کی فروخت تاہم اب بھی جاری ہے۔ جوڑیا بازار میں گٹکے کی فروخت اور اسکے کارخانے اب بھی چل رہے ہیں۔ ضلع  مزمل ممتاز میو ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کی جانب سے عدالت حکم پر عملدرآمد کرایا جارہا ہے لیکن دیگر اضلاع میں اب بھی فروخت جاری ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک بل اسمبلی کیوں منظور نہیں ہوا؟ جس پر سندھ حکومت کے نمائندے نے جواب دیا کہ یہ بل کابینہ سے منظوری کے بعد گورنر سندھ کے پاس دستخط کے لیے بھیجا ہوا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہر میں گٹکے، مین پوری و ماوے کیخلاف آپریشن سست روی کا شکار ہوا ہے۔ جسے تیز کیا جائے۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگوں نے گٹکے سے متاثر منہ کے کینسر کے لوگوں کی تصاویر دیکھی ہیں۔ پولیس حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پورے صوبے میں گُٹکے کیخلاف کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے رینجرز کو بھی گٹکا فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے اور پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کردی۔ جب کہ عدالت نے آئندہ سماعت پر سندھ حکومت کو قانون سازی کے حوالے سے حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت تین مارچ تک ملتوی کردی۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے