شفقنا اردو: چینی اور گندم بحران انکوائری منظر عام آنے کے بعد سے سیاسی منظرنامے ہلچل کا سلسلہ بدستور جاری ہے، وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گنے کے کاشتکاروں کو اس شرط کے ساتھ رواں سال کے دوران چینی کی برآمد کی اجازت دی تھی کہ ملک میں اجناس کی کمی نہیں ہوگی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ان کی ہدایت پر حالیہ شوگر اور گندم کے بحران کی ابتدائی تحقیقات کی رپورٹیں جاری کی گئیں اور انہوں نے گنے کے کاشتکاروں کی مدد کے لیے رواں مالی سال چینی برآمد کرنے کی اجازت دی۔

حکومت کا دعوی ہے کہ گندم اور شوگر بحران کی انکوائری رپورٹ عوامی سطح پر پیش کی گئی تاکہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر قیمتیں بڑھانے والوں قرار واقعی سزا دی جا سکے۔

تاہم قیمتوں میں اضافے اور اس کے بعد ہونے والے بحران کے مجرم کون ہیں اس حوالے سے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے جس نے وزیر اعظم کو انکوائری کا حکم دینے پر مجبور کردیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو چینی کی برآمد پر دی جانے والی سبسڈی کے فائدہ اٹھانے والوں کے طور پر نامزد کیا گیا تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اصل غلطیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا گیا، پہلے شوگر کی برآمد کی دینا اور پھر سبسڈی دینا۔

وفاقی کابینہ نے چینی کی برآمد کی منظوری دی تھی، حکومت پنجاب نے چینی پر دی جانے والی سبسڈی کی منظوری دی تھی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال ملک میں 20 لاکھ ٹن زائد چینی ہے اور اسی وجہ سے شوگر ملز کے مالکان کاشتکاروں سے گنے کی خریداری سے گریزاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گنے کے کاشتکاروں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے زائد چینی کی برآمد کی اجازت دی، اس شرط کے ساتھ کہ مقامی ضرورت کی صورت میں چینی برآمد نہیں کی جاسکتی۔

واضح رہے کہ ملک میں چینی اور گندم کے حالیہ بحران سے متعلق دو رپورٹیں منظر عام پر آئیں جس میں حکمراں پی ٹی آئی کے اہم رکن جہانگیر ترین اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے وفاقی وزیر برائے خوراک برائے تحفظ خسرو بختیار، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مونس الٰہی اور ان کے لواحقین کے نام سامنے آئے جنہوں نے چینی کی برآمد میں غیر مناسب فائدہ اٹھایا۔

دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے شوگر بحران سمیت (انکوائری کمیشن کے ممبروں) کو دھمکیاں دینے والے افراد کو متنبہ کیا کہ اگر وہ دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا وزیر اعظم نے دھمکیوں کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔

دوسری جانب جہانگیر ترین کو پارٹی کی ٹاسک فورس کے دفتر سے برطرف کردیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جہانگیر ترین ایسی کسی ٹاسک فورس کا سربراہ بننے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ کورونا وائرس سے معتلق وزیراعظم ریلیف فنڈ کی 144 ارب روپے کی فراہمی آج (بدھ) سے شروع ہوگی جس کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ غریب خاندانوں کو12 ہزار کا 4 ماہ کا وظیفہ دیا جائے گا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مراز شہزاد اکبر نے بتایا کہ چینی کے بحران سے متعلق انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شوگر کارٹیل نے خود ہی چینی کی درآمد کی قیمت مقرر کی ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمت سے ہمیشہ زیادہ رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اب حکومت چینی کی قیمت خود طے کرے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کو سبسڈی وفاقی حکومت نے نہیں بلکہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2017 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کو 20 ارب روپے کی سبسڈی دی تھی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز نے ایسوسی ایشن کے ایک وفد کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کی اور سبسڈی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ حکومت سندھ نے اومنی گروپ کی شوگر ملوں کو 2014 سے 2018 کےدوران 20 روپے فی کلو کے حساب سے سبسڈی دی۔

ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا کہ شوگر اور گندم کے بحران سے متعلق انکوائری کمیشن کی حتمی رپورٹ 25 اپریل کو جاری کی جائے گی جس کے بعد وزیراعظم ملوث افراد کے خلاف تعزیری کارروائی کریں گے۔

دوسری جانب شوگر اور آٹے کی چکی کے مالکان فرانزک آڈٹ کی وجہ سے بہت پریشان ہیں کیوںکہ وہ جانتے ہیں کہ فرانزک تفتیش میں ان کے تمام غیرقانونی کام بے نقاب ہوجائیں گے۔

ایک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس رزاق داؤد نے چینی اور گندم کے بحران کے ذمہ داران کے خلاف بروقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے اپنی وزارت صنعت و پیداوار بھی کھو دی ہے۔

وزارت برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کو تفویض کردی گئی جو اس سے قبل وزارت اقتصادی امور کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے