ہجرت سے تیرہ سال قبل ستائس رجب المرجب کو جس وقت رحمت للعالمین مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم چالیس برس کے ہوئے، تو خلاق کائنات نے اپنے محبوب کو اپنے آخری پیغمبر کے طور پر چننے اور آپ کو درجہ نبوت عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ محبوب کبریا مکہ کی غار حرا میں محو عبادت تھے کہ اچانک فرشتہ وحی کی صدائے اقرا غار میں گونجی اور یوں وحی الٰہی کے سائے میں آخری نبوت کا آغاز ہوا۔

مرسل اعظم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے وحی الٰہی کا آغاز ہوتے ہی عالم بشریت کی ہدایت و رہنمائی کا بیڑا اٹھایا اور حیات طیبہ کے حصول کے لئے اسلام کے نام سے موسوم وہ خطوط عالم بشریت کے حوالے کئے جو رہتی دنیا تک انسانی سعادت کے ضامن قرار پائے۔ محبوب خدا نے عالم انسانیت کو وہ ضابطہ حیات عطا کیا کہ جس کے سائے میں بشریت کمال و انسانیت کی معراج کو با آسانی پا سکتی ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے