امام اول اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب عليہم السلام کي تيسري پشت اور ھدايت کے پانچويں امام، حجت خدا حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي ولادت پہلي رجب57 قمري ميں مدينہ منورہ ميں ہوئي، اور94 ہجري قمري ميں امام علي ابن الحسين زين العابدين عليہم السلام کي شہادت کے بعد امامت تفويض ہوئي اور 114 ہجري قمري کو 18 سال کي عمر ميں درجہ شہادت پر فائز ہوئے-

آپ (ع)  کي والدہ دوسرے امام حضرت حسن بن علي عليہ السلام کي بيٹي تھيں اور والد علي بن حسين بن علي عليہم السلام تھے ،اس اعتبار سے آپ (ع)  پہلے شخص ہيں جو ماں اور باپ کي طرف سے علوي (ع)  فاطمي (ع)  ہيں-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کا دور امويوں اور عباسيوں کے سياسي اختلافات اور اسلام کا مختلف فرقوںميں تقسيم ہونے کے زمانے سے مصادف تھا جس دور ميں مادي اور يوناني فلسفہ اسلامي ملکوں ميں داخل ہوا جس سے ايک علمي تحريک وجود ميں آئي- جس تحريک کي بنياد مستحکم اصولوں پر استوار تھي – اس تحريک کے لئے ضروري تھا کہ ديني حقايق کو ظاہر کرے اور خرافات اور نقلي احاديث کو نکال باہر کرے – ساتھ ہي زنديقوں اور ماديوں کا منطق اور استدلال کے ساتھ مقابلہ کرکے انکے کمزور خيالات کي اصلاح کرنا- نامور دھري اور مادہ پرست علماء کے ساتھ علمي مناظرہ و مذاکرہ کرنا تھا يہ کام امام وقت حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کے بغير کسي اور سے ممکن نہ تھا – آپ عليہ السلام نے حقيقي عقايد اسلامي کي تشہيرکي راہ ميں علم کے دريچوں اور درازوں کو کھول ديا اور اس علمي تحريک کو پہلي اسلامی يونورسٹي کے قيام کے طور پر ديکھا جاتا ہے -آپ کے بارے ميں امام حنبل اور امام شافعي جيسے اسلام شناس کہتے ہي

ابن عباد حنبلي کہتے ہيں : ابو جعفر بن محمد(ع)  مدينہ کے فقہا ميں سے ہيں -آپ (ع)  کو باقر کہا جاتا ہے اس لئےکہ آپ (ع)  نے علم کو شکافتہ کيا اور اس کي حقيقت اور جوہر کو پہچانا ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1-ص 149)-

محمدبن طلحہ شافعي کہتے ہيں: محمد بن علي (ع) ، دانش کو شکافتہ کرنے والے اور تمام علوم کے جامع ہيں آپ کي حکمت آشکار اورعلم آپ کے ذريعہ سر بلند ہے-آپ (ع)  کے سرچشمہ و جود سے دانش عطا کرنے والا دريا پر ہے-آپ کي حکمت کے لعل و گہر زيبا و دلپذير ہيں- آپ (ع)  کا دل صاف اور عمل پاکيزہ ہے- آپ مطمئن روح اور نيک اخلاق کے مالک ہيں- اپنے اوقات کو عبادت خداوندميں بسر کرتے ہيں- پرہيز گاري و ورع ميں ثابت قدم ہيں- بارگاہ پرور دگار پروردگار ميں مقرب اور برگذيدہ ہونے کي علامت آپ (ع)  کي پيشاني سے آشکار ہے-آپ (ع) کے حضور ميں مناقب و فضائل ايک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہيں- نيک خصلتوں اور شرافت نے آپ سے عزت پائي ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1- ص 149)-

پانچويں امام (ع)  نے پانچ خليفوں( اسلامي بادشاہوں ) کا دور ديکھا:

1. وليدبن عبد الملک 86-96ھ-

2. سليمان بن عبدالملک 96-99 ھ-

3. عمر بن عبد العزيز 99-101ھ-

4. يزيد بن عبد الملک 101-105 ھ-

5. ھشام بن عبد الملک 105-125 ھ-

مذکورہ اسلامي ممالک کے حاکموں( خليفوں) ميں عمر بن عبد العزيز جو کہ نسبتاً انصاف پسند اور خاندان رسول اï·² (ص) وآلہ کے ساتھ نيکي کے ساتھ رفتار کرنے والا منفرد اسلامي بادشاہ (خليفہ) تھا جس نے معاويہ عليہ ہاويہ کي سنت يعني”‌ معصوم دوم(ع) ،امام اول(ع)  اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب (ع) کے نام 69 سال تک خطبوںميں لعنت کہنے کي شرمسار بدعت اور گناہ کبيرہ کو ممنوع کيا –

پانچويں امام اور پہلي اسلامي دانشگاہ کے باني حضرت محمد باقر عليہ السلام سے اصحاب پيغمبر اسلام(ص)  ميں سے جابر بن عبداï·² انصاري اور تابعين ميں سے جابر بن جعفي، کيسان سجستاني،اور فقہا ميں سے ابن مبارک،زھري، اوزاعي، ابو حنيفہ، مالک، شافعي اور زياد بن منزر نھدي آپ (ع)  سے علمي استفادہ کرتے رہے-معروف اسلامي مورخوں جيسے طبري، بلاذري، سلامي، خطيب بغداداي، ابو نعيم اصفہاني و مولفات و کتب جيسے موطا مالک ، سنن ابي داوود، مسند ابي حنيفہ، مسند مروزي، تفسير نقاش،تفسير زمخشري جيسے سينکڈوں کتابوں ميں پانچويں امام (ع)  کي درياي علم کي دُرّبي بہا باتيں جگہ جگہ نقل کي گئي ہيں اور جملہ قال محمد بن علي يا قال محمد الباقر ديکھنے کو ملتا ہے-(ابن شھر آشوب ج 4 ص 195)-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي قايم کردہ اسلامي مرکز علم(يونيورسٹي) ميں سے مايہ ناز علمي شخصيتيں فقہ، تفسير اور ديگر علوم ميں تربيت حاصل کر گئے جيسے محمد بن مسلم، ذرارہ بن اعين، ابو بصير ، بُريد بن معاويہ عجلي، جابر بن يزيد، حمران بن اعين اور ھشام بن سالم قابل ذکر ہيں-

پانچويں امام (ع)  نے دوسرے ائمہ کے مانند اپني زندگي کو نہ صرف عبادت اور علمي مصروفيت ميں بسر کي بلکہ زندگي کے دوسرے کاموں ميں بھي سرگرم تھے، جبکہ کچھ سادہ لوح مسلمان جيسے محمد بن مُنکَدِر ايسے اعمال کوامام (ع)  کي دنيا پرستي تصور کرتے تھے ، موصوف کہتا ہے”‌ امام کا کھيت ميں زياد کام کرتے ديکھنے کي وجہ سے ميں نے اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ حضرت (ع)  دنيا کے پيچھے پڑے ہيں لہٰذاميں نے سوچا کہ ايک دن انہيں ايسا کرنے سے روکنےکي نصيحت کروں گا، چنانچہ ميں نے ايک دن سخت گرمي ميں ديکھا کہ محمد بن علي زيادہ کام کرنيکي وجہ سے تھک چکے تھے اور پسينہ جاري تھا ميں آگے بڑھا اور سلام کيا اور کہنے لگا اے فرزند رسول (ص)  آپ مال دنياکي اتني کيوں جستجو کرتے ہيں؟ اگر اس حال ميں آپ پر موت آجائے تو کيا کرينگے، آپ (ع)  نے فرمايا يہ بھترين وقت ہے کيونکہ ميں کام کرتا ہوں تاکہ ميں دوسروں کا محتاج نہ رہوں اور دوسروں کي کمائي سے نہ کھاوں اگرمجھ پر اس حالت ميں موت آئے توميں بہت خوش ہونگا، چونکہ ميں خدا کي اطاعت و عبادت کي حالت ميں تھا-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام ديگر ائمہ ھدي کے مانند تمام علوم و فنون کے استاد تھے- ايک دن خليفہ ھشام بن عبد الملک نے امام (ع)  کو اپني ايک فوجي محفل ميں شرکت کي دعوت دي جب امام(ع)  وہاں پہنچے وہاں فوجي افسران سے محفل مذين تھي کچھ فوجي افسران تيرکمانوں کو ہاتھوں ميں لئے ايک مخصوص نشانے پر اپنا اپنا نشانہ سادتے تھے، چھٹے امام حضرت جعفر صادق عليہ السلام اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہيں :”جب ہم دربار ميں پہنچے تو ھشام نے احترام کيا اور کہا آپ نذديک تشريف لائيں اور تير اندازي کريں ميرے والد گرامي نے فرمايا ميں بوڈھا ہو چکا ہوں لہٰذا مجھے رہنے دے، ھشام نے قسم کھائي ميں آپ سے ہاتھ اٹھانے والا نہيں ہوں- ميرے والد بذرگوار (ع)  نے مجبور ہو کر کمان پکڑي اور نشانہ ليا تير عين نشانہ کے وسط ميں جاکر لگا آپ (ع)  نے پھر تير ليا اور نشانہ پر جاکر تير مارا جو پہلے تير کو دو ٹکڑے کرديئے اور اصل نشانہ پر جا لگا آپ تير چلاتے رہے يہاں تک کہ 9 تير ہوگئے ھشام کہنے لگا بس کريں اے ابو جعفر آپ تمام لوگوں سے تير اندازي ميں ماہر ہيں”-

آخر ميں امام محمد باقر (ع) کي جابر بن جعفي کو کئے وصيت کا مختصر حصہ آپ قارئين محترم کے نذر کرنے کي سعادت حاصل کرتے ہوئے اميد کرتا ہوں امام کے اقوال ہمارے لئے مشعل راہ اور نمونہ عمل قرار دے-

1. ميں تمہيں پانچ چيزوں کے متعلق وصيت کترا ہوں:

2. اگر تم پر ستم ہو تو تم ستم نہ کرنا-

3. اگرتمہارے ساتھ خيانت ہو تم خائن نہ بنو –

4. اگر تم کو جھٹلايا گيا تو تم غضبناک نہ ہو-

5. اگر تمہاري تعريف ہوئي تو خوشحال نہ ہو اگر تمہاري مذمت ہوئي تو شکوہ مت کرو-تمہارے متعلق لوگ جو کہتے ہيں اس پر غور کرو-پس اگر واقعاً ويسے ہي ہو جيسا لوگ خيال کرتے ہيں -تو اس صورت ميں اگر تم حق بات سے غضبناک ہوئے تو ياد رکھو خدا کي نظر سے گرگئے- اور خدا کي نظر سے گرنا لوگوں کہ نظر ميں گرنےسے کہيں بڑي مصيبت ہے- ليکن اگر تم نے اپنے کولوگوں کے کہنے کے برخلاف پايا تو اس صورت ميں تم نے بغير کسي زحمت کے ثواب حاصل کيا-

يقين جا نو! تم ميرے دوستوں ميں صرف اسي صورت ميں ہو سکتے ہو کہ اگر تمام شہر کے لوگ تم کو برا کہيں اور تم غمغين نہ ہو، اور سب کے سب کہيں تم نيک ہو تو شادمان نہ ہو، اور لوگوں کے برائي کرنے پر خوف زدہ مت ہو، اس لئے کہ وہ جو کچھ کہيں گے اس سے تم کو کوئي نقصان نہ پہنچے گا ، اور اگر لوگ تمہاري تعريف کريں جبکہ تم قرآن کي مخالفت کر رہے ہو بھر کس چيز نے تم کو فريفتہ کر رکھا ہے؟ بندہ مومن ہميشہ نفس سے جہاد ميں مشغول رہتا ہے تا کہ خواہشات پر غالب ہو جائے اور اس امر کيلئے اہتمام کرتا ہے

حضرت امام محمد باقر 411ھ ميں خليفہ ھشام بن عبد الملک کے حکم پر زہر دے کر شہيد کردئےگئے- آپ (ع)  57 سال تک وحي الہٰي کي ترجماني کرتے رہے- آپ کے بعد آٹھويں معصوم اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق (ع)  آپکے جانشيني پر فائز ہوئے اور آپ (ع)  کے قائم کردہ اسلامي مرکز علم کو وسعت عطا کرکے اسلام ناب محمدي (ص)  کي توضيع و تفسير بيان فرمائي۔

(خداوند ہميں ان علوم کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کي توفيق عطا فرمائے،آمين)

 بشکریہ: تبیان

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے