شفقنا اردو: بھارت کے شہر بنگلور میں رہنے والے گوگل کے ملازم میں کرونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ بھارتی حکام جب بیوی کو ٹیسٹ کیلئے قرنطینہ لے کر پہنچے تو بیوی وارڈ سے بھاگ نکلی۔

بھارتی خبر رساں ادارے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کی بیوی قرنطینہ سے بھاگ گئی، جسے حکام نے دوبارہ پکڑ کے ٹیسٹ کیے تو وہ بھی کرونا کا شکار نکلی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں گوگل کے ملازم میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس دوران انکشاف ہوا کہ اس کی گزشتہ ماہ ہی شادی ہوئی ہے اور دونوں میاں بیوی حال ہی میں یونان، فرانس اور اٹلی میں ہنی مون سے واپس آئے ہیں۔ جوڑا 27 فروری کو ممبئی واپس آیا تھا، جہاں سے انہوں نے بنگلور کی فلائٹ پکڑی۔

متاثرہ شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق 12 مارچ کو کی گئی۔ متاثرہ شخص کی 25 سالہ بیوی کا تعلق آگرہ سے ہے۔ متاثرہ شخص کی اہلیہ کو نگہداشت کیلئے قرنطینہ منتقل کیا تھا، تاہم وہ وہاں سے بھاگ نکلی اور نئی دہلی کی ٹرین کے ذریعے آگرہ میں اپنے والدین کے گھر پہنچ گئی۔

پولیس کے مطابق صرف یہ ہی نہیں مذکورہ خاتون نے نہ صرف اس تمام عرصے میں اپنے سے رابطے میں آنے والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، بلکہ والدین کے گھر میں رہائش پذیر 8 افراد کی زندگی بھی داؤ پر لگا دی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جب وہ لوگ مذکورہ خاتون کی تلاش میں ان کے والدین کے گھر پہنچے تو انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور گھروں والوں نے انہیں ٹیسٹ کرنے اور گھر کے اندر داخل ہونے نہیں دیا۔

نازک صورت حال کے باعث انہیں علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کی مدد لینا پڑی، جس کے بعد ان افراد کو آئیسولیشن وارڈز میں منتقل کیا گیا۔

آگرہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ خاتون کے والد جو ریلوے میں انجینیر ہیں، ان کی جانب سے مزاحمت دکھائی گئی اور انہوں نے جھوٹ بولا کہ ان کی بیٹی واپس بنگلور چلی گئی ہے۔ بعد ازاں اعلیٰ حکام کی مداخلت پر خاتون کو ایس این میڈیکل کالج میں قائم وارڈ میں منتقل کیا گیا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے