مشال خان تو آپ کو یاد ہوگا،  سانحہ ساہیوال بھی کوئی پرانی بات نہیں، ذہنی معذور صلاح الدین پر تشدد کسے بھول سکتا ہے،  اسلام آباد ائیر پورٹ پر خواتین پر تشدد  اور خواتین کی چیخیں  آج بھی ہر غیرت مند پاکستان کے دل و دماغ میں گونج رہی ہیں،  آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارا معاشرہ شدت پسند ٹولوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔

یہاں شدت پسندی اور تشدد کو ملکی اداروں، وڈیروں، نوابوں، زرداریوں، چودھریوں اور سرداروں کی سرپرستی حاصل  ہے لہذا ایسے میں مولانا ناصر مدنی جیسے شخص پر تشدد کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ میرے مطابق مولانا ناصر مدنی پر تشددہونا چاہیے تھا  اور ضرور ہونا چاہیے تھاچونکہ  یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ حق بات کریں اور آپ کی زبان نہ کھینچی جائے اور آپ کی گردن نہ کاٹی جائے۔ حق بات کہنے پر سولی پرلٹکا دینا، کشتوں کے پشتے لگادینا ، زندانوں میں ڈال دینا اور اغوا کر لینا یہ  حق، اصلاح اور سچائی کی ازلی تاریخ ہے۔

جب آپ حقائق بیان کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا سر کٹوانے اور اپنی زبان کھنچوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔  جناب میثم تمار ؓ کو سولی پر لٹکا کر ان کی  زبان گُدی سے کیوں کھینچی گئی؟ حجر ابن عدی کا کیا جرم تھا؟ حضرت ابوزرؓ کا کیا مسئلہ تھا؟

واضح رہے کہ مولانا ناصر مدنی میرے ہم مسلک نہیں ہیں،  اور نہ ہی میرا ان کے  فرقے سے کوئی تعلق ہے، لیکن میرے نزدیک  حق گوئی، بیباکی، جرات، اور سچائی خود ایک مسلک اور فرقہ ہے۔ میں سچائی ، اصلاح طلبی اور حق گوئی میں ان کا ہم مسلک ہوں۔

یہ ہمارے معاشرےکا المیہ، ہماری کم علمی کا نتیجہ اور عدم تحقیق کا ثمر ہےکہ ہم سارے مسائل کو فرقوں کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے مکار دشمنوں نے جو باتیں ہمارے دماغوں میں ڈال دی ہیں،  ان کی وجہ سے ہم لکیر کے فقیربن کر انہی کی تبلیغ کرتے  رہتےہیں، حتی کہ  ملکی اور بین الاقوامی مسائل کو بھی سعودی اور ایرانی پراکسی وار ہی سمجھتے ہیں۔ہمیں کہیں پر بھی حق اور باطل  نیز اسلام اور کفر کی پراکسی وار نظر نہیں آتی۔

ہم نے کرونا وائرس کو بھی مسلکی پراکسی وارمیں تبدیل کر لیا ہے،  مولانا ناصر مدنی نے کرونا وائرس کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں ایک خوبصورت سوال  اٹھایا تھا، ان کا کہنا تھاکہ پھونکوں والی سرکار کو چاہیے کہ  چین میں  جا کر کرونا وائرس کے مریضوں کو پھونکیں ماریں۔   یہ ایک معقول اور منطقی بات ہے اور اس کا جواب استدلالی طریقے سے دیا جانا چاہیے تھا۔خیر اب تو پھونکیں مارنے کیلئے چین جانے کی بھی ضرورت نہیں خود پاکستان میں کرونا وائرس پہنچ چکا ہے لہذا پھونکیں مارنے والے حضرات کو خدمت کا موقع دیا جانا چاہیے۔

اب یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ میں خود قرآن وسنت کے مطابق دعاوں اور سورتوں کے خواص، دعاوں کے  دم کرنے، نیز  بزرگانِ دین اوراولیائے کرام کا معتقد ہوں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سلسلے میں مجھے بالکل گونگا، بہرہ اور اندھا بن جانا چاہیے۔ مجھے قرآنی و اسلامی طریقہ علاج اور ڈرامہ بازی و فراڈ نیز شعبدہ بازی میں فرق کو سمجھنا چاہیے۔

جس طرح اللہ تعالی نے قرآن مجید میں شفا کی تاثیر رکھی ہے، اسی طرح اس نے جڑی بوٹیوں اور میڈیکل ادویات میں بھی شفا رکھی ہے۔  اگر صرف قرآن مجید کی آیات سے ہی امراض ختم ہوجائیں تو پھر جڑی بوٹیوں کی خلقت اور میڈیکل سائنس کی حکمت کب کام آئے گی!  وہ قرآن مجید کی آیات ہوں، جڑی بوٹیاں ہوں یا میڈیکل سائنس، ان میں شفا رکھنے والا خالق کائنات ہے۔  اگر کوئی مستند عالم اور جاننے والا قرآن مجید  ،جڑی بوٹیوں یا میڈیکل سائنس سے علاج کرے تو  یقینا اس کی تاثیر مسلمہ ہے۔ لیکن اگر علاج کرنے والا اناڑی اور ڈرامہ باز ہوتو وہ پیسے تو بٹور سکتا ہے لیکن علاج نہیں کر سکتا۔

جس طرح مولانا ناصر مدنی کی ایک معقول بات کو  مسلکی پراکسی وار میں تبدیل کیا گیا ، اسی طرح  بعض جیالوں نے حسبِ عادت کرونا وائرس کے حوالے سےایران اور سعودی عرب  کے حفاظتی اقدامات کو بھی مسلکی بغض نکالنے کابہانہ بنا لیا ہے۔  حالانکہ انسانی ہلاکتوں کے بچاو  کیلئے مقامات مقدسہ کو اینٹی وائرس ادویات سے دھونا،  ان مقامات کو عارضی  طور پر بند کرنا اور زائرین سے معذرت کرنا یہ سب دین، شرع اور عقل و منطق کے عین مطابق ہیں۔

بعض   تو اس وقت مسلکی مغالطوں میں مصروف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ  اگر اولیائے کرام کسی کو شفا دیتے ہیں تو پھر ان کے مزارات کیوں بند کر دئیے گئے ہیں؟ ایسے مغالطہ گروں سے  یہ پوچھا جانا چاہیے کہ خدا تو شفا دیتا ہی ہے پھر اس کا گھر خانہ کعبہ کیوں بند کیا گیا ہے!؟

بہر حال ہمارے ہاں کے عقب ماندہ لوگ ہر ایشو کو مسلکی رنگ میں دیکھتے ہیں، اس کے لئے جھوٹ بھی بولتے ہیں، جھوٹی پوسٹیں بھی گھڑتے ہیں،  مسلکی اختلافات کو بھی ہوا دیتے ہیں اور حسبِ ضرورت مخالفین کو تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔

عقل و منطق کا یہ تقاضا ہے کہ ہمیں مسلکی تابوتوں سے نکل کر مولانا ناصرمدنی پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرنی چاہیے اور  کرونا وائرس کے بہانے سے مسلکی منافرت  پھیلانے والوں کا راستہ روکنا چاہیے۔

تحریر: نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے