شفقنا اردو: افغان دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد اور خود کش بمباروں نے سکھ مذہبی کمپلیکس پر حملہ کردیا۔

رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 کے قریب افراد اندر پھنس گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے صحافیوں کو ایک پیغام میں بتایا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو بند کردیا ہے اور حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں کہ کتنے حملہ آور وہاں موجود ہیں اور وہ کون ہیں اور یہ بھی نہیں معلوم کہ حملے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

طالبان کے ترجمان نے ٹوئٹر پر بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔

رکن پارلیمنٹ نریندر سنگھ خالصا، جو اقلیتی سکھ برادری کی نمائندگی کی کرتے ہیں، کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ صبح سویرے ہونے والے حملے میں 4 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تقریباً 200 افراد اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’3 خودکش حملہ آور دھرم شالا میں داخل ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مسلح افراد نے ایسے وقت میں حملہ کیا جب دھرم شالا عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز حملہ آوروں کے ساتھ لڑنے میں مصروف ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے ایک روز قبل ہی افغانستان کے رہنماؤں افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے مابین متوازی حکومت کی تشکیل سازی میں عدم اتفاق پر ایک ارب ڈالر کی امداد میں کمی کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے کمپلیکس کی ایک منزل کو کلیئر کردیا ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے تاکہ شہریوں کی ہلاکت سے بچا جاسکے۔

واضح رہے کہ 2018 میں بھی سکھ برادری پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

افغانستان کے مشرقی حصے میں قائم شہر جلال آباد میں ہونے والے اس حملے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے