شفقنا اردو:‌ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر قوم آج یومِ پاکستان سادگی کے منا رہی ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہر قسم کے عوامی اجتماع بالخصوص یومِ پاکستان کی پہچان سمجھی جانے والی فوجی پریڈ بھی ملتوی کردی گئی تھی۔

تاہم سرکاری و نجی ٹیلی ویژن چینلز پر آج کے دن کی مناسبت سے خصوصی پیغامات نشر کیے جائیں گے اور اخبارات خصوصی اشاعت شائع کریں گے۔

یاد رہے کہ آج سے 80 سال قبل 23 مارچ 1940 کے دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی تھی جس کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

اس اہم دن کی یاد میں پاکستان میں حکومتی سطح پر ہر سال 23 مارچ کو تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جب کہ فوجی پریڈ کو تقریبات میں منفرد اہمیت حاصل ہے۔

صدر مملکت و وزیراعظم کے پیغامات
اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ قوم کو اس وقت انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کا واحد راستہ اتحاد میں مضم رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانیوں کو اس وبا کی روک تھام کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

صدرمملکت کا کہنا تھا کہ یہ علماء کرام، ذرائع ابلاغ اورسیاسی رہنماؤں سمیت معاشرے کے تمام طبقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوروناوائرس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہاکہ اس بحران میں ڈاکٹرز اورمحکمہ صحت کاعملہ ہراول دستہ ہیں اور قوم انہیں ان کی بے لوث اور انتھک کوششوں پرسلام کرتی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے پیغام میں ماضی میں آنے والی مشکلات سے نمٹنے پر پاکستانی قوم کے اعصاب کو سراہا اور عوام پر زور دیا کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے اتحاد نظم و ضبط اور بھرپور جذبے کا اظہار کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی قوم میں ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہے اور اس سال یومِ پاکستان منانے کے ساتھ ہمیں اتحاد، نظم و ضبط اور جذبے کے ساتھ اس آفت کا سامنا کرنا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 23 مارچ وہ سنہری دن تھا جب بر صغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا تا کہ ہندو اکثریت کے جبر سے نجات پاسکیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ واقع اور 70 سے جاری صورتحال ہمارے آبا و اجداد کے وژن اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کے دن ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کا شکار کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو اپنی ہی سرزمین پر 231 روز سے بھرتی لاک ڈان میں محصور ہیں اور بھارتی ظلم و ستم کے خلاف بہادری سے لڑ رہے ہیں‘۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے