جس کو اڈہ کہا جا رہا تھا وہ ایک ٹراسپورٹ کمپنی کا دفتر تھا جس کے سامنے ایک بس خاموش کھڑی تھی ۔ دفتر میں جا کر پوچھا۔ کوئٹہ کا ٹائم کب جائے گا ؟
تین بجے صیب (تین بجے صاحب) ۔ لکڑی کے ایک پرانے لیکن پینٹ شدہ کاؤنٹر کے پیچھے ایک پرانی گھومنے والی کرسی پر بیٹھے ایک روایتی جثے والے اڈہ منیجر نے احترام سے جواب دیا ۔
سیٹ ہے ؟ میں نے ایک اور سوال داغا
بالکل ہے صیب ۔
ہمیں بھی دو ٹکٹ دے دو ۔ میرے ساتھ آئے ہوئے دو جوانوں میں سے ایک نے کہا
منیجر نے جھٹ سے ایک ٹکٹ پر تین سیٹیں کاٹ دیں ۔
نہیں آپ میری سیٹ الگ سے کاٹیں ۔ میں نے گزارش بھرے لہجے میں کہا ۔
ٹھیک ہے صیب ۔ منیجر نے فورا میری بات مانتے ہوئے کاٹے ہوئے ٹکٹ پر درستگی کے لئے ضروری کاٹ پیٹ کی اور ٹکٹ مجھے دے دیا ۔
ہزار روپے کا ٹکٹ تافتان سے کوئٹہ تک کچھ زیادہ نہ لگا ۔
ٹکٹ لے کر میں آفس نے باہر نکل آیا ۔ پہلی بار احساس ہوا کہ سردی بہت زیادہ ہے ۔ میں نے جیکٹ کی زیپ چڑھانے سے پہلے اس کی اندرونی جیب سے سگریٹ نکال کر پینٹ کی جیب میں ڈال لئے ۔ اس موقعہ پر مجھے علی کا کہا یاد آیا کہ سگریٹ رکھ لو راستے میں کام آئیں گے ۔
دونوں نوجوان اس دوران ٹکٹ خرید کر دفتر سے باہر آ چکے تھے ۔ ان میں سے ایک جس کی عمر دوسرے سے زیادہ تھی نے مجھ سے پوچھا آپ کچھ کھائیں گے ؟
نہیں مجھے تو ابھی بھوک نہیں ۔ لیکن اگر آپ کو بھوک لگی ہے تو بہتر ہے کچھ پھل وغیرہ کھا لیں ۔ میں نے بن مانگی تجویز دی ۔
چلیں پھر ہم کچھ کھا کر آتے ہیں ۔ بڑی عمر کے نوجوان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور دونوں ایک طرف چل پڑے ۔
گاڑی چلنے میں ابھی تین چار گھنٹے باقی تھے اوراتنی سردی میں ایک دفتر کے سامنے کھڑے ہوکر اتنا وقت گزارنا آسان نہیں تھا۔
ریال بیچے گا ؟ ایک عجیب حلیے کے بڑی عمر کے دراز قد آدمی نے بغیر دعا سلام کے پوچھا ۔
کون سا ریال ؟
ایرانی ریال بابا ۔ میرے سوال پر درازقد آدمی نے کہا
نہیں ۔
کیوں نہیں بیچے گا ؟ کیا کرے گا ایرانی پیسے کا ؟ ایک اور سوال جس کا میرے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا
آخر مجھے جان چھڑانے کے لئے کہنا پڑا کہ جناب میرے پاس ایرانی کرنسی نہیں ہے ۔
میری جان چھوڑ کر وہ صاحب کم و پیش اپنے ہی جیسے حلیے کے ایک اور آدمی کے ساتھ جا ملے ۔ دونوں کے ہاتھوں میں پھولے ہوئے پوسیدہ تھیلے تھے اور صاف لگ رہا تھا کہ ان تھیلوں کے اندر خریدی گئی ایرانی کرنسی ہے ۔
سڑک کی دوسری جانب ایک ٹھیکے پر تازہ مالٹے دیکھ کر میری بھوک چمک اٹھی تو رہا نہ گیا ۔ دو درجن مالٹے اور کیلے خریدے کر دفتر کے سامنے واپس پلٹ آیا ۔ اسی دوران چند اور مسافر جمع ہو چکے تھے ۔
دفتر کے سامنے آکر اپنے آئندہ کے ہم سفروں کو صلح ماری تو کسی نے انکار نہ کیا اور میرے دو تین مالٹے کھاتے کھاتے دو درجن مالٹے اور درجن کیلے یہ جا وہ جا ۔
فائدہ یہ ہوا کہ کچھ سے گپ شب چل نکلی ۔ وقت گزرنے لگا۔
دونوں نوجوان کھانا کھا کر واپس آ چکے تھے ۔ اور ایرانی کرنسی خریدنے والا اپنے ایک اور ساتھی کے ساتھ دوبارہ آ دھمکا ۔
اس بار اس کا شکار دونوں نوجوان تھے ۔ کچھ منٹوں کی بحث کے بعد سودا طے پا گیا اور کرنسیوں کو تبادلہ ہو گیا ۔
مجھے کچھ دیر بعد اپنے اردگرد کئی ایسے کرنسی کے خریدار نظر آئے جن کے ہاتھوں میں چند ہزار ہزار والے پاکستانی نوٹ تھے اور کندھوں پر لٹکے ہوئے ایرانی ریالوں سے بھرے تھیلے ۔
یہ منںظم گروہ دو سڑکوں کے درمیان واقع اضافی زمین پر بیٹھ کر کھلم کھلا اپنے حساب کتاب سیدھے کر رہا تھا ۔ ایرانی ریالوں کی گنتی کے دوران بار بار انگلی زبان سے لگا کر گیلی کی جا رہی تھی ۔ کرونا وائرس کا خوف ایک طرف اور ان صاحبان کی لا پرواہی ایک طرف ۔ ایسے ماحول میں کس کو فرصت کہ سوچے کرنسیوں کا یہ لین دین قانونی ہے یا نہیں ۔
ایک سوٹڈ بوٹڈ صاحب روٹی ہاتھ میں پکڑے ٹراسپورٹ کمپنی کے دفتر داخل ہوئے ۔ ٹکٹ خریدا اور سایڈ پر رکھے صوفے پر براجمان ہو گئے ۔ سلام دعا ہوئی تو پتہ چلا جناب بزنس مین ہیں ۔ آزربائجان اور یوگینڈا کی سیر کے بعد ایران پہنچے تھے لیکن وہاں کرونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے مجبورا اپنے پلان سے زیادہ رکے رہے ۔
پونے تین بجے گاڑی کا دروازہ کھول دیا گیا اور مسافروں سے اضافی سامان گاڑی کے نچلے حصے میں رکھوانے کا کہا گیا ۔ میرے پاس ہمیشہ کی طرح ایک ہنڈ کیری تھا جس کو میں اپنے ساتھ لے کر بس میں سوار ہو گیا ۔ اللہ بھلا کرے ڈرائیور کا جس نے میرے ہاتھ سے بیگ پکڑ کر اپنی سیٹ کے پچھلے حصے میں رکھ دیا اور مجھے میری سیٹ پر بیٹھنے کا کہا۔
دیکھتے ہی دیکھتے بس بھر چکی تھی ۔ مجھے اپنی کھڑکی سے ایک پکی عمر کا شخص سڑک کے کنارے ایرانی اور پاکستانی کرنسی کی دکان لگائے اونگھتا دکھائی دے رہا تھا ۔ شاید اس کے لئے لازمی تھا کہ اگلی بس کے آنے سے پہلے اپنی تھکن اتار کر تازہ دم ہو جائے ۔
دو مسافر جو شکل اور لہجے سے لاہوری لگ رہے تھے اپنے ڈھیر سارے سامنے کے ساتھ بس کنڈیکٹر سے کسی بحث میں الجھے ہوئے تھے ۔ مجھے یقین ہو گیا یہ دونوں صاحبان کاروباری ہیں اور اس روٹ پر ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے ورنہ اتنا زیادہ سامان ایسے حالات میں کون اپنے ساتھ رکھتا ہے ۔

مجھے بس میں بیٹھے زیادہ تر مسافر لوکل لگے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ تافتان کے رہائشی ہیں تو انہیں ایران سے آئے مسافروں کے ساتھ کیوں بٹھایا جا رہا ہے ؟ ایک بات جو دیگر مسافروں کے ساتھ بات چیت کے دوران واضح ہو چکی تھی کہ بارڈر سے صرف ایسے افراد کو چھوڑا جا رہا ہے جو ایران وزٹ یا کاروباری ویزہ پر گئے تھے ۔ مجھے بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ تمام کاروباری یا وزٹ ویزہ پر جانے والے افراد متاثرہ شہروں یا زیارت پر نہ گئے ہوں ؟
میرے برابر کی سیٹ پر ایک بڑی عمر کے بزرگ جو بعد میں پتہ چلا ایران سے واپس آ رہے ہیں نے ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے مجھے تسلی ہوئی کہ میرا پڑوسی احتیاط پر یقین رکھتا ہے ۔ میری پچھلی سیٹوں پر وہ دونوں نوجوان جو میرے ساتھ بارڈر سے ایک ٹیکسی میں آئے تھے براجمان تھے ۔
ڈرائیور مسلسل ہارن بجا کر اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ بس اب روانگی کے لئے بالکل تیار ہے ۔

جاری ہے۔۔۔۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے