مقاومتی بلاک کے نام سے ہم سب آشنا ہیں،  لیکن فقط نام تک کی آشنائی کافی نہیں، اگر ہم مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے مقاومتی بلاک کی اصطلاح، قیام اور حکمت عملی کو سمجھنا ضروری ہے۔ مقاومتی بلاک کی تشکیل کا خلاصہ یہ ہے کہ غربی استعمار کی جارحانہ عسکری  اور ثقافتی یلغار نے مستضعف قوموں کو non aligned movement جیسے کاونٹر    فورم     اور اسلامی مقاومتی بلاک  کی تشکیل پر مجبور کیا ۔

یہ اتحاد  مشرق وسطی میں مغرب اور اس کے اتحادیوں کو شکست سے دوچار کر رہا ہے۔  سامراجی قوتیں استقامتی بلاک کو داخلی خلفشار کی خلیج میں دھکیلنے کے لیے وار آن ٹیرر   کا ڈرامہ رچا رہی ہیں۔   اس پلان   کو حاصل  کرنے کے لیے   خطے کے عرب   آمروں کو 34 ملکی اتحاد کا برگ حشیش دے کر مسلم دنیا کی آنکھوں میں وار آن ٹیرر  کی دھول جھونکی   جا رہی ہے۔ لیکن یہ پالیسی غیر متوقع حد تک ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔  کیونکہ مقاومتی بلاک کے تزویراتی اقدامات زیادہ موئثر اور فیصلہ کن نتائج رکھتے ہیں ۔

عرب خطے کی عوامی قوتیں مغرب کے اخلاقی دوہرے پن اور انسانی حقوق کے پرفریب نعروں کو تہذیبوں کے تصادم جیسے انتہاپسندانہ پس منظر کی حامل نفسیاتی جنگ کے حربے کے طور پر دیکھتی ہیں ۔   یہی وجہ ہے کہ اسلام کے خلاف استعماری قوتوں کا منفی  پروپیگنڈا عالمی سطح پر نہ صرف فلاپ ہوا ہے   بلکہ معکوس نتائج دینے لگا ہے  ۔  اسی لیے  پسماندہ ترین سیاسی نظام رکھنے والے عرب ممالک کی رای عامہ مغربی استکبار کے سیاسی دوغلے پن کو جمہوریت مخالف رویے کے طور پر لیتی ہے۔

عرب رای عامہ میں پائی جانے والی  یہ تشویش بتدریج مغرب مخالف تحریکوں کی شکل اختیار کر کے عرب ممالک میں آمریت نوازی کے سامراجی پلان کو چیلینج کرتے ہوے مقاومتی بلاک کی  کاونٹر پالیسی کو تزویراتی بیک اپ دے گی۔ یوں استقامتی بلاک مشرق وسطی میں دفاعی پوزیشن سے اقدامی پوزیشن کی طرف سفر کریگا۔  جس کے ابتدایی نتائج شام،عراق اور یمن کے محاز میں مقاومتی بلاک کی عسکری حکمت عملی کی واضح کامیابی کے طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔

گریٹر مشرق وسطی کا ناقوس بجانے والی غربی عبری اور عربی ٹرائیکا یمن کی دلدل میں پھنس چکی ہے ۔  اور پراکسی وار کی بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے شام میں سیف زون کا اسٹریٹیجک محاز کھول کر مقاومتی بلاک کو  انگیج رکھنا چاہتی ہے ۔      جس کے لیے ترکی کو خلافت کا جھانسہ دے کر میدان میں اتارا گیا ہے ۔  جو  فلسطینی انتفاضہ کی مزاحمتی طاقت کو مضمحل کر کے اسرائیل کےمفادات کو تحفظ دے گا۔  لطف کی بات  یہ ہے کہ سیف زون کا کیموفلاج جہاں اسرائیل کو وقتی طور پر تحفظ دےگا وہیں فلسطین کاز کے حل کے لیے استقامتی بلاک کو مزاحمتی سرگرمیوں کےلیے وسیع میدان بھی فراہم کرے گا ۔  جس سے غاصب صہیونی دجالیت کو عبرتناک انجام تک پہنچانے میں بنیادی  مدد ملے گی۔  البتہ اس پس منظر میں مخصوص مسلکی رجحانات کی حامل تکفیری قوتوں کے منافقانہ کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔   جو امپورٹیڈ جہادی عناصر کے   ذریعے مقاومتی بلاک کو داخلی  محاز میں الجھانے کا ٹاسک رکھتی ہیں۔

جس کا  اہم ہدف ایران فوبیا کے نفسیاتی داو پیچ استعمال کر کے عرب دنیا کی مزاحمتی قوتوں کو مقاومتی بلاک سے جدا کرنا ہے۔  لیکن وہ کامیاب نہیں ہو رہی ۔ کیونکہ خطے کی رای عامہ عرب آمریتوں کے جہادی ایجنڈے کی حقیقت کا بخوبی ادراک رکھتی ے۔  اس تناظر میں معروضی حقایق اس بات کا کھلا     اشارہ دے رہے ہیں کہ نیو ورلڈ آرڈر کی عالمگیریت کا خواب،مغرب کو ناگزیر طور پر نظام مہدویت سے براہ راست محاز آرایی کی طرف لے جا رہا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، اب وہ دن دور نہیں کہ اسرائیل جیسا غاصب اور جارح ملک جلد ہی  ہمیشہ کے لیے مشرق وسطی کے نقشے سے معدوم ہونے والا ہے۔   البتہ  اس کیلئے سارے مسلمانوں کو ایران فوبیا سے نکلنا ہوگا چونکہ مشرق وسطیٰ میں اسوقت ایران ہی مقاومتی بلاک کا مرکزی ستون ہے۔

یورپ کی نام نہاد جمہوری  حکومتیں اور خلیجی ممالک کی  آمریتیں اسرائیل کے تحفظ کے لیے تکفیری جہادیوں  کو مجاہدین کا لقب دے کر مشرق وسطیٰ میں مضبوط کر رہی ہیں۔ تاکہ یہ باور کرا یا جا سکے کہ فلسطین کی آزادی کا حل مقاومت نہیں بلکہ پر امن ٹیبل ٹاک ہے۔     دو ریاستی حل جیسے امریکی ایجنڈے کو مسلم دنیا کے ردعمل سے بچنے کے لیے غیر سفارتی انداز میں پروموٹ کیا جا   رہا ہے۔    پی ایل او اور الفتح جیسی تنظیمیں مجوزہ حل کے تباہ کن نتائج کو نظرانداز کر کے سکیورٹی کونسل سے آس لگائے بیٹھی ہیں ۔  یہ عمل در حقیقت اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو قانونی جواز فراہم کر کے فلسطینیوں کو اپنی دھرتی سے محروم کرنے کے صہیونی ایجنڈے کی تکمیل  کا باعث بنے گا۔   ایسے حساس سناریو میں مقاومتی بلاک   ہی وہ واحد طاقت ہے جو انتفاضہ کی ڈگمگاتی قیادت کو روشن مستقبل کی امید دلا کر مظلوم فلسطینی نسلوں میں آبرومندانہ آزادی کی امنگ پیدا کر رہی ہے ۔  اور اسرائیل کی نابودی کے لیے کاونٹ ڈاون ایکسپیڈیشن لانچ کر رہی ہے۔    اگر استقامت جاری رہی تو ایک دن ارض مقدس سےصہیونی تسلط کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے۔   اور بیت `المقدس کے افق پر آزادی کی کرنیں جگمگائیں گی۔  یوں صہیونی سامراج کا نیو ورلڈ آرڈر، مقاومتی بلاک کے ہاتھوں عبرتناک انجام کو پہونچے گا۔  اور فلسفہ انتظار مقتدرانہ حیثیت میں عالمی نجات دہندہ کے ظہور کی زمینہ سازی کے لیے راہ  ہموار کرے گا۔  نتیجتا عالمی معاشرے  کا  انسان نظام مہدویت کے سایے میں حقیقی سعادت سے بہرہ مند ہوگا۔           بقول اقبال رح:

شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید  سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے