پاکستان کی سرحد میں قدم رکھتے وقت میں کسی خاص خوش فہمی کا شکار نہیں تھا ۔ مجھے یقین تھا کہ پاکستان آنے والے ہر مسافر کو کیمپ میں ٹھہرایا جائے گا ۔ پاکستان ہاؤس کے دائیں جانب سفید ٹینٹوں کی بستی دیکھی تو چشم تصور نے آئندہ ایام کی مکمل تصویر کھینچ دی ۔
ایف سی کے جوان نے سلام کرتے ہوئے ماسک دیا اور ماسک بدل لیں ۔ حالانکہ میں نے صرف چند منٹ پہلے ہی نیا ماسک پہنا تھا پھر بھی جوان کی تسلی اور حکم کی تعمیل میں شکریہ ادا کر تے ہوئے نیا ماسک پہن لیا ۔
جوان نے دائیں جانب واقع ایک عمارت کی طرف جانے کا کہا جہاں ایک صاحب نے جو اپنے لباس و اطوار سے ڈاکٹر لگ رہے تھ میرا نام پتہ اور فون نمبر کا اندارج کرنے کے بعد ٹیمپریچر چیک کیا ۔ ایرانی حکام کی طرف سے جاری کئے گئے میڈیکلُ سرٹیفیکیٹ کو دیکھ کر مسکرائے جس کی وجہ نہ مجھے سمجھ آئی اور نہ میں نے پوچھنے کی جرات ہوئی ۔ صاحب نے ایک اور میڈیکل سرٹیفیکٹ بنا کر مجھے دیا اور امیگریشن کاؤنٹر کی طرف جانے کا کہا ۔ اب میرے پاس دو میڈیل سرٹیفیکٹس تھے ایک ایرانی حکام کی طرف سے جاری کیا گیا تھا اور دوسرا پاکستانی حکام جانب سے ۔

امیگریشن کاؤنٹر تقریبا خالی تھا۔ ایک افسر نے پاسپورٹ لیتے ہوئے پوچھا کہ کہاں سے آ رہے ہیں ؟
تہران سے۔
اگلا سوال تھا کہ کیا آپ زیارت کے لئے بھی گئے تھے ؟
میرا جواب نفی میں سنتے ہی پوچھا گیا آپ تہران میں کتنے دن رہے ؟ تقریبا تین ہفتے ۔ میں نے جواب دیا
پھر ایران جانے کی وجہ اور ویزہ کی نویت بھی پوچھی گئی ۔ یاد رہے کہ میرے پاس الیکٹرانک وزٹ ویزہ تھا ۔
امیگریشن افسر نے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگاتے ہوئے مجھے تاکید کی کہ اگلے کاؤنٹرز پر اپنے ویزہ کی نوعیت ضرور بتاؤں ۔

عمارت سے باہر جانے والے دروازے کے قریب ایک اور صاحب تشریف فرما تھے جنہوں نے تقریبا وہی سولات دہرائے جو پہلے پوچھے جا چکے تھے ۔

عمارت سے باہر نکلتے ہی ایف سی کے ایک اور جوان نے ویزہ کی نویت پوچھی اور پاسپورٹ اپنے رکھ کر انتظار کرنے کا کہا۔
سڑک کے کنارے کئی مسافر اگلے حکم کے منتظر تھے سو میں بھی وہیں فٹ باتھ پر بیٹھ کر موبائل سے سم تبدیل کرنے لگا ۔ موبائل آن کرنے پر پتہ چلا کہ یہاں سگنلز نام کی کوئی شے میسر نہیں ۔

سفید ٹینٹوں کا عارضی شہر میرے سامنے تھا ۔ مجھے ابھی تک اس شہر کے مکینوں کی مشکلات کے بارے کوئی اندازہ نہیں تھا ۔ میں فٹ پاتھ پر بیٹھا اپنے سفید ٹینٹ کا تعین کرنے لگا ۔
اچانک میرا نام پکارا گیا تو میں بارڈر کے خارجی دروازے کے دائیں جانب واقع آفس کی طرف چل دیا ۔ کھڑکی سے ہاتھ نکال کر میرا پاسپورٹ اور ایرانی میڈیکل سرٹیفکیٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا ۔ پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کیا گیا میڈیکل سرٹئفیکیٹ مجھے واپس نہیں کیا گیا ۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ وہ ہمارے ریکارڈ کے لئے ہے ۔
میں نے سوال کیا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے ؟ جواب آیا اب آپ جا سکتے ہیں ؟
میں حیران و پریشان کبھی بند کھڑکی کو دیکھتا تو کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھے مسافروں کو ۔
سفید ٹینٹوں کی بستی کے پاس قطار در قطار بسیں پارک تھیں میں سمجھا یہی بس سٹینڈ ہے میں نے ایک راہ گیر سے پوچھا کوئٹہ کی بس کہاں سے ملے گی ؟
جواب ملا بس سٹینڈ یہاں سے تھوڑا دور ہے ٹیکسی لینا پڑے گی ۔ میں سوال کیا یہ اتنی ساری بسیں یہاں کیوں پارک ہیں ؟ بتایا گیا یہ زاہرین کی بسیں ہیں ۔
میں نے مزید کوئی سوال کرنا مناسب نہ سمجھا اور تھوڑی دور کھڑی ایک ٹیکسی کی طرف چل پڑا ۔
ٹیکسی ڈرائیور نے دور سے پوچھا۔ جائے گا ؟
ہاں کوئٹہ جانا ہے ۔ میں نے جواب دیا ۔
بیٹھو ہم تم کو اڈہ پر چھوڑے گا ۔ ڈرائیور نے جواب دیا
اتنی دیر میں دو اور پاکستانی لڑکے پہنچ گئے ۔ ڈرایئور سے تین سو کرایہ طے ہوا تو میں نے دونوں جواں سال لڑکوں کو بھی ساتھ بیٹھنے کا کہا۔
ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ سنبھالتے ہی میں نے ڈرایئور سے سگریٹ سلگانے کی اجازت چاہی جو بخوشی دے دی گئی ۔

جاری ہے۔۔۔۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے