کرونا وائرس کے پیش نظر کام سے چھٹی نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ وقت گذارنے کے لئےمعاشرتی بھول بھلیوں پر کچھ لکھنا شروع کیا۔کیا لکھ رھا ھوں؟ ایک جھلک باپ کے حوالے سے سب کے ساتھ شیئر کر رھا ھوں
۔۔باپ۔۔
آج دنیا بھر میں ھر طرف ماں ماں اور ماں کا شور ھے جبکہ باپ کو عضو معطل سمجھا جانے لگا ھے۔ماں کی عزت کرو۔ ماں کو جیب خرچ دو۔ ماں سے مشورے کرو یہاں تک کہ ماں کو ھر دکھ درد بتانا اولاد کا شیوہ بنتا جا رھا ھے۔شاید اس لئے کہ باپ نے دنیا کے سرد و گرم اپنی ذات پر برداشت کئے ھوتے ھیں وہ اولاد کو برائی سے بچانے خوابوں کی دنیا میں مست رھنے اور ٹھوکریں کھانے سے روکنے کی کوشش کرتا ھے۔اسکی آنکھ مستقبل پر ھوتی ھے وہ جذبات کی بجائے عقل و خرد کی آواز سننے کی تلقین کرتا ھے۔اس لئے اسے نہ صرف ناتجربہ کار اولاد کی نفرت اور فاصلے کا سامنا کرنا پڑتا ھے بلکہ اسے انکی ماں کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑتی ھے جو بیوی بننے سے پہلے اور ابتدا میں اسے اپنی کل کائنات قرار دیتی مگر وقت کے ساتھ ساتھ اپنے شوھر کو نیچا دکھانے کنٹرول کرنے اولاد کی ھمدردیاں جیتنے کے لئے انکی ھر اچھی بری بات میں انکی ھاں میں ھاں ملانا شروع کر دیتی ھے اسی لئے جب کوئی چور ڈاکو قاتل بنتا ھے سزا پاتا ھے تو ماں کو روتا پیٹتا دیکھتا ھے تو کہتا ھے کہ ماں اس وقت رونا تھا جب تم میرے عیبوں پر پردے ڈالا کرتی تھیں۔

یاد رھے مرد اُس مسلسل قربانی ایثار و شفقت کا نام ھے جو اولاد کی ماں کو اولاد پیدا ھونے سے بھی قبل کم از کم نو ماہ پالتا ھے۔ اسے ھر وہ سہولیات دیتا ھے جن کے بل بوتے پر ایک عورت اپنی کوکھ میں اپنے تشکیل پانے والے بچے کو مرد کی کمائی سے حاصل کردہ خوراک سے خوراک مہیا کرتی ھے۔پھر جب وہ پیدا ھوتا ھے تو ماں کی چھاتی سے جو دودھ پیتا ھے وہ بھی اسی کمائی سے حاصل نعمات کھانے کے نتیجے میں بنتا ھے جو مرد لا کر عورت کو دیتا ھے۔عورت ماں بن کر بچہ پال رھی ھوتی ھے اور باپ ماں اور بچہ دونوں کو پال رھا ھوتا ھے۔
تو پھر یہ باپ کو اتنا حقیر اتنا بے قدر اتنا بے عقل کیوں جانا جانے لگتا ھے جو اکیلا ھو کر ماں سمیت پورے کنبے کو پالتا ھے اور ساری زندگی کی کمائی اُن پر نچھاور کر دیتا ھے جن سے بڑھاپے میں اُسے سننے کو ملتا ھے کہ تم نے ھمارے لئے کیا ھی کیا ھے؟ سب اپنی اولاد پالتے ھیں تم نے کیا خاص کیا ھے؟ تم چپ رھو ابا جی تمھیں بات کا نہیں پتہ۔ ابا جی آپ کو سمجھ نہیں زمانہ ترقی کر گیا ھے۔ابا جی آپ چپ رھا کریں آپ کو پتہ ھی نہیں کیا بولنا ھے کیا نہیں بولنا۔اور ابا سوچ رھا ھوتا ھے کاش۔۔۔۔۔۔

ایک کہاوت ھے اگر ایک کتے کو تین دن کھانا کھلاؤ تو وہ کھانا کھلانے والے کو تین سال نہیں بھولتا مگر انسان کو تین سال کھانا کھلاؤ انسان تممھیں تین دن مں بھول جائے گا۔۔۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے