حکومت کی کوشش تھی کہ نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے یا سست کرنے کی خاطر رمضان کے مقدس مہینے میں پاکستانی گھروں میں ہی رہیں اور نمازوں، سحری، افطاری اور تراویج جیسے اہم مذہبی امور گھر میں ہی ادا کریں لیکن ایک مرتبہ پھر تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کا مذہبی حلقہ ’جیت گیا‘ ہے۔ آخر کار پاکستانی حکومت نے مسجدوں میں ماہ رمضان کے دوران تراویح اور عبادات کی مشروط اجازت دے دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستانی مذہبی رہنما اس بات پر زور کیوں دے رہے ہیں؟ کیا یہ ایک صرف مذہبی معاملہ ہے یا اس کے پیچھے سیاسی، نفسیاتی اور اقتصادی محرکات بھی پنہاں ہیں؟

سعودی عرب کی سینیئر اسکالرز کی کونسل نے البتہ کہا ہے کہ اگر کووڈ انیس کے پھیلنے کے خدشات ہیں تو نہ صرف سعودی مسلمان بلکہ تمام مسلم ممالک کے دین دار مسجدوں کا رخ نہ کریں بلکہ تمام تر مذہبی فرائض گھروں میں ہی ادا کریں۔

سعودی عرب کی اعلیٰ ترین مذہبی کونسل نے کہا کہ لوگوں کی جانیں بچانا ایک عظیم عمل ہے اور یہ عمل مسلمان کو اللہ کے قریب تر کرتا ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر  شائع کردہ تصاویر میں ہم نے دیکھا کہ اسلام آباد کی لال مسجد میں نمازیوں کی ایک بڑی تعداد نے پاؤں سے پاؤں جوڑ کر نماز جمعہ ادا کی۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشرتی حالات کے تناظر میں بے شک لوگوں کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مذہبی فرائض گھروں میں ہی ادا کریں کیونکہ اب یہ معاملہ صرف چند مذہبی رہنماؤں کا ہی نہیں بلکہ اکثریت کا قطعی یقین ہے کہ اللہ کے سامنے مسجدوں میں جا کر حاضری دینا ضروری ہے اور موت تو برحق ہے۔ لیکن حقیقیت یہ ہے کہ اسلام کے مطابق اللہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے جبکہ موت برحق تو ہے لیکن خودکشی حرام ہے۔

کیا پاکستانی مسلمان سعودی عرب، ایران یا پھر دیگر مسلم ممالک کے مقابلے میں زیادہ متقی و پرہیزگار اور بہتر مسلمان ہیں؟ اور کیا صرف مساجد کا رخ کرنے سے ہی یہ ثابت کیا جا سکتا ہے؟

کہانی پرانی ہے اور کڑوی بھی ہے۔ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں اسلامائزیشن، سوویت جنگ میں مجاہدین اور پھر افغان جنگ میں طالبان کی تیاری یا کشمیر کے محاذ پر ’حریت پسندوں‘ کی تربیت۔ اس سب کی بھی ایک معیشت رہی ہے۔ لیکن اس کا فائدہ عام مسلمان کو ہرگز نہیں بلکہ صرف چند گروہوں کو ہی حاصل ہوا یا ہو رہا ہے۔

عسکری اسٹیبشلمنٹ کی طرف گزشتہ کئی دہائیوں سے اسلامی تعلیمات کا غلط استعمال کیا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ اس بارے میں شاید سوچتے تو ہیں لیکن لب کشائی کی ہمت نہیں کرتے۔ دیگر مذاہب کی طرح اسلام بھی اعتدال کا درس دیتا ہے ناکہ انتہا پسندی کا۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی اقتصادیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر نیا کورونا وائرس پاکستان میں بھی ویسے ہی سرایت کر گیا، جیسے اس نے امریکا یا یورپی ممالک میں کیا ہے تو ہر پاکستانی شہری کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اٹھارہ ملین ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ابھی سے پیدا ہو چکا ہے۔

اس عالمی وبا نے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جہاں کئی امور میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، وہیں اسلام کی درست تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اچھے، نیک اور متقی مسلمان ہونے کے لیے صرف مسجد جانا ہی ضروری نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر دوسرے مسلمانوں کی زندگیوں کا خیال رکھنا اہم ہے۔

تحریر: عاطف بلوچ

DW.COM

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے