لوگ قاسم سلیمانی کو مختلف انداز سے یاد کرتے ہیں۔ داعش کے خلاف ان کی فتوحات کا ذکر کرتے ہیں، دفاع مقامات مقدسہ کیلیے ان کی خدمات یاد کرتے ہیں، کوئی انہیں مالک اشتر زمان کہہ رہا ہے۔ میں ٹھہرا ایک "رسمی شیعہ” گناہ گار شیعہ۔ میرا دل بس اس ویڈیو کو دیکھ کر پسیج کر رہ گیا جس میں قاسم سلیمانی کربلا نہر فرات کے کنارے کھڑے مائیک پر مصائب ابو الفضل العباس علیہ السلام پڑھ رہے ہیں۔ ایک جملہ بولتے ہیں پھر ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے ہیں۔ گویا وہ فقط جنگی کمانڈر نہیں ایک بہت بڑے عزادار بھی تھے۔
۔
بعض پاکستانی بلکہ الباکسستانی حسب معمول پاکستانی شیعوں کو قاسم سلیمانی کی شہادت پر دلگرفتہ ہوتا دیکھ کر ایرانی ایجنٹ کا راگ الاپنے میں مصروف نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ قاسم سلیمانی کی شہادت پر فقط انقلاب ایران سے متاثر پاکستانی شیعہ نہیں بلکہ وہ شیعہ بھی کرب کا اظہار کرتے نظر آئے جو عام حالات میں ایران کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ کیا آپ اس کی وجہ جانتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان "رسمی شیعوں” کو بھی یہ معلوم ہے کہ قاسم سلیمانی کی پہچان دفاع حرم مقدس ہے۔ جس میدان جنگ میں قاسم سلیمانی نے داعش اور النصرہ کا مقابلہ کیا وہاں دنیا کی بڑی بڑی سوپر پاورز برسر پیکار تھیں۔

روس کا فیصلہ کن کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن یہ انتظام قدرت تھا کہ اس میدان جنگ میں مدافع حرم سیدہ سلام اللہ علیھا کا اعزاز اس شخص کا مقدر بنا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک عام شیعہ بھی قاسم سلیمانی کو یاد کرکے رو رہا ہے کہ یہ وہ شخص تھا جس نے ہماری بی بی زینب سلام اللہ علیھا کے روضے کی حفاطت میں مرکزی کردار ادا کیا۔

ہم جیسے "رسمی شیعہ” قاسم سلیمانی کی اس خدمت پر ہمیشہ ان کے شکرگزار رہیں گے۔ البتہ وہ بد باطن اس احساس کو کبھی نہ سمجھ سکیں گے جن کا اوڑھنا بچھونا ان کی چاکری ہو جن کے بڑوں نے خانوادہ رسالت صلی اللہ علیہ وآل وسلم پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور جن کی نسلوں نے خانوادہ رسالت صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی قبور توڑیں۔

 مجھے اچانک مولانا ناصر عباس شہید کا نام یاد آگیا۔ میرے اور آپ کے ان سے کتنے ہی اختلافات رہے ہوں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ "وکیل حق زہرا سلام اللہ علیھا” کا لقب اس شخص کے ساتھ ایسا منسوب ہوا کہ آج کوئی لاکھ مخالفت کرے، یہ لقب اس شخص کے نام کے ساتھ لازم و ملزوم محسوس ہوتا ہے۔

قاسم سلیمانی کے نام کے ساتھ مدافع حرم سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کا لقب بھی ایسے ہی لازم و ملزوم سمجھا جائے گا۔
قاسم سلیمانی مالک اشتر زمان ہیں یا نہیں، میں نہیں جانتا لیکن وہ مدافع حرم سیدہ زینب سلام اللہ علیھا ہیں، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ ان کو یاد کرکے دلگرفتہ ہونے کیلئے ہمارے لیے بس اتنا کافی ہے۔
۔
آنے والے دنوں میں صورتحال کیا ہوتی ہے خدا بہتر جانتا ہے۔ بس یہ دعا ہے کہ خدا سرزمین عراق کو دوبارہ کسی جنگ کا ایندھن بننے سے محفوظ رکھے۔ کیوں کہ اس بار یہ جنگ عراق تک محدود نہ رہے گی۔
۔
نور درویش

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے