عراق کے شیعہ الائنس کے رہنماؤں ہادی العامری ، نوری المالکی ، سید عمار حکیم ، فالح فیاض اور صادقون الائنس کے رہنماؤں نے ایک اجلاس میں طویل غور و خوض کے بعد عدنان الزرقی کو وزارت عظمی کے لئے نامزد کئے جانے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شیعہ سیاسی جماعتوں نے اس اجلاس کے بعد عراقی صدر کے نام ایک خط بھیج کر اعلان کیا ہے کہ وہ عدنان الزرفی کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کریں گے اور وزیر اعظم کے لئے کسی دوسرے کو نامزد کیا جائے۔

اس درمیان عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی کی زیر قیادت "حکومت قانون” اتحاد کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ تین سو انتیس ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک سو ستّر ممبران عدنان الزرفی کو وزیر اعظم کی حیثیت سے کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپے جانے کے خلاف ہیں اور صدر برہم صالح قانون کو نظرانداز کررہے ہیں اور انھوں نے اپنے اس کام سے ملک میں بحران کھڑا کر دیا ہے۔

عراق کے صدر نے منگل کو عدنان الزرفی کو عبوری کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی تھی  ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے