شفقنا اردو: چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا نے جب دنیا کے دیگر ممالک کا رخ کیا تو چھوٹے بڑے تمام ہی ملک طبّی آلات جیسا کہ وینٹی لیٹر، ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے حفاظتی لباس کی کمی کا شکار نظر آئے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چند کے پاس درکار وقت نہیں تو کسی کے پاس وسائل۔

اس لیے دنیا بھر کے بہت سے انجینیئر اور ڈاکٹر سر جوڑ کر یہ سوچنے میں مصروف ہو گئے کہ طبّی آلات کی اس قلت کو کم وقت اور وسائل سے کیسے دور کیا جائے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے اینستھیسیا کے ماہر الیگزینڈر کلارک نے 19 مارچ کو ٹوئٹر پر اپنی تحقیق شئیر کی جس میں تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے ایک ایسا آلہ ‘وینٹی لیٹر سپلیٹر والز’ صرف چھ گھنٹوں میں تیار کیا جا سکتا ہے جو ایک وینٹی لیٹر پر چار افراد کو بیک وقت سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

اگرچہ اس قسم کے آلات پہلے بھی دنیا کہ مختلف ممالک میں استعمال ہو رہے تھے تاہم ایلکس کے ڈیزائن کئے ہوئے وینٹی لیٹر کو آپ ہر مریض کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
الیگزینڈر کلارک کی اس تحقیق کا علم جب پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر عبداللہ افضل کو ہوا جو پاکستان کی وینٹی لیٹر کی قلت کو دور کرنے کے لیے اسی قسم کے حل کی تلاش میں تھے تو انھوں نے اس تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان وینٹی لیٹر سپیلٹر والز کو تیار اور اس کی آزمائش کرنے کی ٹھان لی۔

انجینئر عبداللہ افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے 2017 میں انجینئرنگ کرنے کے بعد ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ یہ کمپنی مختلف اشیا کو برآمد بھی کرتی ہے اور انھوں نے جلیبی بنانے کی ایک مشین بھی بنائی ہے۔

عبداللہ اور ان کی ٹیم نے الیگزینڈر کلارک کی ریسرچ کی مدد سے صرف چند ہی دنوں میں نہ صرف اس آلے کو تیار کر لیا بلکہ اس کا شوکت خانم ہسپتال میں آزمائشی تجربہ بھی کیا۔

تاہم انھوں نے یہ تجربہ خالی وینٹی لیٹر کو چلا کر کیا ہے اور کسی مریض کو لگا کر نہیں دیکھا گیا۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ ‘ہم لوگوں کے پاس تھری ڈی لیب موجود تھی۔ اس لیب میں ہم نے اس کو تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کیا اور اس کے بعد مختلف ہسپتالوں سے رابطے قائم کیے۔ جس میں شوکت خانم نے اس پر تجربہ بھی کیا اور اس کو کامیاب بھی قرار دیا۔‘

عبداللہ کے مطابق اب تک وہ پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں تقریباً دو سو پچاس تک وینٹی لیٹر سپلیٹر فراہم کر چکے ہیں۔ ‘ہمارے پاس اس پر دن رات کام ہو رہا ہے۔ جو بھی ہم سے رابطہ کرتا ہے ہم ان کو فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

الیگزینڈر کلارک نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس کا ڈیزائن اس لیے انٹرنیٹ پر ڈالا ہے تا کہ جو چاہے وہ اسے مفت فائدہ اٹھا سکے ۔اگرچہ الیگزینڈر نے اپنی تحقیق کو ایک جرنل میں شائع بھی کروایا ہے تاکہ کوئی اور اس کو اپنے کام کے طور پر پیش نہ کرسکے تاہم انھوں نے اس کو اپنے نام پر رجسٹر یا پیٹنٹ اس لیے نہیں کروایا تاکہ لوگ اس کا استعمال مفت کر سکیں۔

‘یہ ڈیزائن ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور میں نے خود اسے کسی مریض پر استعمال نہیں کیا۔ میں اس کو دنیا بھر سے ملنے والے ردعمل کے ذریعے بہتر بناتا جا رہا ہوں اور اس سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ ردعمل پاکستان کے انجینیئر کی جانب سے آیا۔’

الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ اس آلے کی افادیت کا بڑا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کو اچھی کوالٹی کے تھری ڈی پرنٹر اور میٹریل سے تیار کیا جائے ورنہ ناقص مٹیریل سے بنے یہ سپلیٹر مریض کی جان کے لیے خطرہ بھی ہو سکتے ہیں۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان ویلنٹی لیٹر سپلیٹرز کے تیاری پر اٹھنے والی لاگت ابھی تک وہ خود برداشت کر رہے ہیں۔ عبداللہ اور ان کی ٹیم رضاکار ڈاکٹروں اور انجینئرز پرمشتمل پی اے سی وی نامی ایک گروپ کا حصہ ہے۔

پاکستان میں جب کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو یہ بات شدت سے محسوس کی جانے لگی کہ پاکستان کے پاس اس سے نمٹنے کی مناسب صلاحیت موجود نہیں ہیں۔ جس کا اظہار حکومتی حکام بھی کرتے رہے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں موجود پیشہ ور طبقات انجینئر، ڈاکٹر اور دیگر نے مل کر پی اے سی وی نامی ایک گروپ قائم کیا جو رضا کارانہ طور پر ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان میں پی اے سی وی کی بنیاد رکھنے والے کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بلال صدیقی ہیں جو اس وقت ایک نجی ادارے میں چیف انجینیئر کے فرائض انجام دے رہے ہیں مگر اس سے پہلے وہ مختلف تعلیمی اداروں میں بحیثیت استاد منسلک رہے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے وقت میرے ذہن میں خیال آیا کہ پاکستان کے پاس تو کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور مختلف مشینری موجود ہی نہیں ہے جبکہ اس کی ضرورت پڑے گی۔ جس پر میں نے سوشل میڈیا کے ایسے گروپس جن میں پیشہ ور انجینیئرز اور چند میرے شاگرد شامل تھے ان کے سامنے تجویز رکھی کہ اس موقع پر ہمیں اپنے ملک و قوم اور پاکستان کے لیے کام کرنا چاہیے، ہمیں حکومت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کے ہسپتالوں کو کن چیزوں کی ضرورت ہے اور ہم کیا کرسکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر بلال صدیقی کا کہنا تھا کہ ’جب یہ تجویز پیش ہوئی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کئی لوگ، کئی چھوٹی بڑی کمپنیوں سے منسلک انجینئر سامنے آئے اور انھوں نے پوچھا کہ بتائیں کیا کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس پر بات چیت شروع کی تو سمجھ میں آیا کہ پاکستان کے ہسپتالوں کو کئی چیزوں کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ان کے بارے میں بات کرتے تو کئی لوگ اس پر کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ شروع میں ہم نے یہ گروپ پانچ لوگوں سے شروع کیا تھا اب اس میں پانچ سو سے زیادہ لوگ ہیں۔ چند ہی دونوں میں حفاظتی لباس، سپیلڑز وال، نان کنٹیکٹ تھرمیڑ، انسوویلٹر، خراب وینٹیلڑز کی درستگی جیسے پراجیکٹ شروع کر چکے ہیں۔‘

ڈاکٹر بلال صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمارے انجینئر دن رات کام کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔ ہم لوگ جو بھی مشنیری اور ڈیزائن مارکیٹ میں لارہے ہیں ان کے ڈیزائن اور تیاری پر پاکستان میں کوئی بھی کاپی رائٹس نہیں ہیں۔ یہ بالکل بھی کاروباری مقاصد کے لیے نہیں ہے بلکہ کچھ کمپنیاں تو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے مشنیری ہسپتالوں کو پہنچا رہی ہیں۔

نان کنٹیکٹ تھرمامیڑ

ڈاکٹر بلال صدیقی کے مطابق ان کے گروپ میں شامل رضا کار انجینئر زید پیروانی نے نان کنٹیکٹ تھرمامیٹر ڈیزائن کیا ہے۔ موجود دور اور موجودہ وبا میں یہ انتہائی ضرورت کا آلہ ہے جس کی مدد سے چند میٹر کے فاصلے سے کسی کا بھی بخار کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر بلال کے مطابق انجینئیر زید پیروانی نے یہ آلہ تین دن میں ڈیزائن کیا ہے۔ اس کا ڈیزائن بھی انٹرنیٹ پر دے دیا گیا ہے جو بھی اس کو پاکسان کے لیے تیار کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ مگر اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اندر لگنے والا ایک آلہ باہر سے آتا ہے وہ نہیں آرہا اور اس کی قیمت ایک ڈالر سے بڑھ کر پچاس ڈالر ہو چکی ہے۔ جس وجہ سے اب تک اسے تیار نہیں کر سکے ہیں مگر ہمیں امید ہے کہ جب بھی اس کا آلہ دستیاب ہو گا اس کو ہم مقامی طور پر تیار کرلیں گے۔

خراب وینٹیلٹرز کی مرمت

ڈاکٹر بلال صدیقی کے مطابق ایک تجویز اور پیش ہوئی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں خراب وینٹی لیٹر موجود ہیں۔ ان کی مرمت کا کام کیا جانا چاہیے۔

اس کے لیے پاکستانی فوج کے کی انجینئرنگ کور میں میڈیکل ڈیوائسز کے ڈویژن میں کام کرنے والے کچھ ریٹائرڈ افراد سامنے آئے۔ انھوں نے خود کو اس کام کے لیے وقف کیا۔ یہ کوئی بیس کے قریب لوگ ہیں جن کی قیادت انجینئیر ظہور کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسلام آباد، لاہور، کراچی میں اب تک 30 خراب وینٹی لیٹرز کو ٹھیک کیا ہے۔

ڈاکٹر بلال صدیقی کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم لوگ یہ کوشش بھی کر رہے ہیں کہ وینٹیلیٹرز کو مقامی طور پر بھی تیار کیا جائے۔ مختلف تھری ڈی لیبز میں کام جاری ہے۔ امید کر رہے ہیں کہ اس میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے