شفقنا اردو: خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر تین دن سے لاک ڈاؤن ہے لیکن گومل میڈیکل کالج میں قائم کیے گئے قرنطینہ سینٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مدرسہ فیض العلوم میں دینی تعلیم کا سلسلہ حکومتی پابندی کے باوجود بھی جاری ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یہاں دفعہ 144 نافذ ہے اور ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہے لیکن مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے ایسے کوئی اقدامات تاحال نظر نہیں آتے جن میں ان پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہو۔

انڈپینڈنٹ اردو نے گذشتہ روز تھانہ کینٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایس ایچ او صابر بلوچ سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انہوں نے ایسے مدارس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور آج بھی یہ مدرسہ معمول کے مطابق کھلا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب مذکورہ مدرسے میں زیرتعلیم بچوں کے والدین سے رابطہ کیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘بچوں کو مدرسے جانے سے اس لیے نہیں روک رہے کہ ان کے اساتذہ نے کہا ہے کہ قرآن کی تعلیم دینے سے کون سا کرونا وائرس ہوتا ہے اور دوسرا اگر ہم اپنے بچوں کو مدرسے جانے سے روکتے ہیں تو پھر اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں غیرحاضری پر مدرسے سے خارج نہ کردیا جائے اور دوبارہ داخلہ بھی نہ ملے۔’

واضح رہے کہ اس مدرسے میں سینکڑوں بچے اور بچیاں زیرتعلیم ہیں لیکن انتظامیہ اس مدرسے کو بند کروانے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔

سٹی ایم پی اے فیصل امین گنڈہ پور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ‘علما کی اکثریت نے ویڈیو پیغامات میں کہا ہے کہ اگر حکومتِ وقت اور ڈاکٹرز کسی بھی وبا کے بارے میں کوئی ہدایت دیتے ہیں تو اس عمل کرنا چاہیے۔’

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ‘ہم اس لیے لوگوں کے ساتھ رعایت یا تعاون کررہے ہیں کہ یہ غریب لوگ ہیں۔ لیکن ہم بار بار درخواست کررہے ہیں کہ انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ہدایت پر عمل کریں کیوں کہ اس بیماری کا حل پوری دنیا میں تشخیص نہیں ہوا، سوائے سماجی دوری کے، لیکن اگر عوام اس چیز پر عمل نہیں کریں گے اور اکٹھ کی شکل میں جمع ہوں گئے تو پھر یہ بیماری پھیلے گی اور خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ یہ تعداد مزید بڑھ جائے۔’

فیصل امین گنڈہ پور نے مزید کہا کہ انتظامیہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور کرتی رہے گی۔ ایسے لوگ نہ رکے تو پھر سخت اقدام بھی اٹھائیں گے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے اس سلسلے میں مدرسہ فیض العلوم کے ناظم سے رابطہ کیا تو وہ مدرسے میں موجود نہیں تھے لیکن مدرسہ فیض العلوم کے مہتمم مولانا عبدالجبار کا موقف یہ تھا کہ ‘مدرسے میں روزمرہ کی بنیاد پر مقامی بچے آتے ہیں لیکن وہ تعلیم حاصل نہیں کرتے بلکہ صفائی وغیرہ کرکے چلے جاتے ہیں۔’

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے