شفقنا اردو: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سونگھنے کی حس ختم ہوجانا نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

رائل کالج آف سرجنز آف انگلینڈ کی تحقیق میں کہا گیا کہ سونگھنے کی حس سے محرومی کو پہلے ہی وائرسز سے جوڑا جاتا ہے کیونکہ ایسے 40 فیصد کیسز کسی وائرل انفیکشن کے بعد رپورٹ ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق متعدد ممالک میں کووڈ 19 کے مریضوں کے ڈیٹا میں اضافے سے یہ ٹھوس اشارہ ملتا ہے کہ بیشر مریضوں کو اس مرض کی علامات کے دوران سونگھنے کی حس سے محرومی کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

درحقیقت بیشتر اوقات تو یہ سب سے پہلے نمودار ہونے والی علامات ہوسکتی ہیں، جس کے بارے میں ابھی کہا جاتا ہے کہ بخار سب سے پہلے اور عام ترین علامت ہے۔

شواہد میں مزید بتایا گیا کہ سونگھنے کے ساتھ ساتھ چکھنے کی حس سے محرومی بھی ایسے افراد میں نظر آئی جن میں کووڈ 19 کی دیگر علامات نظر نہیں آئیں مگر وائرس کی تشخیص ہوئی۔

محققین نے تجویز دی ہے کہ سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی کو بھی کووڈ 19 کی اسکریننگ کی علامات والی فہرست کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مسائل نظام تنفس کی دیگر علامات نمودار ہوئے بغیر ہی سامنے آجائیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اس طرح کے کیسز ایران، امریکا، فرانس اور شمالی اٹلی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ دن پہلے 40 سال سے کم عمر 4 مریضوں کا معائنہ کیا، جن میں دیگر علامات تو نظر نہیں آئیں مگر اچانک سونگھنے ک یحس سےس محروم ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں یہ مریض خاموشی سے اس وائرس کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

اس سے قبل حال ہی میں جرمنی کے بون یونیورسٹی ہاسپٹل کے ڈاکٹر نے کووڈ19 کے سو سے زائد مریضوں کے انٹرویو کیے تو اننہوں نے دریافت کیا کہ 70 فیصد کے قریب کو سونگھنے اور چکھنے کی حس سے کئی روز پہلے محرومی کا سامنا ہوا۔

جرمن ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے محققین نے کہا کہ یہ مسئلہ اتنا زیادہ تھا کہ ایک ماں کو اپنے بچے کے ڈائیپر سے بو محسوس ہی نہیں ہوئی، دیگر افراد شیمپو کو سونگھنے میں ناکام رہے جبکہ کھانے کا ذائقہ ختم ہوگیا۔

وہ یہ تو کہنے سے قاصررہے کہ یہ مسائل ان مریضوں میں کب سامنے آئے، مگر انہوں نے شک ظاہر کیا کہ یہ علامات انفیکشن کے بیشتر شکار افراد میں نظر آتی ہیں۔

برطانوی تحقیق میں کہا گیا کہ اگر اچانک لوگ سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محروم ہوجائیں، مگر دیگر علامات نظر نہ آئیں تو ان کو 7 دن کے لیے خود کو آئسولیٹ کرلینا چاہیے تاکہ دیگر افراد اس وائرس سے بچ سکیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 873 تک پہنچ گئی ہے۔

23 مارچ کی دو پہر تک دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 43 ہزار تک جا پہنچی تھی اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 15ہزار 308 تک جا پہنچی تھی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے