دل کی بات لبوں پر لانے سے شہباز شریف صاحب ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔اسی باعث میں نے آج تک کسی ’’خبر‘‘ کو جاننے کے لئے ان سے رابطے کا تردد نہیں کیا۔باہمی عزت واحترام کا رشتہ اس کی بدولت برقراررہا اگرچہ میں ان کے اندازِ سیاست کا بے رحم نقاد رہا ہوں۔

میرے دل میں موجود اس حوالے سے بے رحم جذبات کو اس انٹرویو نے مزید اُکسایا جو گزشتہ ہفتے کے روز چھپا ہے۔سہیل وڑائچ نے اپنے مخصوص طریقہ واردات کو استعمال کرتے ہوئے ان سے بہت کچھ اُگلوالیا۔ میرا ساتھی آبدوز کی مانند معصومیت کی گہرائی میں ڈوب کر سوال پوچھنے کا عادی ہے۔نہایت معصومیت سے بہت کچھ اُگلوالیتا ہے۔

شہباز صاحب سے سہیل وڑائچ نے جو کچھ اُگلوایا اس نے وباء کے ادا س موسم میں میرے اندر مردہ ہوئے بھانڈ کو انگڑائی لے کر جاگنے کو مجبور کردیا۔میرا آج کا کالم جگتوں کا چھابہ لگاکر دیہاڑی کماسکتا تھا۔ دل مگر پژمردہ ہوچکا ہے۔اچھے خاصے مواد کے ہوتے ہوئے بھی پھکڑپن کو ہرگز مائل نہیں ہورہا۔

یہ حقیقت مگر ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کہ مذکورہ انٹرویو میں شہباز شریف صاحب نے برملا انکشا ف کیا ہے کہ جولائی 2018کے انتخابات سے ایک ماہ قبل تک وہ ’’مقتدر‘‘ قوتوں سے رابطہ میں تھے۔ اس ضمن میں دو صحافی سہولت کار کا فریضہ بھی انجام دے رہے تھے۔صحافت میں تمام عمر گزارتے ہوئے میں ہمیشہ اس گماں میں رہا کہ صحافی فقط ’’خبر‘‘ ڈھونڈتے ہیں۔اپنی کھوج سے جن حقائق کا پتہ چلائیں انہیں ذہن میں رکھتے ہوئے ’’تجزیہ‘‘ بگھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے خبر نہ تھی کہ صحافی ’’مقتدر‘‘ حلقوںاور شہباز شریف جیسے قدآور سیاست دانوں کے مابین پیغام بری کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔اس حوالے سے اپنی کوتاہیٔ فن دریافت کرتے ہوئے بہت شرمندگی ہوئی۔’’فرازؔ تم کو نہ آئیں محبتیں کرنیں‘‘ یاد ا ٓگیا اور اپنی تمام تر صحافت رائیگاں کا سفر ہی محسوس ہوئی۔ ’’اب پچھتائے کیا ہوت‘‘ سوچتے ہوئے مگر اتوار کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھنے کا حوصلہ نصیب ہوا۔

شہباز صاحب نے فرمایا ہے کہ جولائی 2018سے قبل ان کے وزیر اعظم ہونے کی صرف اُمید ہی نہیں دلائی جارہی تھی۔ ان کے اس منصب تک پہنچنے کو بلکہ اس حد تک یقینی شمار کیا گیا کہ انتخابات مکمل ہوجانے کے بعد ان کی قیادت میں بنائی کابینہ کے وزراء کے نام بھی مشاورت سے طے ہوچکے تھے۔ ’’قیادت‘‘ نے گویا اپنی متوقع ٹیم کے لئے کلیئرنس بھی حاصل کرلی تھی۔شہباز شریف صاحب مگر بالآخر وزیر اعظم نہ بن پائے۔

اپنے ہدف کے حصول میں ناکامی کا ذمہ دار انہوں نے اس ’’بیانیے‘‘ کو ٹھہرایا ہے جو یاد رہے کہ میرے اورآپ جیسے کسی عامی نے نہیں بلکہ ان کے سگے بڑے بھائی نے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘کی دہائی مچاتے ہوئے ایجاد کیا تھا۔اس ’’بیانیے‘‘ کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے اپنی اہلیہ کو بسترمرگ کے سپرد کرتے ہوئے دُختر سمیت لندن سے لاہور تشریف لے آئے اور احتساب عدالت کی سنائی سزا بھگتنے جیل چلے گئے۔ شہباز شریف ان کے استقبال کے لئے لاہور کی مسلم مسجد سے روانہ ہوکر ایئرپورٹ نہیں پہنچ پائے تھے۔ ایئرپورٹ سے دوری بھی اگرچہ ان کے کام نہیں آئی۔ وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہی رہے۔وزارتِ عظمیٰ کھودینے کے بعد اب تلافی کا موسم ہے۔اللہ کرے کہ آئندہ ان کے کام آئے۔سہیل وڑائچ کو اگرچہ شہباز صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ نواز شریف بھی اپنے ’’بیانیے‘‘ سے توبہ تائب ہوچکے ہیں یا نہیں۔یہ وضاحت فرمادیتے تو بہتوں کا بھلا ہوجاتا۔

شہباز صاحب کے انٹرویو کو ذہن میں رکھتے ہوئے میرا من پھکڑپن کو اس لئے بھی رضا مند نہیں ہورہا کیونکہ نہایت دیانت داری سے یہ محسوس کررہا ہوں کہ زمانہ اب ’’مابعدِکرونا‘‘ کا شروع ہوچکا ہے۔کرونا وائرس نے پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر میں اقتدار کے حوالے سے گزشتہ کئی دہائیوں سے موجود ڈھانچوں یعنی Structuresکو پاش پاش کردیا ہے۔سیاسی عمل اب نئے سوالات اُٹھانے کا تقاضا کررہا ہے۔ان سوالات کے جواب ڈھونڈتے ہوئے دُنیا بھر کے سیاست دانوں کو نئے بیانیے تشکیل دینا ہوں گے۔

کرونا وائرس نے پرانے بیانیوں کی چھٹی کروادی ہے۔میری بات کو سمجھنا ہو تو برائے مہربانی وقت کی فراوانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سمارٹ فونز کے ذریعے گزشتہ دو ہفتوں سے ٹرمپ کے ٹی وی سکرینوں پر ’’بدلے بدلے انداز‘‘ کا بغور جائزہ لیں۔

بورس جانسن پر جو گزری اسے بھی ذہن میں رکھیں۔ہمارے عمران خان صاحب کا لہجہ بھی بدل چکا ہے۔اگرچہ ان کے ریگولراور سوشل میڈیا پر چھائے باقاعدہ کے علاوہ خود ساختہ ترجمان وہی ’’انداز پرانے‘‘ اپنائے ہوئے ہیں۔ناقدوں کو یہ انداز معاف کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔ یوٹیوب پر Influencersکی ایک فوج بھی چڑھادی گئی ہے۔وہ ہمیں قائل کرنے کو بضد ہے کہ ان کے ’’مرزا یار‘‘ کے لئے کرونا وائرس نے گلیوں میں کبھی کبھار اُٹھی ناخوش گوار آوازوں کو بھی اب ہمیشہ کے لئے خاموش کروادیا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پاکستان میں معاشی رونق لگانے کو یکجا ہوگئے ہیں۔عمران خان صاحب کی کرشماتی شخصیت کے اسیر ہوئے اب سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھنے کے بجائے دُنیا بھر کے غریبوں کا مقدر سنوارنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔

ایسی خوش گمانیوں پر غور کرتے ہوئے پھکڑپن کی جانب کوئی پتھر دل ہی راغب ہوسکتا ہے۔تلخ حقیقت اگر ہے تو صرف اتنی کہ کرونا کا مؤثر علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے۔اس کی مدافعت والی ویکسین تیار کرنے کے لئے کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہے۔ مؤثر علاج اور ویکسین کی تیاری تک بین لاقوامی اداروں کا اجتماع بالآخر Herd Immunityاپنانے پر ہوا ہے۔

سادہ ترین الفاظ میں عالمی اشرافیہ نے اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بتدریج لاک ڈائون میں نرمی لاتے ہوئے کاروبار بحال کردئیے جائیں۔ وباء کا موسم جاری رہا تو لاک ڈائون میں نرمی لانے کی وجہ سے مزید اموات یقینا ہوں گی۔کرونا کے ممکنہ شکار مگر گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران اس کی زد میں آکر اس جہاں سے رخصت ہوچکے ہیں۔ اموات اب نسبتاََ کم ہوں گی۔آفت کا نقطۂ عروج یعنی Peakگزرگیا۔ایک Peakبھگتالینے کے بعد اگر ایک اور Peakبھی آگئی تو پریشان کیوں ہوں۔موت بہرحال برحق ہے۔ دُنیا میں آئے ہوتو یہاں سے جانا بھی ہے۔ وباء کی ایک اور Peakکی زد میں آکر مزید انسان ہلاک ہوگئے تو سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں۔ زندگی رواں رکھنا بھی تو ضروری ہے۔

ذراٹھنڈے دل سے دُنیا بھر کی حکمران اشرافیہ کے ذہنوں پر حاوی نئی منطق پر غور کریں تو انسانی آبادیوں پر جنگل کا قانون نافذ کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ جو بچ گیا وہ خوش نصیب والی سوچ درحقیقت ڈارون کی دریافت کردہ Survival Of The Fittest کی بازگشت ہے۔

ازمنۂ وسطیٰ میں جب یورپ میں طاعون پھیلا تو اس سے محفوظ رہ جانے والوں کو وہاں کے پادریوں نے ’’خدا کے چہیتے‘‘ ٹھہرایا تھا۔ ان ’’چہیتوں‘‘ میں ایک خاص طرز کی رعونت رونما ہوئی۔ اسی رعونت کے بل بوتے پر جاگیرداروں کی زمینوں پر کام کرنے کے لئے وسطی ایشیاء اور افریقہ سے انسانوں کو جانوروں کی طرح خرید کر یورپ لانے کاسلسلہ شروع ہوا۔ایسے ہی غلاموں کو نودریافت شدہ امریکہ کے کئی ممالک میں زبردستی آباد کرنے کا بندوبست بھی ہوا۔

دورِ حاضر کے وائرس کی بدولت عالمی مالیاتی نظام پر قابض اجارہ داروں کے تسلط کوبرقرار رکھنے کے لئے خوش حال ملکوں کے مالدار بینک Stimulusکے نام پر بھاری بھر کم رقوم فراہم کرنے کی ترکیبیں ایجاد کررہے ہیں۔ملازمین کو فقط زندہ رکھنے کے لئے فی الوقت ’’وظائف‘‘ دئیے جارہے ہیں۔یہ بات بھی مگر تواتر سے دہرائی جارہی ہے کہ انسانوں یعنی غریبوں کو ’’مفت خور‘‘ بھی تو نہیں بنایا جاسکتا۔زندہ رہنے کے لئے انسانوں کو رزق ’’کمانا ‘‘ ہوگا۔ رزق کمانے کی لگن میں وباء کے شکار ہوجانے کا امکان برقرار رہے گا۔ حادثے بھی لیکن ہوا کرتے ہیں۔اپنی گاڑی سڑک پر لانا آپ یہ سوچتے ہوئے چھوڑ تو نہیں سکتے کہ ہر برس دُنیا بھر میں ٹریفک حادثات میں ہزاروں لوگ مرجاتے ہیں۔

پاکستان خوش بخت ہے کیونکہ کرونا نے یہاں ویسی قیامت نہیں ڈھائی جویورپ اور امریکہ میں ان دنوں نظر آرہی ہے۔پاکستان مگر اس ضمن میں واحد خوش نصیب ملک نہیں ہے۔جنوبی ایشیاء کا وسیع تر خطہ جس میں بھارت جیسے کثیر آبادی والے ملک بھی شامل ہیں نظر بظاہر اس وباء کے تباہ کن اثرات سے ابھی تک محفوظ رہا ہے۔

اس تحفظ نے صحت عامہ کے عالمی ماہرین کو یہ سراغ لگانے پر مجبور کیا کہ جنوبی ایشیاء کے باسیوں کے تگڑے مدافعتی نظام کا اصل سبب کیا ہے۔ٹی بی اور ملیریا جیسے امراض کے خلاف لگائے ٹیکے اس ضمن میں خصوصی توجہ حاصل کررہے ہیں۔ربّ کریم سے فقط فریاد ہی کی جاسکتی ہے کہ اپنی ترکیب میں خاص نظر آتا جنوبی ایشیاء کے باسیوں میں فطری طورپر موجود نظام بدستور تگڑا رہے۔ Herd Immunityکی منطق کو اگرچہ ہمارے حکمران ہی نہیں عوام کی بے پناہ اکثریت بھی اپنا چکے ہیں۔

نصرت جاوید

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے