کیا چیز ایک بیماری کو وبا میں بدلتی ہے؟
Viral epidemics are not uncommon. This year’s flu season is shaping up to be the worst in years, according to the US Centre for Disease Control. In the US alone there have been 19 million illnesses, 180,000 hospitalizations and 10,000 deaths.
وائرل وبائی امراض غیرمعمولی نہیں ہیں- امریکن مرکز برائے تدارک امراض کے مطابق اس سال فلو کا موسم گزشتہ سالوں سے بدترین تھا- تنہا امریکہ میں ا کروڑ 90 لاکھ افراد بیمار ہوئے، ایک لاکھ اسّی ہزار ہسپتال میں داخل ہوئے اور دس ہزار اموات ہوئیں
More than 200 people in the UK had died from the 2018-19 winter strain of flu virus by February 2019, and there were more than 2,000 critical cases despite the relatively small numbers of people contracting it — meaning the virus had become more virulent. People who had been previously fit and well became critically ill.
فروری 2019ء میں فلو وائرس کے سردی میں شدت کے سبب 200 افراد کی اموات ہوئیں- 2000 افراد کے کیس خاصے شدید تھے- اس تفصیل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وائرس اب زیادہ وبائی ہوچکا ہے- ول لوگ جو پہلے فٹ نظر آتے تھے اب شدید بیمار پڑنے لگے ہیں
Over the winter of 2017-18 more than 160 people died from a flu virus in the UK, with large numbers of people treated in critical care units.
Globally, the 2009-10 strain of flu — H1N1 (2009) — killed 579,000 people in its first year, although this was fewer than predicted. It produced long-term complications in 15 times as many cases as initially projected, having spread globally in less than nine days. Major flu epidemics have been a constant feature across North and South America in the 21st Century. This is the context in which to understand the coronavirus outbreak, which began in China. We live in a world in which there is a real threat of deadly viral pandemics.
سال 2017-18 میں 160 سے زیادہ لوگ برطانیہ میں فلو وائرس سے ہلاک ہوئے اور بہت بڑی تعداد میں فلو وائرس کے شکار لوگوں کا آئی سی یو میں علاج کیا گیا- بہت سے کیسز میں طویل المدت پیچیدگیاں ابتدائی لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ تھی اور فلو وائرس نو دنوں سے بھی کم میں عالمی سطح پر پھیل گیا- اب بڑی فلو وبائیں سارے شمالی اور جنوبی امریکہ کے اندر 21 ویں صدی کا نمایاں پہلو ہیں- یہ وہ سیاق و سباق ہے جس کے اندر ہم کورونا وائرس کے پھوٹ پڑنے کو سمجھ سکتے ہیں، جس کا آغاز چین میں ہوا تھا
Coronaviruses (CoV) are a large family of viruses that cause illnesses ranging from the common cold to severe diseases such as Middle East Respiratory Syndrome (MERS) and Severe Acute Respiratory Syndrome (SARS). They are zoonotic, meaning they cross from animals to people. SARS was transmitted from civet cats to humans and MERS from dromedary camels to humans. There are an unknown — and, given viruses mutate, probably an unknowable — number of coronaviruses circulating in animals that have not yet infected humans.
کورونا وائرس وائرسوں کے ایک بڑے خاندان ہیں جو عام سردی سے شدید ترین بیماریوں جیسے مڈل ایسٹ ریزپائریٹوری سینڈروم(ایم ای آر ایس)، سیور ایکویٹ ریزپائریٹوری سینڈروم(ایس اے آر ایس) ہیں کا سبب بنتی ہیں- یہ بیماریاں زونوٹک ہیں- مطلب یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں- سارس مشکی رنگ کی بلیوں سے انسانوں میں منتقل ہوئی اور میرس ایک کوہان والی اونٹنی سے انسانوں کو منتقل ہوا- اور جانوروں میں بہت سارے نامعلوم کوروناوائرس ہیں جو گردش کرتے ہیں اور ابھی تک انہوں نے انسانوں کو متاثر نہیں کیا ہے۔
Common signs of coronavirus infection include respiratory symptoms, fever, cough, shortness of breath and breathing difficulties. In more severe cases, infection leads to pneumonia, severe acute respiratory syndrome, kidney failure and death.
کورونا وائرس انفیکشن کی علامات میں تنفس سے جڑی بیماریاں جیسے بخار،کھانسی، سانس کا پھول جانا اور سانس لینے میں دشواریاں شامل ہیں- زیادہ شدید کیسز میں انفیکشن نمونیا اور انتہائی شدید تنفس کے نظام میں خرابی جیسے گردوں کا ناکارہ ہوجانا اور موت شامل ہیں
At the time of writing, the new 2019-nCoV coronavirus had led to more than 81171infections and 3,277 deaths in China, and more than 382,108 infections and 16,568 deaths globally.
تادم تحریر، کورونا وائرس سے چین میں 81171 لوگ متاثر ہوئے جبکہ 3277 اموات ہوئیں جبکہ پوری دنیا میں ابتک 382108 لوگ اس وائرس کا شکار ہیں اور ان میں سے 16568 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان میں 887 کورونا وائرس کے مریض ہیں اور 6 کی اموات ہوئی ہے
Leading Chinese virology expert Guan Yi said after a visit to Wuhan which is at the Centre of the outbreak: “My conservative estimate is that this epidemic could end up at least 10 times the scale of SARS.” The SARS outbreak in 2002-03 killed almost 800 people around the world.
چین میں وائرلوجی کے ممتاز ترین ماہر کوآن یو نے ووہان شہر کا دورہ کرنے کے بعد کہا،’میرے اندازے کے مطابق یہ وبائی مرض سارس سے دس گنا زیادہ افراد کو شکار بناکر ہی ختم ہوگی’ 2002-03 میں سارس کے پھوٹ پڑنے سے 800 دنیا بھر میں لوگ مرے تھے
What has caused this deadly virus? There is continued speculation, most related to a market in Wuhan selling wildlife foodstuffs. There is some evidence, as Marxist evolutionary biologist Rob Wallace shows, to suggest the initial outbreak may have been at the wildlife market — but only some. Thirty-three of 585 samples at the Wuhan market were found positive for 2019-nCoV, with 31 at the end of the market where wildlife trading was concentrated. Yet only 41 percent of these positive samples were found in market streets where wildlife was kept. One quarter of those originally infected never visited the Wuhan market. The earliest case was identified before the market was hit.
اس ہلاکت انگیز وائرس کا سبب کیا ہے؟ اس بارے میں مسلسل قیاس آرائی جاری ہے- زیادہ تر نے اسے ووہان کی اس مارکیٹ سے جوڑا جہاں ہے جہاں پر جنگلی حیات سے بنی غذائی اشیا فروخت کی جاتی ہیں- اس بات کے کچھ شواہد تو ہیں- مارکس وادی انقلابی ماہر حیاتیات راب ولاس کا کہنا ہے کہ اس وبا کے ابتداء میں پھیلنے کا سبب وائلڈ لائے مارکیٹ ہوسکتی ہے- لیکن کچھ ہی ہو سکتی ہے-ووہان مارکیٹ سے لیے گئے 885 افراد کے خون کے نمونوں میں سے 33 افراد میں کورونا وائرس پازيٹو پایا گیا اور 31 ان میں سے وائلڈلائف ٹریڈنگ مارکیٹ سے جڑے تھے-41 فیصد ان پازیٹو کیسز میں سے مارکیٹ سے تھے-ان میں سے ایک چوتھائی ایسے افراد تھے جو کبھی ووہان مارکیٹ گئے ہی نہیں تھے- جبکہ ابتدائی کیس مارکیٹ کے اس وائرس کا شکار ہونے سے پہلے دریافت ہوچکا تھا
A cause for this specific strain of virus may be found. But that won’t explain the global and escalating variety of viral diseases, why they are more virulent or why they spread faster and further than ever before. For that, we need to understand how capitalism has created the context in which deadly viruses thrive.
کورونا وائرس کا ایک خاص سبب وائلڈ لائف مارکیٹ ہوسکتی ہے- لیکن یہ سبب مختلف قسم کی وائرل بیماریوں کے عالمی سطح پر اور شدت سے پھیلنے کی وضاحت نہیں کرتا- یہ زیادہ شدید وبائی صورت میں کیوں پھیل رہی ہیں یا اب سے پہلے کی نسبت تیز اور زیادہ کیوں پھیل رہی ہیں؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کیسے سرمایہ داری نے وہ سیاق و سابق جنم دیا ہے جس نے ہلاکت انگیز وائرسوں کو پھیلا دیا ہے۔
China is a good place to start. Over the past 50 years and, in particular, in the 21st century, industrial food production in China has grown on a scale never before seen.
چین سے شروعات کرنا ٹھیک رہے گا- گزشتہ 50 سالوں میں اور خاص طور پر 21ویں صدی میں انڈسٹریل فوڈ پروڈکشن چین میں جتنے بڑے پیمانے پر پھلی پھولی ہے، اتنے بڑے پیمانے پر کبھی نہیں پھلی پھولی
For example, by 1997, when H5N1 — a new strain of flu — emerged, Guangdong in Southern China was home to 700 million chickens. These were bred, raised, slaughtered and processed in a vertically integrated, industrial environment supported by feed mills and processing plants. Through the 1990s poultry production grew at a remarkable 7 percent per year. The value of processed poultry exports — which include duck and goose — grew from $6 million to $774 million between 1992 and 1996.
مثال کے طور پر،1997 سے،جب ایچ5این1 فلو کی ایک نئی وائرل بیماری شمالی چین میں صوبہ کوآن تونگ میں پھوٹی تھی تو اس صوبے میں 7 کروڑ مرغیاں تھیں- ان مرغیوں کو یہاں بریڈ کیا جاتا، پالا پوسا جاتا،ذبح کیا جاتا اور فیڈ ملوں اور پروسسنگ پلانٹس کے زریعے سے ان کو سپورٹ دیکر باہم مربوط کرکے صنعتی ماحول میں جوڑ دیا جاتا تھا- نوے کی دہائی میں پولٹری پروڈکشن 7 فیصد سالانہ کی نمایاں شرح سے بڑھی- پروسس پولٹری ایکسپورٹ جس میں بطخ اور ہنس راج کے پروسس گوشت کی ایکسپورٹ بھی شامل تھی 6 ملین ڈالر سے بڑھ کر 77 کروڑ 40 لاکھ ڈالر 1992-96 میں ہوگئی تھی
This took place cheek-by-jowl with the growth of an enormous and highly transient population in the Pearl River Delta.
اتنے بڑے پیمانے پر پولٹری ایکسپورٹ کے کاروبار کی یہ بڑھوتری دریائے پرل کے ڈیلٹا پر بہت بڑی عارضی آبادی کے ساتھ ساتھ ہوئی
The region linked with Hong Kong has become one of the world’s major export-import centres, with extensive transport routes inland from the Pearl River Delta as well as overseas. The magnitude of poultry intensification combined with the pressures on Guangdong wetlands from the burgeoning population created an array of viral infections that circulate year-round in what Wallace describes as a “virulence ratchet”.
ہانگ کانگ سے جڑا ہوا خطہ جہاں دریائے پرل ڈیلٹا سے بہت سارے زمینی سفری راستوں کے ساتھ دنیا کے ایکسپورٹ-امپورٹ کے بڑے مراکز میں سے ایک بن گیا- وہیں یہ بیرونی نقل و حمل کا بھی بڑا مرکز بن گیا- پولٹری کے کام کی شدت کے ساتھ کوان تونگ آبی علاقوں پر سرمایہ کاروں کی آبادی کے دباؤ نے وائرل انفیکشن کی لہر کو پیدا کردیا جو ہر سال ایسے گردش کرتا ہے جسے ولاس وائرولینس راشیٹ/کھانچے دار پہیہ کہتا ہے
Intensive industrial food production provides ample opportunity for viruses to mutate and spread across poultry hosts, while the proximity and size of the local human population provides a cross-over gateway for viruses to infect human populations.
شدید صنعتی فوڈ پروڈکشن پولٹری کے میزبانوں میں وائرسوں کو داخل کرنے اور پھیلانے کا پورا موقعہ فراہم کرتی ہے- جبکہ مقامی انسانی آبادی کی قربت اور جسامت انسانی آبادیوں میں اسے داخل کرنے کے لیے گیٹ وے کا کام دیتی ہے۔
This mass industrial production sits alongside more traditional wet markets and consumption of exotic foods. Expanding agricultural production through deforestation has pushed the search for wild foods deeper into the last of the primary landscapes “dredging out a wider variety of unknown and potentially proto-pandemic pathogens”, according to Wallace.
بڑے پیمانے پر ہونے والی صنعتی پروڈکشن زیادہ روایتی آبی منڈیوں اور غیرملکی کھانوں کی کھپت والی جگہوں کے ساتھ بیٹھتی ہے- ولاس کے مطابق،’جنگلات کی کٹائی کے زریعے زرعی پیداوار کے پھیلاؤ نے جنگلی خوراک کی تلاش کو آخری پرائمری لینڈاسکیپ تک دھکیل دیا اور اس نے وسیع اقسام کی انجانی اور پروٹو وبائی امراض پھیلانے والے وائرسوں کے جال کو پھیلادیا
The industrial model of agriculture and livestock rearing explains how we have come to a point when each year brings the threat of a new and potentially deadly global virus.
زراعت اور لائیوسٹاک کی پروش کا صنعتی ماڈل وضاحت کرتا ہے کہ کیسے ہم ایسے مقام تک آن پہنچے ہیں جہاں ہر سال ایک نئی اور ہلاکت انگیز امکان رکھنے والی عالمی وائرس تھریٹ کا ہمیں سامنا ہے
Karl Marx recognised the many and varied dangers an industrialised agriculture posed to the health and wellbeing of humanity, as recent analysis of many of his little-known notebooks show. In fact, Marx developed a detailed and sophisticated critique of the industrial food system in Britain in the mid-nineteenth century, a period historians have called “the Second Agricultural Revolution”.
کارل مارکس نے صنعتی زراعت سے انسان کی فلاح اور صحت کو لاحق بہت سے مختلف خطرات کو پہچان لیا تھا،جیسے اس کی کم جانی جانے والی نوٹ بکوں کے حالیہ تجزیہ سے پتا چلا ہے- اصل میں مارکس نے برطانیہ میں انیسویں صدی کے وسط میں صنعتی فوڈ پروڈکشن سسٹم کی انتہائی تفصیلی اور دقیق تنقید پر پیش رفت کی تھی- جبکہ اس زمانے کے مورخین اس دور کو ‘ زرعی انقلاب کا دوسرا دور’ قرار دے رہے تھے
Not only did Marx study the production, distribution and consumption of food, he was the first to conceive of these as constituting a problem of changing food “regimes” — an idea that has since become central to discussion of the capitalist food system. Marx based his materialist conception of history on the notion that “the first premise of human existence” is to produce the means of subsistence, beginning with food, water, shelter, clothing and extending to all of the other means of life.
مارکس نے نہ صرف خوراک کی پیداوار، تقسیم اور کھپت کا مطالعہ کیا بلکہ وہ پہلا آدمی تھاجس نے ان کو بدلتے ہوئے فوڈ رجیموں کے بارے میں ایک مسئلے کا جنم داتا ہونے کا ادراک بھی کیا- یہ ایک ایسا تصور ہے جسے ابھی بھی سرمایہ دارانہ فوڈ سسٹم بارے بحث کا مرکزی خیال بننا ہے- مارکس نے اپنے مادیاتی تصور تاریخ کی بنیاد اس خیال پر رکھی کہ انسانی زندگی کا پہلا مقدمہ زندگی کو باقی رکھنے کے زرایع پیدا کرنا ہے۔ خوراک، پانی، رہائش ، کپڑے کی پیداوار سے شروع کرکے اسے زندگی کے دوسرے سب زرایعوں تک پھیلانا ہے۔
“All labour,” he wrote in Capital, “is originally first directed towards the appropriation and production of food.” Ensuring nutritious, safe food is of primary importance.
اس نے ‘سرمایہ’ میں لکھا،”ساری محنت اصلی طور پر سب سے پہلے خوراک کی تخصیص اور پیداوار ہوا کرتی ہے۔” سب سے بنیادی اہمیت متناسب اور محفوظ خوراک کو یقینی بنانا ہے۔
Marx was outspoken in the mid-19th century about the abuse of animals by new methods of breeding. Sheep and cattle breeds were developed to be rounder and broader, carrying heavier loads of flesh and fat relative to bone, to the point where animals could often barely support their own weight.
انیسویں صدی کے وسط میں کارل مارکس افزائش نسل کے نئے طریقوں کے ساتھ جانوروں سے بدسلوکی پر بہت بے باکی سے بات کی- بھیڑوں اور مویشیوں کی افزائش نسل میں ترقی کا عمل گھیردار اور وسیع تر تھا جس میں ہڈی پر گوشت اور چکنائی کا بھاری تر لدھان ہوتا اور یہ اس مقام تک چلا جاتا جہاں پر جانور خود اپنے بوجھ کو بہت مشکل سے سہار پاتے تھے
The growth rate of animals bred for meat production accelerated, with sheep and cattle subject to butchering after two rather than five years. Calves were weaned earlier in order to increase dairy production. Bullocks were increasingly stall-fed and kept tightly confined. Cattle were fed a concoction of ingredients to speed up growth, including imported oilcakes which produced richer manure. Each bullock was fed some ten pounds of oilcake a day and slaughtered the moment they reached maturity.
گوشت کی پیداوار میں تیزی لانے کے لیے جانوروں کی افزائش نسل کی شرح ترقی میں اضافہ ہوا- بھیڑ اور مویشی پانچ سال کی بجائے دو سال ميں کٹنے لگے- ڈیری پروڈکشن میں اضافے کے لیے بچھڑوں کو پہلے ہی دودھ پلایا جانے لگا- بیلوں کو تیزی سے سٹال کھلایا جاتا اور ان کو سختی سے ایک جگہ محصور رکھا جاتا- مویشیوں کو تیزی سے گروتھ کے عمل میں شامل رکھنے کے لیے ونڈا کھیلایا جاتا- اس میں درآمدی آئل کیک بھی شامل ہوتا جس سے زیادہ اچھی کھاد آتی- ہر ایک بیل کو دن میں دس پاؤنڈ آئل کیک کھلایا جاتا اور جیسے ہی وہ بلوغت کو پہنچتے تو ان کو ذبح کردیا جاتا
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے